<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 00:54:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 00:54:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب حکومت نے گندم پالیسی 2026 کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281460/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومتِ پنجاب نے  گندم پالیسی 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پالیسی نجی شعبے کی قیادت میں اسٹریٹجک گندم کے ذخائر کی دیکھ بھال، ہولڈنگ اور سپلائی کے لیے ایک تاریخی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ  فریم ورک ہے، جسے غذائی تحفظ ، مارکیٹ کے استحکام اور گندم کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی پالیسی کے تحت حکومت سرکاری سطح پر گندم کے ذخائر رکھنے کے بجائے مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق نجی مالی معاونت سے چلنے والے نظام کی طرف منتقل ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ نجی شعبہ گندم کے اسٹریٹجک ذخائر کی خریداری، مالی معاونت، اسٹوریج، دیکھ بھال اور سپلائی کا ذمہ دار ہوگا، تاہم حکومت ریگولیٹری (قواعد و ضوابط)، نگرانی اور اسٹریٹجک کنٹرول کا کردار اپنے پاس برقرار رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسانوں کیلئے امدادی اقدامات کے طور پر ایک شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے منتخب کردہ پرائیویٹ سیکٹر ایگریگیٹرز (نجی ادارے) کسانوں سے براہ راست 3,500 روپے فی 40 کلوگرام کی بینچ مارک قیمت پر گندم خریدیں گے۔ اس قیمت کا تعین خریداری کے مخصوص دورانیے کے دوران درآمدی برابری کے مارکیٹ تجزیے کے مطابق کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فریم ورک مارکیٹ تک یقینی رسائی، کسانوں کو ڈیجیٹل ذریعے سے بروقت ادائیگیوں، سرکاری خریداری کے روایتی نظام سے وابستہ تاخیر کے خاتمے اور قیمتوں میں بگاڑ پیدا کیے بغیر مارکیٹ میں مقابلے کی فضا کو برقرار رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب حکومت گندم خریدے گی نہیں، لیکن یہ یقینی بنائے گی کہ مارکیٹیں کسانوں کے لیے منظم، مسابقتی اور منصفانہ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ گندم پالیسی 2026 کو مالیاتی گنجائش  کے مکمل تحفظ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت، سرکاری خریداری پر کوئی اخراجات نہیں ہوں گے، حکومت کی جانب سے کوئی سبسڈی یا امدادی قیمت ادا نہیں کی جائے گی، سرکاری سطح پر ذخیرہ اندوزی یا اسٹوریج کے نقصانات نہیں ہوں گے، اور نہ ہی کوئی غیر فنڈڈ مالیاتی واجبات پیدا ہوں گے۔ گندم کے تمام اسٹریٹجک ذخائر کی مالی معاونت، دیکھ بھال اور ذخیرہ اندوزی نجی شعبہ کرے گا جبکہ اخراجات اور منافع کا تعین نوٹیفائیڈ حد کے اندر مسابقتی بنیادوں پر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کے تحفظ کے لیے گندم کے اسٹریٹجک ذخائر کو ستمبر سے مارچ تک ایک منظم اور مرحلہ وار طریقے سے مارکیٹ میں لایا جائے گا جو کہ تاریخی کھپت کے رجحانات اور موسمی طلب کے دباؤ کے عین مطابق ہوگا۔ اس طریقہ کار کا مقصد مارکیٹ میں گندم کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانا، مصنوعی قلت اور منافع خوری کے لیے ذخیرہ اندوزی کو روکنا، اور خاص طور پر سردیوں کے مہینوں اور رمضان کے دوران قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔ نجی شراکت داروں کے منافع کا تعین ماہانہ بنیادوں پر کیا جائے گا جس کی ایک بالائی حد مقرر ہوگی، اور اس کا فیصلہ مسابقتی عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری گوداموں کو صرف اور صرف مشترکہ تحویل کے انتظامات کے تحت گندم کے اسٹریٹجک ذخائر رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اگرچہ ان گوداموں کو چلانے کی ذمہ داری نجی شراکت داروں کی ہوگی تاہم گندم  ذخائر کی ملکیت اور تزویراتی  کنٹرول حکومت ہی کے پاس رہے گا۔ سرکاری اسٹوریج کے اثاثوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی، اور غذائی تحفظ کے مقاصد کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ یہ پالیسی پنجاب کے کسانوں، صارفین اور مالی نظم و ضبط کے عزم کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پنجاب اپنے کسانوں کی حمایت، خوراک کی مارکیٹوں میں استحکام اور صارفین کے تحفظ کے لیے ہوشیار حکمرانی کے ذریعے پرعزم ہے۔ گندم پالیسی 2026 غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہے بغیر ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالے، جبکہ نجی شعبے کو مؤثر خدمات فراہم کرنے کا اختیار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومتِ پنجاب نے  گندم پالیسی 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پالیسی نجی شعبے کی قیادت میں اسٹریٹجک گندم کے ذخائر کی دیکھ بھال، ہولڈنگ اور سپلائی کے لیے ایک تاریخی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ  فریم ورک ہے، جسے غذائی تحفظ ، مارکیٹ کے استحکام اور گندم کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</strong><br></p>
