<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 05:31:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 05:31:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیپرا نے پبلک اثاثہ جات کی فروخت کے ضابطوں کا مسودہ تیار کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281509/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی(پیپرا) نے پبلک اثاثہ جات کی فروخت سے متعلق ضابطوں کا ایک جامع مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد سرکاری اثاثوں کی فروخت میں شفافیت، مسابقت اور جوابدہی کو مضبوط بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ  مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ پانچ ملین روپے سے زائد قیمت کے اثاثوں کی فروخت کا اشتہار لازمی طور پر الیکٹرانک پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم پر شائع کیا جائے۔ ضابطوں کے تحت تمام سرکاری اداروں کو ہر مالی سال کے آغاز پر ایک سالانہ ڈسپوزل پلان تیار کرنا ہوگا جس میں ان اثاثوں کی نشاندہی کی جائے گی جو فروخت کے لیے منتخب ہوں گے۔ یہ منصوبہ ای پی اے ڈی ایس، پیپرا کی ویب سائٹ اور متعلقہ ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق سال کے دوران اپ ڈیٹ بھی کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز کے مطابق اثاثوں کی فروخت سے متعلق ہر موقع، قیمت کی پروا کیے بغیر، ای پی اے ڈی ایس پر شائع کیا جائے گا۔ پانچ ملین روپے تک مالیت والے اثاثوں کے اشتہار پیپرا اور متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ پر بھی جاری ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسودہ یہ بھی لازم قرار دیتا ہے کہ ہر ادارے میں ایک پروکیورمنٹ سیل قائم ہو جہاں اہل اور پیپرا سے تربیت یافتہ اہلکار تعینات کیے جائیں۔ یہ سیل اثاثوں کی حالت اور مقام کی تصدیق، مارکیٹ تجزیہ کے ذریعے ریزرو قیمت کا تعین، دستاویزات کی تیاری اور شائع کرنا، بولی دہندگان سے رابطہ اور ریکارڈ کی نگرانی جیسے امور سنبھالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولیاں کھولنے اور جانچنے کے لیے ایک ڈسپوزل کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں طاق تعداد میں افراد ہونگے۔ بڑے لین دین کے لیے تیسری پارٹی سے جانچ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو پانچ سو ملین روپے سے زائد مالیت کی فروخت کے لیے لازمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ضابطے بولی دہندگان کی اہلیت، نااہلی اور بلیک لسٹنگ کا فریم ورک وضع کرتے ہیں، جس کے تحت چھ ماہ سے دس سال تک کی پابندیاں لگائی جا سکیں گی۔ اثاثوں کی فروخت کا عمل ای پی اے ڈی ایس کے ذریعے الیکٹرانک طور پر ہوگا اور بولی جمع کرانے کی رسید خودکار طور پر جاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضابطے ای نیلامی، ای بڈنگ اور براہ راست سرکاری معاہدوں سمیت کئی طریقہ کار کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ شکایات اور تنازعات کے حل کے لیے ایک مفصل نظام بھی شامل ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے سرکاری اثاثوں کی فروخت کے نظام میں زیادہ نگرانی، دستاویزی شفافیت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی(پیپرا) نے پبلک اثاثہ جات کی فروخت سے متعلق ضابطوں کا ایک جامع مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد سرکاری اثاثوں کی فروخت میں شفافیت، مسابقت اور جوابدہی کو مضبوط بنانا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ  مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ پانچ ملین روپے سے زائد قیمت کے اثاثوں کی فروخت کا اشتہار لازمی طور پر الیکٹرانک پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم پر شائع کیا جائے۔ ضابطوں کے تحت تمام سرکاری اداروں کو ہر مالی سال کے آغاز پر ایک سالانہ ڈسپوزل پلان تیار کرنا ہوگا جس میں ان اثاثوں کی نشاندہی کی جائے گی جو فروخت کے لیے منتخب ہوں گے۔ یہ منصوبہ ای پی اے ڈی ایس، پیپرا کی ویب سائٹ اور متعلقہ ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق سال کے دوران اپ ڈیٹ بھی کیا جا سکے گا۔</p>
<p>تجویز کے مطابق اثاثوں کی فروخت سے متعلق ہر موقع، قیمت کی پروا کیے بغیر، ای پی اے ڈی ایس پر شائع کیا جائے گا۔ پانچ ملین روپے تک مالیت والے اثاثوں کے اشتہار پیپرا اور متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ پر بھی جاری ہوں گے۔</p>
<p>مسودہ یہ بھی لازم قرار دیتا ہے کہ ہر ادارے میں ایک پروکیورمنٹ سیل قائم ہو جہاں اہل اور پیپرا سے تربیت یافتہ اہلکار تعینات کیے جائیں۔ یہ سیل اثاثوں کی حالت اور مقام کی تصدیق، مارکیٹ تجزیہ کے ذریعے ریزرو قیمت کا تعین، دستاویزات کی تیاری اور شائع کرنا، بولی دہندگان سے رابطہ اور ریکارڈ کی نگرانی جیسے امور سنبھالے گا۔</p>
<p>بولیاں کھولنے اور جانچنے کے لیے ایک ڈسپوزل کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں طاق تعداد میں افراد ہونگے۔ بڑے لین دین کے لیے تیسری پارٹی سے جانچ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو پانچ سو ملین روپے سے زائد مالیت کی فروخت کے لیے لازمی ہوگا۔</p>
<p>مزید برآں، ضابطے بولی دہندگان کی اہلیت، نااہلی اور بلیک لسٹنگ کا فریم ورک وضع کرتے ہیں، جس کے تحت چھ ماہ سے دس سال تک کی پابندیاں لگائی جا سکیں گی۔ اثاثوں کی فروخت کا عمل ای پی اے ڈی ایس کے ذریعے الیکٹرانک طور پر ہوگا اور بولی جمع کرانے کی رسید خودکار طور پر جاری کی جائے گی۔</p>
<p>ضابطے ای نیلامی، ای بڈنگ اور براہ راست سرکاری معاہدوں سمیت کئی طریقہ کار کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ شکایات اور تنازعات کے حل کے لیے ایک مفصل نظام بھی شامل ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے سرکاری اثاثوں کی فروخت کے نظام میں زیادہ نگرانی، دستاویزی شفافیت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281509</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 09:03:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/12090210e48a182.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/12090210e48a182.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
