<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:02:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 10:02:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی ، پولیس کا لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سلسلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281506/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کی کال پر اتوار کو کراچی کے باغِ جناح گراؤنڈ میں کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں درجنوں حامیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصادم اس وقت شروع ہوا جب پی ٹی آئی کارکنوں نے باغِ جناح میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ نمائش چورنگی کے قریب مشتعل مظاہرین کی جانب سے پولیس موبائل پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے سولجر بازار سے آنے والے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور گرفتاریاں شروع کر دیں۔ پولیس کے لاٹھی چارج کے باوجود کارکنوں کی بڑی تعداد گراؤنڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور کئی اہم شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ایک بڑے قافلے کے ہمراہ جلسہ گاہ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی جب ایک روز قبل ہی سندھ حکومت نے سخت شرائط کے ساتھ جلسے کا این او سی  جاری کیا تھا۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا تھا کہ امن و امان کی تمام تر ذمہ داری منتظمین پر ہوگی اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز یا اداروں کے خلاف تقریر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مظاہرین کا آج نیوز کی وین پر حملہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنگامہ آرائی کے دوران نمائش چورنگی پر مشتعل افراد نے  آج نیوز  کی ڈی ایس این جی  وین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں خاتون رپورٹر اور کیمرہ مین زخمی ہو گئے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ شرجیل میمن اور دیگر سیاسی رہنماؤں سمیت کراچی پریس کلب نے بھی صحافیوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ پی ٹی آئی سندھ کے ترجمان محمد علی بلوچ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کارکن پرامن ہیں اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کی کال پر اتوار کو کراچی کے باغِ جناح گراؤنڈ میں کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں درجنوں حامیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔</strong></p>
<p>تصادم اس وقت شروع ہوا جب پی ٹی آئی کارکنوں نے باغِ جناح میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ نمائش چورنگی کے قریب مشتعل مظاہرین کی جانب سے پولیس موبائل پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے سولجر بازار سے آنے والے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور گرفتاریاں شروع کر دیں۔ پولیس کے لاٹھی چارج کے باوجود کارکنوں کی بڑی تعداد گراؤنڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔</p>
<p>مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور کئی اہم شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ایک بڑے قافلے کے ہمراہ جلسہ گاہ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی جب ایک روز قبل ہی سندھ حکومت نے سخت شرائط کے ساتھ جلسے کا این او سی  جاری کیا تھا۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا تھا کہ امن و امان کی تمام تر ذمہ داری منتظمین پر ہوگی اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز یا اداروں کے خلاف تقریر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p><strong>مظاہرین کا آج نیوز کی وین پر حملہ</strong></p>
<p>ہنگامہ آرائی کے دوران نمائش چورنگی پر مشتعل افراد نے  آج نیوز  کی ڈی ایس این جی  وین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں خاتون رپورٹر اور کیمرہ مین زخمی ہو گئے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ شرجیل میمن اور دیگر سیاسی رہنماؤں سمیت کراچی پریس کلب نے بھی صحافیوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ پی ٹی آئی سندھ کے ترجمان محمد علی بلوچ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کارکن پرامن ہیں اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281506</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 20:02:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/11190758530445c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/11190758530445c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