<p>نئی پالیسی کے تحت حکومت سرکاری سطح پر گندم کے ذخائر رکھنے کے بجائے مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق نجی مالی معاونت سے چلنے والے نظام کی طرف منتقل ہو جائے گی۔</p>
<p>اگرچہ نجی شعبہ گندم کے اسٹریٹجک ذخائر کی خریداری، مالی معاونت، اسٹوریج، دیکھ بھال اور سپلائی کا ذمہ دار ہوگا، تاہم حکومت ریگولیٹری (قواعد و ضوابط)، نگرانی اور اسٹریٹجک کنٹرول کا کردار اپنے پاس برقرار رکھے گی۔</p>
<p>کسانوں کیلئے امدادی اقدامات کے طور پر ایک شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے منتخب کردہ پرائیویٹ سیکٹر ایگریگیٹرز (نجی ادارے) کسانوں سے براہ راست 3,500 روپے فی 40 کلوگرام کی بینچ مارک قیمت پر گندم خریدیں گے۔ اس قیمت کا تعین خریداری کے مخصوص دورانیے کے دوران درآمدی برابری کے مارکیٹ تجزیے کے مطابق کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ فریم ورک مارکیٹ تک یقینی رسائی، کسانوں کو ڈیجیٹل ذریعے سے بروقت ادائیگیوں، سرکاری خریداری کے روایتی نظام سے وابستہ تاخیر کے خاتمے اور قیمتوں میں بگاڑ پیدا کیے بغیر مارکیٹ میں مقابلے کی فضا کو برقرار رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔</p>
<p>پنجاب حکومت گندم خریدے گی نہیں، لیکن یہ یقینی بنائے گی کہ مارکیٹیں کسانوں کے لیے منظم، مسابقتی اور منصفانہ رہیں۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ گندم پالیسی 2026 کو مالیاتی گنجائش  کے مکمل تحفظ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت، سرکاری خریداری پر کوئی اخراجات نہیں ہوں گے، حکومت کی جانب سے کوئی سبسڈی یا امدادی قیمت ادا نہیں کی جائے گی، سرکاری سطح پر ذخیرہ اندوزی یا اسٹوریج کے نقصانات نہیں ہوں گے، اور نہ ہی کوئی غیر فنڈڈ مالیاتی واجبات پیدا ہوں گے۔ گندم کے تمام اسٹریٹجک ذخائر کی مالی معاونت، دیکھ بھال اور ذخیرہ اندوزی نجی شعبہ کرے گا جبکہ اخراجات اور منافع کا تعین نوٹیفائیڈ حد کے اندر مسابقتی بنیادوں پر کیا جائے گا۔</p>
<p>صارفین کے تحفظ کے لیے گندم کے اسٹریٹجک ذخائر کو ستمبر سے مارچ تک ایک منظم اور مرحلہ وار طریقے سے مارکیٹ میں لایا جائے گا جو کہ تاریخی کھپت کے رجحانات اور موسمی طلب کے دباؤ کے عین مطابق ہوگا۔ اس طریقہ کار کا مقصد مارکیٹ میں گندم کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانا، مصنوعی قلت اور منافع خوری کے لیے ذخیرہ اندوزی کو روکنا، اور خاص طور پر سردیوں کے مہینوں اور رمضان کے دوران قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔ نجی شراکت داروں کے منافع کا تعین ماہانہ بنیادوں پر کیا جائے گا جس کی ایک بالائی حد مقرر ہوگی، اور اس کا فیصلہ مسابقتی عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔</p>
<p>سرکاری گوداموں کو صرف اور صرف مشترکہ تحویل کے انتظامات کے تحت گندم کے اسٹریٹجک ذخائر رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اگرچہ ان گوداموں کو چلانے کی ذمہ داری نجی شراکت داروں کی ہوگی تاہم گندم  ذخائر کی ملکیت اور تزویراتی  کنٹرول حکومت ہی کے پاس رہے گا۔ سرکاری اسٹوریج کے اثاثوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی، اور غذائی تحفظ کے مقاصد کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے گا۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ یہ پالیسی پنجاب کے کسانوں، صارفین اور مالی نظم و ضبط کے عزم کی عکاس ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پنجاب اپنے کسانوں کی حمایت، خوراک کی مارکیٹوں میں استحکام اور صارفین کے تحفظ کے لیے ہوشیار حکمرانی کے ذریعے پرعزم ہے۔ گندم پالیسی 2026 غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہے بغیر ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالے، جبکہ نجی شعبے کو مؤثر خدمات فراہم کرنے کا اختیار دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281460</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 12:22:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد بیگ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1012030162a793e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1012030162a793e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
