<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس اور چین کو روکنے کے لیے امریکا کا گرین لینڈ کی ملکیت حاصل کرنے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281474/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے جمعہ کو کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ملکیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں روس یا چین کو اس پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس میں آئل کمپنیوں کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم گرین لینڈ کے بارے میں کچھ (اقدام) کرنے جارہے ہیں، چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کرلیں گے اور ہم روس یا چین کو اپنے پڑوسی کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ کا حصول ناگزیر ہے، اگرچہ 1951 کے ایک معاہدے کے تحت جزیرے پر امریکی فوج پہلے سے موجود ہے، لیکن ان کے بقول ایسے معاہدے گرین لینڈ کے دفاع کی ضمانت دینے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ 57,000 آبادی پر مشتمل یہ جزیرہ مملکتِ ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ آپ اپنی ملکیت کا دفاع کرتے ہیں، لیز (کرائے کے معاہدے) کا نہیں۔ اور ہمیں گرین لینڈ کا دفاع کرنا پڑے گا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو چین یا روس ایسا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے حکام گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کر رہے ہیں جن میں امریکی فوج کے ممکنہ استعمال اور گرین لینڈ کے عوام کو یکمشت مالی ادائیگی جیسے آپشنز بھی شامل ہیں تاکہ انہیں ڈنمارک سے علیحدگی اور ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ شمولیت پر آمادہ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوپن ہیگن اور یورپ بھر کی قیادت نے حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ اور دیگر وائٹ ہاؤس حکام کے ان بیانات کو حقارت سے مسترد کیا ہے جن میں گرین لینڈ پر امریکہ کے حق کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکہ اور ڈنمارک نیٹو کے اتحادی ہیں اور باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین، برطانیہ اور ڈنمارک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کے باہمی تعلقات سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار صرف گرین لینڈ اور ڈنمارک کو حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے جمعہ کو کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ملکیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں روس یا چین کو اس پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔</strong></p>
<p>وائٹ ہاؤس میں آئل کمپنیوں کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم گرین لینڈ کے بارے میں کچھ (اقدام) کرنے جارہے ہیں، چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کرلیں گے اور ہم روس یا چین کو اپنے پڑوسی کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ کا حصول ناگزیر ہے، اگرچہ 1951 کے ایک معاہدے کے تحت جزیرے پر امریکی فوج پہلے سے موجود ہے، لیکن ان کے بقول ایسے معاہدے گرین لینڈ کے دفاع کی ضمانت دینے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ 57,000 آبادی پر مشتمل یہ جزیرہ مملکتِ ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ آپ اپنی ملکیت کا دفاع کرتے ہیں، لیز (کرائے کے معاہدے) کا نہیں۔ اور ہمیں گرین لینڈ کا دفاع کرنا پڑے گا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو چین یا روس ایسا کریں گے۔</p>
<p>ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے حکام گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کر رہے ہیں جن میں امریکی فوج کے ممکنہ استعمال اور گرین لینڈ کے عوام کو یکمشت مالی ادائیگی جیسے آپشنز بھی شامل ہیں تاکہ انہیں ڈنمارک سے علیحدگی اور ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ شمولیت پر آمادہ کیا جاسکے۔</p>
<p>کوپن ہیگن اور یورپ بھر کی قیادت نے حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ اور دیگر وائٹ ہاؤس حکام کے ان بیانات کو حقارت سے مسترد کیا ہے جن میں گرین لینڈ پر امریکہ کے حق کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکہ اور ڈنمارک نیٹو کے اتحادی ہیں اور باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔</p>
<p>منگل کو فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین، برطانیہ اور ڈنمارک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کے باہمی تعلقات سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار صرف گرین لینڈ اور ڈنمارک کو حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281474</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 16:35:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/101624140e2f4c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/101624140e2f4c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
