<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:12:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:12:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس دہندہ کو غیر مادی اثاثے پر یکمشت مکمل کٹوتی کا حق نہیں،لاہور ہائی کورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281484/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ٹیکس دہندہ کو کسی غیر مادی اثاثے پر مکمل کٹوتی ایک ہی ٹیکس سال میں دعویٰ کرنے کا حق نہیں ہوتا، اگر اس اثاثے کا فائدہ ایک سے زائد سالوں تک جاری رہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس آرڈیننس، 2001 ٹیکس دہندگان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ غیر مادی اثاثوں پر کٹوتیاں کرکے سالانہ قابل ٹیکس آمدنی کو مصنوعی طور پر کم کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ آرڈیننس کی دفعہ 122(5A) کمشنر ان لینڈ ریونیو (سی آئی آر) کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی غلط یا محصولات کے مفاد کے خلاف ہونے والے اندازے کو درست کر سکے، لیکن یہ واضح ہے کہ اس میں ٹیکس دہندہ کو سننے کا موقع فراہم کرنا لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید کہا کہ دفعہ 24 کا مقصد یہ ہے کہ ایسے اخراجات جو کئی سالوں میں فائدہ پہنچاتے ہیں، جیسے کہ گڈ ویل،برانڈ پروموشن، ٹریڈ مارک یاانٹلکچول پراپرٹی رائٹ کے اخراجات، فوراً سالانہ خرچ کے طور پر دکھائے نہ جائیں بلکہ منظم طریقے سے کٹوتی کیے جائیں۔ یہ قواعد طویل مدتی اقتصادی فوائد کے اخراجات کو مناسب اور شفاف طریقے سے تسلیم کرنے کے لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کی دلیل کہ اشتہاری اخراجات کا فائدہ صرف متعلقہ ٹیکس سال تک محدود ہے، قانونی یا حقیقی بنیادوں پر درست نہیں ہے۔ ٹیکس ریٹرن میں فراہم کردہ معلومات کی جانچ پڑتال سے ٹیکس حکام کے جائزے پر کوئی پابندی نہیں بنتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ سی آئی آر نے قانونی طور پر 122(5A) کا اطلاق درست طریقے سے کیا اور سننے کا موقع فراہم کیا گیا، اس لیے کسی غیر قانونی اقدام کا شائبہ نہیں ہے۔ سی آئی آر اور اپیل ٹریبونل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ فوری کٹوتی مسترد کر کے اخراجات کو دفعہ 24(3) کے تحت کٹوتی کرنے کا حکم دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے نو بہار بوتلنگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے ٹریبونل کے فیصلے کی توثیق کی اور حکم دیا کہ فیصلہ اپیل ٹریبونل کو بھی ارسال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ٹیکس دہندہ کو کسی غیر مادی اثاثے پر مکمل کٹوتی ایک ہی ٹیکس سال میں دعویٰ کرنے کا حق نہیں ہوتا، اگر اس اثاثے کا فائدہ ایک سے زائد سالوں تک جاری رہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس آرڈیننس، 2001 ٹیکس دہندگان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ غیر مادی اثاثوں پر کٹوتیاں کرکے سالانہ قابل ٹیکس آمدنی کو مصنوعی طور پر کم کریں۔</strong></p>
<p>عدالت نے کہا کہ آرڈیننس کی دفعہ 122(5A) کمشنر ان لینڈ ریونیو (سی آئی آر) کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی غلط یا محصولات کے مفاد کے خلاف ہونے والے اندازے کو درست کر سکے، لیکن یہ واضح ہے کہ اس میں ٹیکس دہندہ کو سننے کا موقع فراہم کرنا لازمی ہے۔</p>
<p>عدالت نے مزید کہا کہ دفعہ 24 کا مقصد یہ ہے کہ ایسے اخراجات جو کئی سالوں میں فائدہ پہنچاتے ہیں، جیسے کہ گڈ ویل،برانڈ پروموشن، ٹریڈ مارک یاانٹلکچول پراپرٹی رائٹ کے اخراجات، فوراً سالانہ خرچ کے طور پر دکھائے نہ جائیں بلکہ منظم طریقے سے کٹوتی کیے جائیں۔ یہ قواعد طویل مدتی اقتصادی فوائد کے اخراجات کو مناسب اور شفاف طریقے سے تسلیم کرنے کے لیے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کی دلیل کہ اشتہاری اخراجات کا فائدہ صرف متعلقہ ٹیکس سال تک محدود ہے، قانونی یا حقیقی بنیادوں پر درست نہیں ہے۔ ٹیکس ریٹرن میں فراہم کردہ معلومات کی جانچ پڑتال سے ٹیکس حکام کے جائزے پر کوئی پابندی نہیں بنتی۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ سی آئی آر نے قانونی طور پر 122(5A) کا اطلاق درست طریقے سے کیا اور سننے کا موقع فراہم کیا گیا، اس لیے کسی غیر قانونی اقدام کا شائبہ نہیں ہے۔ سی آئی آر اور اپیل ٹریبونل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ فوری کٹوتی مسترد کر کے اخراجات کو دفعہ 24(3) کے تحت کٹوتی کرنے کا حکم دے۔</p>
<p>عدالت نے نو بہار بوتلنگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے ٹریبونل کے فیصلے کی توثیق کی اور حکم دیا کہ فیصلہ اپیل ٹریبونل کو بھی ارسال کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281484</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 12:35:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/11110534b946f6b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/11110534b946f6b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
