<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا قیمتی پتھروں کا شعبہ حکومتی توجہ کا مرکز بن گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281457/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے  ملک کے قیمتی پتھروں (جیم اسٹونز) کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بڑے اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے ایک جامع نئی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد اس صنعت کو جدید بنانا، عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا اور پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتی پتھروں کے ذخائر، شعبہ جاتی اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ قومی پالیسی میں طے کردہ عملی اقدامات کے ٹائم لائن پر موجودہ سال کے دوران سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں حکام نے وزیراعظم کو ملک میں قیمتی پتھروں کی صلاحیت، خطے کے ممالک کے ساتھ تقابلی جائزے، برآمدات بڑھانے کے لیے درکار اقدامات اور قومی پالیسی فریم ورک کے خدوخال اور اس کے نفاذ کے شیڈول پر تفصیلی بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق پاکستان میں قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 450 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس شعبے سے اس وقت پانچ ہزار سے زائد کمپنیاں اور کاروباری ادارے وابستہ ہیں، جو ملک میں پائے جانے والے 30 سے زائد اقسام کے قیمتی پتھروں کی پروسیسنگ کررہے ہیں۔ پاکستان میں نمایاں قیمتی پتھروں میں زمرد، پیریڈوٹ، یاقوت، ٹوپاز اور بلیو ٹوپاز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنے بڑے ذخائر کے باوجود یہ نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کی سالانہ جیم اسٹونز برآمدات محض 5.8 ملین ڈالر تک محدود ہیں۔ قومی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے دوران وزارتِ صنعت نے شعبے کو درپیش بنیادی چیلنجز کی نشاندہی کی اور ایک جامع ایکشن پلان مرتب کیا جس کا مقصد آئندہ پانچ برسوں میں اس شعبے کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کے لیے وضع کردہ پالیسی فریم ورک کے تحت وزارت قیمتی پتھروں کی ویلیو چین کو قومی معیشت میں مؤثر طور پر ضم کرنے، مقامی سطح پر پروسیسنگ کے ذریعے ویلیو ایڈیشن بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے، نجی شعبے کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرنے اور برانڈ پاکستان کے فروغ پر کام کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی فریم ورک میں متعدد اہم اقدامات شامل ہیں، جن میں بین الاقوامی سرٹیفکیشن نظام کا نفاذ، شعبے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک خودمختار اتھارٹی کا قیام، نیشنل وارنٹی آفس کا قیام، جیولوجیکل میپنگ، قیمتی پتھروں کی کان کنی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، برانڈ پاکستان کا فروغ اور سینٹرز آف ایکسیلنس کا قیام شامل ہے۔ اجلاس میں پالیسی فریم ورک پر عملدرآمد کے لیے ٹائم لائن بھی پیش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں قیمتی پتھروں کے وافر ذخائر کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں، صوبائی حکومتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مکمل مشاورت سے جیولوجیکل سرویز کرائے جائیں تاکہ ان وسائل کی جغرافیائی تقسیم اور مالیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے بین الاقوامی معیار کے مطابق لیبارٹریوں اور سرٹیفکیشن سسٹمز کے قیام کے لیے فوری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رواں سال قیمتی پتھروں کے لیے دو ماڈل سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کیے جائیں، جہاں بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ پالیسی پر عملدرآمد کے دوران درپیش چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کے شعبے کی بھرپور صلاحیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وسیع ذخائر کے باوجود برآمدات انتہائی کم ہیں، لہٰذا نجی شعبے بالخصوص نوجوان کاروباری افراد کی اس صنعت میں زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسمگلنگ کی روک تھام اور قانونی برآمدات کے فروغ سے ملک کو اربوں پاؤنڈ کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ اس شعبے کی ترقی کے لیے دستیاب فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے  ملک کے قیمتی پتھروں (جیم اسٹونز) کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بڑے اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے ایک جامع نئی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد اس صنعت کو جدید بنانا، عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا اور پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنانا ہے۔</strong></p>
