<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کا تزویراتی انحراف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281475/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایسے وقت جب پاکستان اندرونی سیاسی ہلچل، معاشی دباؤ اور ردِعمل پر مبنی سفارت کاری میں الجھا ہوا ہے، بھارت نے خاموشی مگر فیصلہ کن انداز میں پاکستان کے لیے سب سے وجودی محاذ، آبی سلامتی، پر طاقت کا توازن اپنے حق میں موڑ لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں 2025 کے پہلگام واقعے کو سیاسی جواز بنا کر نئی دہلی نے عملاً سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو گہرے سرد خانے میں ڈال کر غیر موثر کر دیا ہے۔ اگرچہ معاہدہ باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا گیا، تاہم اس کے تحت تعاون کے طریقۂ کار کی معطلی اور پاکستان کو” اس کے جائز حصے سے محروم کرنے“ کی کھلی دھمکیاں دنیا کے پائیدار ترین آبی اشتراک کے معاہدوں میں سے ایک سے خطرناک انحراف کی علامت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیانیے سے بھی زیادہ تشویشناک عملی اقدامات ہیں۔ بھارت اب دریائے چناب، پاکستان کے لیے ایک کلیدی مغربی دریا، پر آبی بجلی کے متعدد منصوبوں کو تیز رفتاری سے، واضح تزویراتی نیت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ منصوبے جو کبھی دفتری سست روی کا شکار تھے، اب ” قومی سلامتی“ کی ہنگامی بنیادوں پر انہیں آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ نئے ڈیم، موجودہ منصوبوں کے اضافی مراحل اور ذخیرۂ آب کی توسیع یا تو تکمیل کے قریب ہیں یا 2026 تک فعال ہونے کے لیے طے شدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر منصوبہ الگ تھلگ کرکے دیکھیں تو ممکن ہے معاہدے کے مطابق دکھائی دے۔ مگر مجموعی طور پر یہ بالائی کنٹرول قائم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے، محض بجلی پیدا کرنے پر نہیں بلکہ پانی کے اوقات، بہاؤ کے نظم اور تزویراتی دباؤ پر بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات پاکستان کا پانی راتوں رات بند کرنے کی نہیں۔ یہ اس صلاحیت کے پیدا کرنے کی ہے،خصوصاً کاشت کے موسموں، خشک سالی کے ادوار یا بحرانی لمحات میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدہ جنگوں، جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور دہائیوں کی دشمنی کے باوجود قائم رہا کیونکہ یہ ایک سادہ اصول پر مبنی تھا: دریاؤں کی علیحدگی اور باہمی اعتدال۔ بھارت کو مشرقی دریا ملے؛ پاکستان کو مغربی دریا، بشمول چناب۔ مغربی دریاوں پر بھارت کے حقوق جان بوجھ کر غیر مصرفی استعمال تک محدود تھے اور سخت ڈیزائن پابندیوں کے تابع تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بھارت جو کر رہا ہے وہ کوئی واحد خلاف ورزی نہیں بلکہ ”ہزار انجینئرنگ چالوں سے موت“ ہے: ذخیرۂ پانی میں اضافہ، رن آف دی ریور منصوبوں کی سلسلہ وار تعمیر، دروازوں کا ایک ہی وقت میں بند ہونا اور کھلنا اور تیز تر پانی بھرنے کے شیڈول۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر منصوبہ علیحدہ طور پر جائز دکھائی دے سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ غیر مستحکم کرنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں موجود ابہام کو ہتھیار بنانے اور تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کو مفلوج کرنے کے ذریعے، بھارت نے ایک محدود بالائی ملکیت والے فریق سے حقیقت میں پانی کا مینیجر بن جانے کی راہ اپنائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بار بار کی اعتراضات، قانونی نوٹسز اور غیر جانبدار ماہرین کے اجلاس طلب کرنے کی کوششیں کوئی خاطر خواہ اثر نہیں دکھا سکے، بنیادی طور پر اس لیے کہ نئی دہلی نے، اب تک درست اندازہ لگایا، کہ پاکستان کے پاس سیاسی ہم آہنگی اور سفارتی گنجائش نہیں ہے کہ وہ موثر طور