<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر انعامی اسکیمز میں غیرقانونی تقسیم کے الزامات، لاہور ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281514/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی بورڈ آف ریونیو کے تحت انعامی اسکیموں (آئی ٹی بیسڈ ریوارڈ اینڈ ریٹنگ سسٹم) کے تحت اربوں روپے کی غیر قانونی تقسیم کے الزامات پر اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ان سے اپنے مؤقف پیش کرنے کا کہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری، چیئرمین ایف بی آر، ایف بی آر پالیسی بورڈ کے اراکین، وفاقی وزرا، پارلیمانی فنانس کمیٹی کے سربراہان، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ڈی جی ایف آئی اے کو اپنے جوابات جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے وکیل وحید شہزاد بٹ کی جانب سے انٹرنیشنل آئینی وکیل محمد اظہر صدیق کے ذریعے دائر کی گئی درخواست آئین کے آرٹیکل 199 پر مبنی ہے اور آئی آر-ریوارڈ رولز 2021 اور کسٹمز ریوارڈ رولز 2012 کی قانونی حیثیت، شفافیت اور آئینی جواز کو چیلنج کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں الزام لگایا گیا کہ آئی آر ایس اور پاکستان کسٹمز کے سینئر افسران (بی ایس 17 اور اس سے اوپر) کو ڈبل تنخواہوں کے علاوہ غیر قانونی انعامات دیے گئے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ فورسڈ پیئر رینکنگ سسٹم کے تحت افسران کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا، جس کے تحت چھ ماہ کے لیے متعدد اضافی تنخواہوں کے برابر انعامات دیے گئے، جس سے سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کی شکایت سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ ایف بی آر بورڈ ان کونسل کے قیام اور فیصلے ایف بی آر ایکٹ 2007 کے خلاف ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے پی ایل ڈی 2016 ایس سی 808 کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ درخواست میں پالیسی بورڈ، پارلیمانی فنانس کمیٹیاں اور اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں کی نگرانی میں ناکام قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں غیر قانونی انعامات کی واپسی، آڈیٹر جنرل کے ذریعے خصوصی آڈٹ اور ذمہ داران کے خلاف سول و فوجداری کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل محمد اظہر صدیق نے کہا کہ یہ مقدمہ عوامی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایگزیکٹو اختیارات، انعامی پالیسیوں اور اعلیٰ ریونیو اہلکاروں کی جوابدہی کی حدود کا امتحان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی بورڈ آف ریونیو کے تحت انعامی اسکیموں (آئی ٹی بیسڈ ریوارڈ اینڈ ریٹنگ سسٹم) کے تحت اربوں روپے کی غیر قانونی تقسیم کے الزامات پر اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ان سے اپنے مؤقف پیش کرنے کا کہا ہے۔</strong></p>
<p>ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری، چیئرمین ایف بی آر، ایف بی آر پالیسی بورڈ کے اراکین، وفاقی وزرا، پارلیمانی فنانس کمیٹی کے سربراہان، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ڈی جی ایف آئی اے کو اپنے جوابات جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے وکیل وحید شہزاد بٹ کی جانب سے انٹرنیشنل آئینی وکیل محمد اظہر صدیق کے ذریعے دائر کی گئی درخواست آئین کے آرٹیکل 199 پر مبنی ہے اور آئی آر-ریوارڈ رولز 2021 اور کسٹمز ریوارڈ رولز 2012 کی قانونی حیثیت، شفافیت اور آئینی جواز کو چیلنج کرتی ہے۔</p>
<p>درخواست میں الزام لگایا گیا کہ آئی آر ایس اور پاکستان کسٹمز کے سینئر افسران (بی ایس 17 اور اس سے اوپر) کو ڈبل تنخواہوں کے علاوہ غیر قانونی انعامات دیے گئے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ فورسڈ پیئر رینکنگ سسٹم کے تحت افسران کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا، جس کے تحت چھ ماہ کے لیے متعدد اضافی تنخواہوں کے برابر انعامات دیے گئے، جس سے سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کی شکایت سامنے آئی۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ ایف بی آر بورڈ ان کونسل کے قیام اور فیصلے ایف بی آر ایکٹ 2007 کے خلاف ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے پی ایل ڈی 2016 ایس سی 808 کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ درخواست میں پالیسی بورڈ، پارلیمانی فنانس کمیٹیاں اور اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں کی نگرانی میں ناکام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>درخواست میں غیر قانونی انعامات کی واپسی، آڈیٹر جنرل کے ذریعے خصوصی آڈٹ اور ذمہ داران کے خلاف سول و فوجداری کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔</p>
<p>وکیل محمد اظہر صدیق نے کہا کہ یہ مقدمہ عوامی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایگزیکٹو اختیارات، انعامی پالیسیوں اور اعلیٰ ریونیو اہلکاروں کی جوابدہی کی حدود کا امتحان ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281514</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 10:09:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/121005529cc6744.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/121005529cc6744.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