<p>قیمتی پتھروں کے ذخائر، شعبہ جاتی اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ قومی پالیسی میں طے کردہ عملی اقدامات کے ٹائم لائن پر موجودہ سال کے دوران سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>اجلاس میں حکام نے وزیراعظم کو ملک میں قیمتی پتھروں کی صلاحیت، خطے کے ممالک کے ساتھ تقابلی جائزے، برآمدات بڑھانے کے لیے درکار اقدامات اور قومی پالیسی فریم ورک کے خدوخال اور اس کے نفاذ کے شیڈول پر تفصیلی بریفنگ دی۔</p>
<p>حکام کے مطابق پاکستان میں قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 450 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس شعبے سے اس وقت پانچ ہزار سے زائد کمپنیاں اور کاروباری ادارے وابستہ ہیں، جو ملک میں پائے جانے والے 30 سے زائد اقسام کے قیمتی پتھروں کی پروسیسنگ کررہے ہیں۔ پاکستان میں نمایاں قیمتی پتھروں میں زمرد، پیریڈوٹ، یاقوت، ٹوپاز اور بلیو ٹوپاز شامل ہیں۔</p>
<p>اتنے بڑے ذخائر کے باوجود یہ نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کی سالانہ جیم اسٹونز برآمدات محض 5.8 ملین ڈالر تک محدود ہیں۔ قومی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے دوران وزارتِ صنعت نے شعبے کو درپیش بنیادی چیلنجز کی نشاندہی کی اور ایک جامع ایکشن پلان مرتب کیا جس کا مقصد آئندہ پانچ برسوں میں اس شعبے کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔</p>
<p>اس سال کے لیے وضع کردہ پالیسی فریم ورک کے تحت وزارت قیمتی پتھروں کی ویلیو چین کو قومی معیشت میں مؤثر طور پر ضم کرنے، مقامی سطح پر پروسیسنگ کے ذریعے ویلیو ایڈیشن بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے، نجی شعبے کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرنے اور برانڈ پاکستان کے فروغ پر کام کرے گی۔</p>
<p>پالیسی فریم ورک میں متعدد اہم اقدامات شامل ہیں، جن میں بین الاقوامی سرٹیفکیشن نظام کا نفاذ، شعبے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک خودمختار اتھارٹی کا قیام، نیشنل وارنٹی آفس کا قیام، جیولوجیکل میپنگ، قیمتی پتھروں کی کان کنی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، برانڈ پاکستان کا فروغ اور سینٹرز آف ایکسیلنس کا قیام شامل ہے۔ اجلاس میں پالیسی فریم ورک پر عملدرآمد کے لیے ٹائم لائن بھی پیش کی گئی۔</p>
<p>ملک میں قیمتی پتھروں کے وافر ذخائر کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں، صوبائی حکومتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مکمل مشاورت سے جیولوجیکل سرویز کرائے جائیں تاکہ ان وسائل کی جغرافیائی تقسیم اور مالیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>وزیراعظم نے بین الاقوامی معیار کے مطابق لیبارٹریوں اور سرٹیفکیشن سسٹمز کے قیام کے لیے فوری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی۔</p>
<p>شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رواں سال قیمتی پتھروں کے لیے دو ماڈل سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کیے جائیں، جہاں بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ پالیسی پر عملدرآمد کے دوران درپیش چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔</p>
<p>وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کے شعبے کی بھرپور صلاحیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وسیع ذخائر کے باوجود برآمدات انتہائی کم ہیں، لہٰذا نجی شعبے بالخصوص نوجوان کاروباری افراد کی اس صنعت میں زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسمگلنگ کی روک تھام اور قانونی برآمدات کے فروغ سے ملک کو اربوں پاؤنڈ کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ اس شعبے کی ترقی کے لیے دستیاب فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281457</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 13:04:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/10104957c03f34d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/10104957c03f34d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
