<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:41:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:41:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرعی مصنوعات : صدر ایف سی سی آئی نے ویلیو ایڈیشن کی اہمیت و ضرورت واضح کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281492/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف سی سی آئی) کے صدر فاروق یوسف شیخ نے ترقی پسند کاشتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل آباد کی زرعی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ہماری مجموعی معیشت کا 24 فیصد ہے، جو نہ صرف ٹیکسٹائل اور شوگر انڈسٹری کو خام مال فراہم کرتی ہے بلکہ 42 فیصد افرادی قوت کو روزگار بھی مہیا کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آلو کی بمپر فصل کا ذکر کرتے ہوئے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پیداوار کو کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کے بجائے ’ویلیو ایڈیشن‘ اور غیر روایتی حکمت عملی اپنائیں۔ فاروق یوسف شیخ نے تجویز دی کہ کسان آلو سے آٹا  بنانے کے چھوٹے یونٹس لگا سکتے ہیں، جس سے نہ صرف اس کی زندگی  بڑھ جائے گی بلکہ اسے مناسب وقت پر مہنگے داموں فروخت بھی کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے بلا سود قرضوں کی مدد سے چھوٹے کسان اپنی پیداوار کو محفوظ بنا کر 24 کروڑ کی مقامی مارکیٹ اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے دیہی غربت کا خاتمہ اور قیمتی زرمبادلہ کا حصول ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف سی سی آئی) کے صدر فاروق یوسف شیخ نے ترقی پسند کاشتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل آباد کی زرعی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ہماری مجموعی معیشت کا 24 فیصد ہے، جو نہ صرف ٹیکسٹائل اور شوگر انڈسٹری کو خام مال فراہم کرتی ہے بلکہ 42 فیصد افرادی قوت کو روزگار بھی مہیا کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے آلو کی بمپر فصل کا ذکر کرتے ہوئے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پیداوار کو کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کے بجائے ’ویلیو ایڈیشن‘ اور غیر روایتی حکمت عملی اپنائیں۔ فاروق یوسف شیخ نے تجویز دی کہ کسان آلو سے آٹا  بنانے کے چھوٹے یونٹس لگا سکتے ہیں، جس سے نہ صرف اس کی زندگی  بڑھ جائے گی بلکہ اسے مناسب وقت پر مہنگے داموں فروخت بھی کیا جا سکے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے بلا سود قرضوں کی مدد سے چھوٹے کسان اپنی پیداوار کو محفوظ بنا کر 24 کروڑ کی مقامی مارکیٹ اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے دیہی غربت کا خاتمہ اور قیمتی زرمبادلہ کا حصول ممکن ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281492</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 13:19:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1113151930ab227.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1113151930ab227.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