پر معاملہ بڑھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی آبی کمزوری صرف بھارتی اقدامات کا نتیجہ نہیں؛ یہ ملکی غفلت سے بھی بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹریٹیجک ذخیرہ قائم کرنے، جدید آبپاشی نظام اپنانے، زیر زمین پانی کے نکاس کو منظم کرنے، یا پانی کو قومی سلامتی کا اثاثہ سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ یکے بعد دیگرے حکومتوں نے مشکل فیصلے موخر کیے، جس کے نتیجے میں ملک کے پاس محض 30 دن کا پانی ذخیرہ ہے، جبکہ بھارت کے پاس 200 دن سے زائد۔ موسمی تبدیلی نے اس جمود کے نتائج کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جب بھارت چناب پر آبی بجلی کے منصوبوں کو تیز کر رہا ہے، پاکستان کمزور ذخائر، غیر موثر نہری نظام اور منتشر پالیسی سازی کے ساتھ اس خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ جغرافیائی سیاست نے بحران کو بھڑکایا، لیکن حکمرانی کی ناکامیاں اس کی شدت بڑھا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سوال یہ ہے: ”پاکستان کیا کر سکتا — اور کیا کرنا چاہیے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا، پاکستان کو اس مسئلے کو فیصلہ کن انداز میں بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہوگا، محض بیان بازی نہیں۔ سندھ طاس معاہدہ کسی دو طرفہ رعایتی تعلق کا نام نہیں؛ یہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ پاکستان کو لامتناہی طریقہ کار کے جھگڑوں کے بجائے رسمی ثالثی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے، چاہے نتائج سست ہوں۔ مقصد فوری ریلیف نہیں بلکہ بھارت پر قانونی پابندی اور ساکھ کے نقصان کا دباؤ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، اسلام آباد کو پانی کی سلامتی کو اپنی وسیع تر خارجہ پالیسی میں شامل کرنا ہوگا، خاص طور پر چین، خلیجی شراکت داروں اور ماحولیاتی کثیر الجہتی اداروں کے ساتھ۔ اگر بھارت پانی کے کنٹرول کو خودمختاری کا حق قرار دیتا ہے، تو پاکستان کو پانی کی بندش کو علاقائی استحکام اور انسانی ہمدردی کے خطرے کے طور پر پیش کرنا چاہیے، خاص طور پر جوہری جنوبی ایشیا میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، پاکستان کو فوری طور پر اپنی خود انحصاری میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس میں نئے ذخیرہ ڈیمز کی تیز رفتار تعمیر، نہروں کی بحالی، پانی بچانے والی زراعت اور پانی کی معقول قیمت گذاری شامل ہے۔ کوئی سفارتی کوشش ملکی پانی کے ضیاع کی تلافی نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا، پاکستان کو ایک متحدہ قومی آبی کمانڈ قائم کرنا ہوگی، جو سیاسی دوروں سے آزاد ہو، جو ماحولیاتی ماڈلنگ، معاہدے کی نگرانی، سیٹلائٹ امیجری اور قانونی حکمت عملی کو جوڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بھارت کا فائدہ صرف جغرافیہ میں نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی میں بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھارت کی بالائی جغرافیائی پوزیشن کو واپس نہیں پلٹ سکتا، نہ ہی دشمن ہمسایہ سے نیک نیتی زبردستی حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن وہ قیمت عائد کر سکتا ہے، تاخیر پیدا کر سکتا ہے اور کم از کم حفاظتی اقدامات کرسکتا ہے اگر اس نے اسٹریٹیجک انداز اپنایا۔ بین الاقوامی قانون ابھی بھی دباؤ کا ذریعہ ہے۔ موسمی سفارت کاری ابھی بھی حلیف فراہم کر سکتی ہے۔ ملکی اصلاحات ابھی بھی استحکام دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا وہ ہے تزویراتی بے سمتی۔ آبی جنگیں شاذ و نادر ہی اعلان کی جاتی ہیں؛ یہ خاموشی سے، نقشہ جات اور کنکریٹ کے بہاؤ کے ذریعے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ جب تک اثرات نیچے کی جانب محسوس کیے جائیں، اختیارات محدود ہو چکے ہوتے ہیں۔ بھارت یہ سمجھ چکا ہے۔ پاکستان کو اب وہی سمجھنا ہوگا، یا بہت دیر سے دریافت کرے گا کہ ساکھ بغیر پانی کے محض ایک فریب ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایسے وقت جب پاکستان اندرونی سیاسی ہلچل، معاشی دباؤ اور ردِعمل پر مبنی سفارت کاری میں الجھا ہوا ہے، بھارت نے خاموشی مگر فیصلہ کن انداز میں پاکستان کے لیے سب سے وجودی محاذ، آبی سلامتی، پر طاقت کا توازن اپنے حق میں موڑ لیا ہے۔</strong></p>
