<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپر ٹیکس مقررہ شرح سے بڑھا تو بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کرسکتے ہیں،پی پی ای پی سی اے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281486/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیز ایسوسی ایشن (پی پی ای پی سی اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اپنے اراکین کے قانونی طور پر محفوظ شدہ پیٹرولیم کنسیشن معاہدوں (پی سی ایز) میں مقرر کردہ شرح سے زیادہ سپر ٹیکس عائد کرنے پر بضد رہی، تو وہ بین الاقوامی سطح پر قانونی چارہ جوئی کی راہ  اختیار کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ای پی سی اے کے سیکرٹری جنرل ابرار خان نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے سیکرٹری جمیل احمد قریشی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ حالانکہ ایس آئی ایف سی پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے فروغ کی کوششیں کر رہا ہے، خصوصاً تیل و گیس کے شعبے میں، تاہم اپ اسٹریم ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیوں کو سپر ٹیکس کے نفاذ کے باعث شدید خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس نہ صرف اراکین کی مالی حیثیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ ملک کی طویل المدتی غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسی کو بھی کمزور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابرار خان نے مزید بتایا کہ ای اینڈ پی کمپنیوں نے یہ ٹیکس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(رٹ پٹیشن نمبر. 4027 آف 2022)، جس میں عدالت نے کہا کہ سپر ٹیکس صرف اسی حد تک عائد کیا جا سکتا ہے جو پی سی ایز میں مقرر شدہ حد سے تجاوز نہ کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سیکشن فور سی ان کمپنیوں پر اس حد سے زائد ٹیکس عائد نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے 1948 کے ریگولیشن آف مائنز اینڈ آئل فیلڈز ایکٹ کے تحت کمپنیوں کو فراہم شدہ قانونی ٹیکس کی ضمانت کو بھی مدنظر رکھا، اور کہا کہ پی سی اے پر دستخط کے وقت نافذ ٹیکس قواعد میں بعد میں تبدیلی کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ای پی سی اے نے کہا کہ اگر وفاق سپر ٹیکس کو پی سی اے حدود سے تجاوز کر کے نافذ کرنے پر اصرار کرے، تو بعض ممبر کمپنیاں بین الاقوامی ثالثی کی شقیں فعال کر سکتی ہیں، جس سے اربوں ڈالر کے ممکنہ واجبات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے پاکستان کی مالی کمزوری، کریڈٹ ریٹنگ پر اثر، مستقبل کی ایف ڈی آئی میں کمی، اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں اعتماد متاثر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابرار خان نے زور دیا کہ سرمایہ کار صرف پی سی اے کے تحت مالی استحکام کی ضمانت کی وجہ سے بڑے، طویل المدتی اور خطرناک منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور اس استحکام کو بعد ازاں ختم کرنا غیر منصفانہ اور معاشی طور پر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ایس آئی ایف سی سے کہا کہ وہ حکومت کی قانونی اور معاہداتی ذمہ داریوں کی پابندی یقینی بنانے میں مداخلت کرے تاکہ بین الاقوامی ثالثی کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیز ایسوسی ایشن (پی پی ای پی سی اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اپنے اراکین کے قانونی طور پر محفوظ شدہ پیٹرولیم کنسیشن معاہدوں (پی سی ایز) میں مقرر کردہ شرح سے زیادہ سپر ٹیکس عائد کرنے پر بضد رہی، تو وہ بین الاقوامی سطح پر قانونی چارہ جوئی کی راہ  اختیار کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>پی پی ای پی سی اے کے سیکرٹری جنرل ابرار خان نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے سیکرٹری جمیل احمد قریشی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ حالانکہ ایس آئی ایف سی پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے فروغ کی کوششیں کر رہا ہے، خصوصاً تیل و گیس کے شعبے میں، تاہم اپ اسٹریم ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیوں کو سپر ٹیکس کے نفاذ کے باعث شدید خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس نہ صرف اراکین کی مالی حیثیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ ملک کی طویل المدتی غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسی کو بھی کمزور کرتا ہے۔</p>
<p>ابرار خان نے مزید بتایا کہ ای اینڈ پی کمپنیوں نے یہ ٹیکس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا</p>
<p>(رٹ پٹیشن نمبر. 4027 آف 2022)، جس میں عدالت نے کہا کہ سپر ٹیکس صرف اسی حد تک عائد کیا جا سکتا ہے جو پی سی ایز میں مقرر شدہ حد سے تجاوز نہ کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سیکشن فور سی ان کمپنیوں پر اس حد سے زائد ٹیکس عائد نہیں کرے گا۔</p>
<p>عدالت نے 1948 کے ریگولیشن آف مائنز اینڈ آئل فیلڈز ایکٹ کے تحت کمپنیوں کو فراہم شدہ قانونی ٹیکس کی ضمانت کو بھی مدنظر رکھا، اور کہا کہ پی سی اے پر دستخط کے وقت نافذ ٹیکس قواعد میں بعد میں تبدیلی کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔</p>
<p>پی پی ای پی سی اے نے کہا کہ اگر وفاق سپر ٹیکس کو پی سی اے حدود سے تجاوز کر کے نافذ کرنے پر اصرار کرے، تو بعض ممبر کمپنیاں بین الاقوامی ثالثی کی شقیں فعال کر سکتی ہیں، جس سے اربوں ڈالر کے ممکنہ واجبات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے پاکستان کی مالی کمزوری، کریڈٹ ریٹنگ پر اثر، مستقبل کی ایف ڈی آئی میں کمی، اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں اعتماد متاثر ہوگا۔</p>
<p>ابرار خان نے زور دیا کہ سرمایہ کار صرف پی سی اے کے تحت مالی استحکام کی ضمانت کی وجہ سے بڑے، طویل المدتی اور خطرناک منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور اس استحکام کو بعد ازاں ختم کرنا غیر منصفانہ اور معاشی طور پر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ایس آئی ایف سی سے کہا کہ وہ حکومت کی قانونی اور معاہداتی ذمہ داریوں کی پابندی یقینی بنانے میں مداخلت کرے تاکہ بین الاقوامی ثالثی کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281486</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 12:14:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/11120813f4f6074.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/11120813f4f6074.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
