<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر منقولہ جائیدادوں پر ٹیکس کی وصولی ، ٹیکس بار ایسوسی ایشن کا امتیازی نفاذ ختم کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281523/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین سے رابطہ کیا گیا ہے ،تاکہ سندھ اور پنجاب کے لاکھوں ٹیکس دہندگان کے خلاف جاری اس انفورسمنٹ کو ختم کیا جا سکے جسے ”امتیازی“ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن سیون ای کے تحت غیر منقولہ جائیدادوں پر متنازع ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے اس سلسلے میں ٹیکس حکام کے سامنے ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی ہے، جبکہ ملک کے ریئل اسٹیٹ ماہر محمد احسن ملک بھی یہ معاملہ طویل عرصے سے اٹھا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی بی اے کا کہنا ہے کہ انہیں پنجاب اور سندھ کے ضلعی ٹیکس بارز سے بڑی تعداد میں شکایات ملی ہیں کہ وہاں فیلڈ فارمیشنز کی جانب سے سیکشن 7 ای  کے نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی، جس سے اس قانون کے نفاذ میں عدم تسلسل اور سنگین تحفظات پیدا ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیکشن کا پس منظر یہ ہے کہ اسے فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا، جس کے تحت پاکستان میں موجود  سرمایہ کاری کے اثاثوں کی فیئر مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد پر  فرضی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جو کہ عملی طور پر جائیداد کی مالیت کا ایک فیصد بنتا ہے۔ اس قانون کو ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا کہ یہ وفاق کے آئینی دائرہ اختیار سے باہر ہے، جس پر سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اسے آئینی قرار دیا، جبکہ اسلام آباد، پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹس نے اسے غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ان تمام فیصلوں کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھیں جو اب 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کو منتقل ہو چکی ہیں۔ چونکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد کی ہائی کورٹس کے فیصلے تاحال برقرار ہیں اور سپریم کورٹ نے انہیں معطل نہیں کیا، اس لیے ان علاقوں میں ٹیکس وصولی نہیں ہو رہی، جبکہ پنجاب اور سندھ میں ٹیکس دہندگان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جسے ٹیکس بار نے امتیازی سلوک قرار دے کر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین سے رابطہ کیا گیا ہے ،تاکہ سندھ اور پنجاب کے لاکھوں ٹیکس دہندگان کے خلاف جاری اس انفورسمنٹ کو ختم کیا جا سکے جسے ”امتیازی“ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن سیون ای کے تحت غیر منقولہ جائیدادوں پر متنازع ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے اس سلسلے میں ٹیکس حکام کے سامنے ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی ہے، جبکہ ملک کے ریئل اسٹیٹ ماہر محمد احسن ملک بھی یہ معاملہ طویل عرصے سے اٹھا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>پی ٹی بی اے کا کہنا ہے کہ انہیں پنجاب اور سندھ کے ضلعی ٹیکس بارز سے بڑی تعداد میں شکایات ملی ہیں کہ وہاں فیلڈ فارمیشنز کی جانب سے سیکشن 7 ای  کے نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی، جس سے اس قانون کے نفاذ میں عدم تسلسل اور سنگین تحفظات پیدا ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اس سیکشن کا پس منظر یہ ہے کہ اسے فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا، جس کے تحت پاکستان میں موجود  سرمایہ کاری کے اثاثوں کی فیئر مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد پر  فرضی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جو کہ عملی طور پر جائیداد کی مالیت کا ایک فیصد بنتا ہے۔ اس قانون کو ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا کہ یہ وفاق کے آئینی دائرہ اختیار سے باہر ہے، جس پر سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اسے آئینی قرار دیا، جبکہ اسلام آباد، پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹس نے اسے غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا۔</p>
<p>موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ان تمام فیصلوں کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھیں جو اب 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کو منتقل ہو چکی ہیں۔ چونکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد کی ہائی کورٹس کے فیصلے تاحال برقرار ہیں اور سپریم کورٹ نے انہیں معطل نہیں کیا، اس لیے ان علاقوں میں ٹیکس وصولی نہیں ہو رہی، جبکہ پنجاب اور سندھ میں ٹیکس دہندگان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جسے ٹیکس بار نے امتیازی سلوک قرار دے کر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281523</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 13:17:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/121243500f172ca.webp" type="image/webp" medium="image" height="521" width="870">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/121243500f172ca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
