<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا پیسکو اور کیسکو کے زیادہ نقصان والے فیڈرز کو سولر پر منتقل کرنے کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281449/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے زیادہ نقصان (ہائی لاس) والے بجلی کے فیڈرز کو شمسی توانائی (سولر) پر منتقل کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق یہ ہدایت اسلام آباد میں سولرائزیشن کے حوالے سے منعقدہ  اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران دی گئی۔ بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس اقدام سے ان فیڈرز کے نقصانات میں کمی آئے گی اور متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پیسکو اور کیسکو کے خسارے والے فیڈرز کی سولر انرجی پر منتقلی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ دورانِ اجلاس اس بات پر غور کیا گیا کہ ان فیڈرز کی سولر پر منتقلی سے مقامی آبادی کے لیے ماحول دوست، سستا اور پائیدار ’مائیکرو گرڈ‘ قائم ہوگا۔ اس منصوبے میں مقامی آبادی، صوبائی اور وفاقی حکومتیں شراکت دار ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سستی بجلی پیدا کرے گا بلکہ مستقبل میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات میں بھی نمایاں کمی لائے گا۔ وزیراعظم نے منصوبے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پائلٹ پراجیکٹ پر فوری کام شروع کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند سالوں کے دوران بجلی کے بار بار تعطل اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کی ایک بڑی تعداد سولر پاور سسٹمز پر منتقل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق 2025 کے اختتام تک پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ آف گرڈ سولر کی صلاحیت بڑھ کر 12,000 میگاواٹ ہو گئی۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی سولر مارکیٹس میں سے ایک بن کر سامنے آیا ہے، جس نے قیمتوں میں کمی اور مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کی بدولت سال کی پہلی ششماہی میں تقریباً 50 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے ہیں۔ اس اضافے نے پاکستان کو چینی سولر پینلز کی تیسری بڑی مارکیٹ بنا دیا ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے زیادہ نقصان (ہائی لاس) والے بجلی کے فیڈرز کو شمسی توانائی (سولر) پر منتقل کیا جائے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق یہ ہدایت اسلام آباد میں سولرائزیشن کے حوالے سے منعقدہ  اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران دی گئی۔ بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس اقدام سے ان فیڈرز کے نقصانات میں کمی آئے گی اور متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p>اجلاس میں پیسکو اور کیسکو کے خسارے والے فیڈرز کی سولر انرجی پر منتقلی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ دورانِ اجلاس اس بات پر غور کیا گیا کہ ان فیڈرز کی سولر پر منتقلی سے مقامی آبادی کے لیے ماحول دوست، سستا اور پائیدار ’مائیکرو گرڈ‘ قائم ہوگا۔ اس منصوبے میں مقامی آبادی، صوبائی اور وفاقی حکومتیں شراکت دار ہوں گی۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سستی بجلی پیدا کرے گا بلکہ مستقبل میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات میں بھی نمایاں کمی لائے گا۔ وزیراعظم نے منصوبے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پائلٹ پراجیکٹ پر فوری کام شروع کیا جائے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<p>گزشتہ چند سالوں کے دوران بجلی کے بار بار تعطل اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کی ایک بڑی تعداد سولر پاور سسٹمز پر منتقل ہو چکی ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق 2025 کے اختتام تک پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ آف گرڈ سولر کی صلاحیت بڑھ کر 12,000 میگاواٹ ہو گئی۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی سولر مارکیٹس میں سے ایک بن کر سامنے آیا ہے، جس نے قیمتوں میں کمی اور مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کی بدولت سال کی پہلی ششماہی میں تقریباً 50 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے ہیں۔ اس اضافے نے پاکستان کو چینی سولر پینلز کی تیسری بڑی مارکیٹ بنا دیا ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔</p>
<p>جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281449</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 17:28:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/091631275322709.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/091631275322709.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