<p>غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں 2025 کے پہلگام واقعے کو سیاسی جواز بنا کر نئی دہلی نے عملاً سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو گہرے سرد خانے میں ڈال کر غیر موثر کر دیا ہے۔ اگرچہ معاہدہ باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا گیا، تاہم اس کے تحت تعاون کے طریقۂ کار کی معطلی اور پاکستان کو” اس کے جائز حصے سے محروم کرنے“ کی کھلی دھمکیاں دنیا کے پائیدار ترین آبی اشتراک کے معاہدوں میں سے ایک سے خطرناک انحراف کی علامت ہیں۔</p>
<p>بیانیے سے بھی زیادہ تشویشناک عملی اقدامات ہیں۔ بھارت اب دریائے چناب، پاکستان کے لیے ایک کلیدی مغربی دریا، پر آبی بجلی کے متعدد منصوبوں کو تیز رفتاری سے، واضح تزویراتی نیت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔</p>
<p>وہ منصوبے جو کبھی دفتری سست روی کا شکار تھے، اب ” قومی سلامتی“ کی ہنگامی بنیادوں پر انہیں آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ نئے ڈیم، موجودہ منصوبوں کے اضافی مراحل اور ذخیرۂ آب کی توسیع یا تو تکمیل کے قریب ہیں یا 2026 تک فعال ہونے کے لیے طے شدہ ہیں۔</p>
<p>ہر منصوبہ الگ تھلگ کرکے دیکھیں تو ممکن ہے معاہدے کے مطابق دکھائی دے۔ مگر مجموعی طور پر یہ بالائی کنٹرول قائم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے، محض بجلی پیدا کرنے پر نہیں بلکہ پانی کے اوقات، بہاؤ کے نظم اور تزویراتی دباؤ پر بھی۔</p>
<p>یہ بات پاکستان کا پانی راتوں رات بند کرنے کی نہیں۔ یہ اس صلاحیت کے پیدا کرنے کی ہے،خصوصاً کاشت کے موسموں، خشک سالی کے ادوار یا بحرانی لمحات میں۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدہ جنگوں، جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور دہائیوں کی دشمنی کے باوجود قائم رہا کیونکہ یہ ایک سادہ اصول پر مبنی تھا: دریاؤں کی علیحدگی اور باہمی اعتدال۔ بھارت کو مشرقی دریا ملے؛ پاکستان کو مغربی دریا، بشمول چناب۔ مغربی دریاوں پر بھارت کے حقوق جان بوجھ کر غیر مصرفی استعمال تک محدود تھے اور سخت ڈیزائن پابندیوں کے تابع تھے۔</p>
<p>اب بھارت جو کر رہا ہے وہ کوئی واحد خلاف ورزی نہیں بلکہ ”ہزار انجینئرنگ چالوں سے موت“ ہے: ذخیرۂ پانی میں اضافہ، رن آف دی ریور منصوبوں کی سلسلہ وار تعمیر، دروازوں کا ایک ہی وقت میں بند ہونا اور کھلنا اور تیز تر پانی بھرنے کے شیڈول۔</p>
<p>ہر منصوبہ علیحدہ طور پر جائز دکھائی دے سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ غیر مستحکم کرنے والا ہے۔</p>
<p>معاہدے میں موجود ابہام کو ہتھیار بنانے اور تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کو مفلوج کرنے کے ذریعے، بھارت نے ایک محدود بالائی ملکیت والے فریق سے حقیقت میں پانی کا مینیجر بن جانے کی راہ اپنائی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے بار بار کی اعتراضات، قانونی نوٹسز اور غیر جانبدار ماہرین کے اجلاس طلب کرنے کی کوششیں کوئی خاطر خواہ اثر نہیں دکھا سکے، بنیادی طور پر اس لیے کہ نئی دہلی نے، اب تک درست اندازہ لگایا، کہ پاکستان کے پاس سیاسی ہم آہنگی اور سفارتی گنجائش نہیں ہے کہ وہ موثر طور پر معاملہ بڑھا سکے۔</p>
