<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:32:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:32:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرکاری اداروں کو مالی سال 25-2024 میں 122.9 ارب روپے کے خالص نقصان کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281458/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2024-25 کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو 122.9 ارب روپے کا خالص نقصان ہوا جو گزشتہ مالی سال میں ہونے والے 30.6 ارب روپے کے خالص نقصان کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انکشاف وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے اجلاس کے دوران ہوا ۔ اجلاس میں سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، اس موقع پر شرکاء نے شفافیت و ساختی اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) کی جانب سے تیار کردہ مالی سال25۔ 2024 کے لیے کمرشل اور نان کمرشل سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی سالانہ جامع کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر جنرل سی ایم یو مجید صوفی کی جانب سے دی گئی پریزنٹیشن میں سرکاری اداروں کی 360 ڈگری کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا جس میں مالی و غیر مالی کارکردگی، حکومتی معاونت اور مالیاتی بہائو، قومی خزانے میں سرکاری اداروں کا حصہ، قرضوں کی صورتحال، کارپوریٹ گورننس اور تعمیلی حیثیت، بزنس پلانز کا جائزہ اور ایس او ایز ایکٹ 2023 کے تحت مستقبل کی حکمت عملی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 25۔ 2024 کے دوران سرکاری اداروں کی مجموعی آمدن تقریباً 12.4 کھرب روپے رہی جس میں کمی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث آئل سیکٹر کے منافع میں کمی ہے۔ منافع بخش سرکاری اداروں کا مجموعی منافع 13 فیصد کمی کے ساتھ 709.9 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال 820.7 ارب روپے تھا جبکہ خسارہ کرنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات میں تقریباً 2 فیصد بہتری آئی اور یہ 832.8 ارب روپے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ نقصانات بڑی حد تک چند اداروں کے ہیں، خصوصاً ٹرانسپورٹ اور بجلی کی تقسیم کے شعبوں میں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعدد بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بڑے خسارے کا سبب بنی رہیں جس کی وجوہات میں ساختی مسائل، زیادہ ڈیپریسی ایشن، مالیاتی اخراجات اور بعض عوامی خدمات کا غیر تجارتی ہونا شامل ہے۔ کمیٹی کو مالی پائیداری کی بنیاد پر سرکاری اداروں کو گرین، ایمبر اور ریڈ کیٹیگریز میں تقسیم کرنے سے بھی آگاہ کیا گیا تاکہ اصلاحات اور فیصلوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی معاونت کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال25۔ 2024 کے دوران سرکاری اداروں کو دی جانے والی مجموعی حکومتی معاونت بڑھ کر 2,078 ارب روپے ہو گئی جس کی بڑی وجہ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے ایکویٹی میں اضافہ ہے جبکہ سبسڈیز میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس سرکاری اداروں کی جانب سے حکومت کو موصول ہونے والی رقوم بڑھ کر 2,119 ارب روپے ہو گئیں جس میں زیادہ ڈیویڈنڈز، ٹیکس وصولیاں اور حکومتی قرضوں پر سودی آمدن شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سرکاری اداروں کے قرضہ جاتی پروفائل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ مجموعی سطح پر سرکاری اداروں کا قرضہ بڑھ کر 9.57 کھرب روپے ہو گیا جس میں کیش ڈویلپمنٹ لونز، غیر ملکی ری لینٹ قرضے، بینک قرضے اور واجب الادا سود شامل ہیں۔اس کے علاوہ سرکاری اداروں میں غیر فنڈڈ پنشن واجبات کا تخمینہ تقریباً 2 کھرب روپے لگایا گیا جسے ایک بڑا وراثتی مالی خطرہ قرار دیا گیا۔ گارنٹیز اور دیگر آف بیلنس شیٹ ذمہ داریاں 2.16 کھرب روپے رپورٹ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین نے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی شفافیت میں بہتری، آئی ایف آر ایس کے مطابق مالی معلومات کی یکجا کرنے اور ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے قیام پر تعریف کی جو شواہد پر مبنی فیصلوں میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت مالیاتی بہائو، قرضوں کی نقشہ بندی اور پنشن واجبات جیسے شعبوں میں بہتر نگرانی اور خطرات کی نشاندہی میں مدد فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ یہ بہتریاں مستند بنیاد فراہم کرتی ہیں جس پر پالیسی اقدامات اور مستقل اصلاحات کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے اور حکومت کی جانب سے اس عزم کو دہرایا کہ سرکاری ملکیتی اداروں کی گورننس بہتر بنانے، جوابدہی کو یقینی بنانے، اور انہیں مالی طور پر مستحکم اور عملی طور پر مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے اراکین نے ایس او ایز ایکٹ 2023 کے مطابق آڈٹس کی بروقت تکمیل اور فروری 2026ء تک آئی ایف آر ایس پر مبنی رپورٹنگ کی منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ حقیقت پسندانہ بزنس پلانز، شعبہ جاتی مشاورت، خسارے میں کمی کی حکمت عملی اور مسلسل خسارہ کرنے والے اداروں کے لیے سخت بجٹ پابندیوں کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ رپورٹ کے نتائج متعلقہ وزارتوں کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ اصلاحاتی اقدامات کو تقویت دی جا سکے جبکہ آڈٹس، گورننس اصلاحات، قرضوں کی تنظیم نو اور مالیاتی خطرات کے تدارک پر پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سالانہ جامع کارکردگی رپورٹ کی اشاعت کی منظوری دیتے ہوئے اسے سرکاری اداروں کے انتظام میں شفافیت، احتساب اور موثر پالیسی سازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اس سے قبل گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، جامشورو پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (جے پی سی ایل)، انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (ای آئی ڈی ایم سی)، انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او)، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) اور قبائلی علاقوں کی الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی بھی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2024-25 کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو 122.9 ارب روپے کا خالص نقصان ہوا جو گزشتہ مالی سال میں ہونے والے 30.6 ارب روپے کے خالص نقصان کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</strong></p>
<p>یہ انکشاف وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے اجلاس کے دوران ہوا ۔ اجلاس میں سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، اس موقع پر شرکاء نے شفافیت و ساختی اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>اجلاس میں وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) کی جانب سے تیار کردہ مالی سال25۔ 2024 کے لیے کمرشل اور نان کمرشل سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی سالانہ جامع کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی۔</p>
<p>ڈائریکٹر جنرل سی ایم یو مجید صوفی کی جانب سے دی گئی پریزنٹیشن میں سرکاری اداروں کی 360 ڈگری کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا جس میں مالی و غیر مالی کارکردگی، حکومتی معاونت اور مالیاتی بہائو، قومی خزانے میں سرکاری اداروں کا حصہ، قرضوں کی صورتحال، کارپوریٹ گورننس اور تعمیلی حیثیت، بزنس پلانز کا جائزہ اور ایس او ایز ایکٹ 2023 کے تحت مستقبل کی حکمت عملی شامل تھی۔</p>
<p>کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 25۔ 2024 کے دوران سرکاری اداروں کی مجموعی آمدن تقریباً 12.4 کھرب روپے رہی جس میں کمی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث آئل سیکٹر کے منافع میں کمی ہے۔ منافع بخش سرکاری اداروں کا مجموعی منافع 13 فیصد کمی کے ساتھ 709.9 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال 820.7 ارب روپے تھا جبکہ خسارہ کرنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات میں تقریباً 2 فیصد بہتری آئی اور یہ 832.8 ارب روپے رہے۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ نقصانات بڑی حد تک چند اداروں کے ہیں، خصوصاً ٹرانسپورٹ اور بجلی کی تقسیم کے شعبوں میں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعدد بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بڑے خسارے کا سبب بنی رہیں جس کی وجوہات میں ساختی مسائل، زیادہ ڈیپریسی ایشن، مالیاتی اخراجات اور بعض عوامی خدمات کا غیر تجارتی ہونا شامل ہے۔ کمیٹی کو مالی پائیداری کی بنیاد پر سرکاری اداروں کو گرین، ایمبر اور ریڈ کیٹیگریز میں تقسیم کرنے سے بھی آگاہ کیا گیا تاکہ اصلاحات اور فیصلوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p>مالی معاونت کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال25۔ 2024 کے دوران سرکاری اداروں کو دی جانے والی مجموعی حکومتی معاونت بڑھ کر 2,078 ارب روپے ہو گئی جس کی بڑی وجہ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے ایکویٹی میں اضافہ ہے جبکہ سبسڈیز میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس سرکاری اداروں کی جانب سے حکومت کو موصول ہونے والی رقوم بڑھ کر 2,119 ارب روپے ہو گئیں جس میں زیادہ ڈیویڈنڈز، ٹیکس وصولیاں اور حکومتی قرضوں پر سودی آمدن شامل ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے سرکاری اداروں کے قرضہ جاتی پروفائل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ مجموعی سطح پر سرکاری اداروں کا قرضہ بڑھ کر 9.57 کھرب روپے ہو گیا جس میں کیش ڈویلپمنٹ لونز، غیر ملکی ری لینٹ قرضے، بینک قرضے اور واجب الادا سود شامل ہیں۔اس کے علاوہ سرکاری اداروں میں غیر فنڈڈ پنشن واجبات کا تخمینہ تقریباً 2 کھرب روپے لگایا گیا جسے ایک بڑا وراثتی مالی خطرہ قرار دیا گیا۔ گارنٹیز اور دیگر آف بیلنس شیٹ ذمہ داریاں 2.16 کھرب روپے رپورٹ کی گئیں۔</p>
<p>چیئرمین نے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی شفافیت میں بہتری، آئی ایف آر ایس کے مطابق مالی معلومات کی یکجا کرنے اور ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے قیام پر تعریف کی جو شواہد پر مبنی فیصلوں میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت مالیاتی بہائو، قرضوں کی نقشہ بندی اور پنشن واجبات جیسے شعبوں میں بہتر نگرانی اور خطرات کی نشاندہی میں مدد فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ یہ بہتریاں مستند بنیاد فراہم کرتی ہیں جس پر پالیسی اقدامات اور مستقل اصلاحات کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے اور حکومت کی جانب سے اس عزم کو دہرایا کہ سرکاری ملکیتی اداروں کی گورننس بہتر بنانے، جوابدہی کو یقینی بنانے، اور انہیں مالی طور پر مستحکم اور عملی طور پر مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
<p>کمیٹی کے اراکین نے ایس او ایز ایکٹ 2023 کے مطابق آڈٹس کی بروقت تکمیل اور فروری 2026ء تک آئی ایف آر ایس پر مبنی رپورٹنگ کی منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ حقیقت پسندانہ بزنس پلانز، شعبہ جاتی مشاورت، خسارے میں کمی کی حکمت عملی اور مسلسل خسارہ کرنے والے اداروں کے لیے سخت بجٹ پابندیوں کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔</p>
<p>کابینہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ رپورٹ کے نتائج متعلقہ وزارتوں کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ اصلاحاتی اقدامات کو تقویت دی جا سکے جبکہ آڈٹس، گورننس اصلاحات، قرضوں کی تنظیم نو اور مالیاتی خطرات کے تدارک پر پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا رہے۔</p>
<p>کمیٹی نے سالانہ جامع کارکردگی رپورٹ کی اشاعت کی منظوری دیتے ہوئے اسے سرکاری اداروں کے انتظام میں شفافیت، احتساب اور موثر پالیسی سازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔</p>
<p>اجلاس میں اس سے قبل گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، جامشورو پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (جے پی سی ایل)، انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (ای آئی ڈی ایم سی)، انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او)، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) اور قبائلی علاقوں کی الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی بھی منظوری دی گئی۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281458</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 11:30:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/10111458f5c850d.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/10111458f5c850d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