<p>سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی آبی کمزوری صرف بھارتی اقدامات کا نتیجہ نہیں؛ یہ ملکی غفلت سے بھی بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>پاکستان اسٹریٹیجک ذخیرہ قائم کرنے، جدید آبپاشی نظام اپنانے، زیر زمین پانی کے نکاس کو منظم کرنے، یا پانی کو قومی سلامتی کا اثاثہ سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ یکے بعد دیگرے حکومتوں نے مشکل فیصلے موخر کیے، جس کے نتیجے میں ملک کے پاس محض 30 دن کا پانی ذخیرہ ہے، جبکہ بھارت کے پاس 200 دن سے زائد۔ موسمی تبدیلی نے اس جمود کے نتائج کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>لہٰذا جب بھارت چناب پر آبی بجلی کے منصوبوں کو تیز کر رہا ہے، پاکستان کمزور ذخائر، غیر موثر نہری نظام اور منتشر پالیسی سازی کے ساتھ اس خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ جغرافیائی سیاست نے بحران کو بھڑکایا، لیکن حکمرانی کی ناکامیاں اس کی شدت بڑھا رہی ہیں۔</p>
<p>اب سوال یہ ہے: ”پاکستان کیا کر سکتا — اور کیا کرنا چاہیے؟“</p>
<p>پہلا، پاکستان کو اس مسئلے کو فیصلہ کن انداز میں بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہوگا، محض بیان بازی نہیں۔ سندھ طاس معاہدہ کسی دو طرفہ رعایتی تعلق کا نام نہیں؛ یہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ پاکستان کو لامتناہی طریقہ کار کے جھگڑوں کے بجائے رسمی ثالثی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے، چاہے نتائج سست ہوں۔ مقصد فوری ریلیف نہیں بلکہ بھارت پر قانونی پابندی اور ساکھ کے نقصان کا دباؤ ہے۔</p>
<p>دوسرا، اسلام آباد کو پانی کی سلامتی کو اپنی وسیع تر خارجہ پالیسی میں شامل کرنا ہوگا، خاص طور پر چین، خلیجی شراکت داروں اور ماحولیاتی کثیر الجہتی اداروں کے ساتھ۔ اگر بھارت پانی کے کنٹرول کو خودمختاری کا حق قرار دیتا ہے، تو پاکستان کو پانی کی بندش کو علاقائی استحکام اور انسانی ہمدردی کے خطرے کے طور پر پیش کرنا چاہیے، خاص طور پر جوہری جنوبی ایشیا میں۔</p>
<p>تیسرا، پاکستان کو فوری طور پر اپنی خود انحصاری میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس میں نئے ذخیرہ ڈیمز کی تیز رفتار تعمیر، نہروں کی بحالی، پانی بچانے والی زراعت اور پانی کی معقول قیمت گذاری شامل ہے۔ کوئی سفارتی کوشش ملکی پانی کے ضیاع کی تلافی نہیں کر سکتی۔</p>
<p>چوتھا، پاکستان کو ایک متحدہ قومی آبی کمانڈ قائم کرنا ہوگی، جو سیاسی دوروں سے آزاد ہو، جو ماحولیاتی ماڈلنگ، معاہدے کی نگرانی، سیٹلائٹ امیجری اور قانونی حکمت عملی کو جوڑے۔</p>
<p>آج بھارت کا فائدہ صرف جغرافیہ میں نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی میں بھی ہے۔</p>
<p>پاکستان بھارت کی بالائی جغرافیائی پوزیشن کو واپس نہیں پلٹ سکتا، نہ ہی دشمن ہمسایہ سے نیک نیتی زبردستی حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن وہ قیمت عائد کر سکتا ہے، تاخیر پیدا کر سکتا ہے اور کم از کم حفاظتی اقدامات کرسکتا ہے اگر اس نے اسٹریٹیجک انداز اپنایا۔ بین الاقوامی قانون ابھی بھی دباؤ کا ذریعہ ہے۔ موسمی سفارت کاری ابھی بھی حلیف فراہم کر سکتی ہے۔ ملکی اصلاحات ابھی بھی استحکام دے سکتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان جس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا وہ ہے تزویراتی بے سمتی۔ آبی جنگیں شاذ و نادر ہی اعلان کی جاتی ہیں؛ یہ خاموشی سے، نقشہ جات اور کنکریٹ کے بہاؤ کے ذریعے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ جب تک اثرات نیچے کی جانب محسوس کیے جائیں، اختیارات محدود ہو چکے ہوتے ہیں۔ بھارت یہ سمجھ چکا ہے۔ پاکستان کو اب وہی سمجھنا ہوگا، یا بہت دیر سے دریافت کرے گا کہ ساکھ بغیر پانی کے محض ایک فریب ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281475</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 17:23:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/101638203b5a1d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/101638203b5a1d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
