<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:41:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:41:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار نازک ’استحکام‘ کو بے نقاب کرتے ہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281448/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2025 میں پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر آ کر ٹھہری۔ بحران سے نمٹنے کے اقدامات بتدریج محدود استحکام میں تبدیل ہوئے، تاہم گہری ساختی کمزوریاں بدستور مجموعی معاشی ماحول پر اثرانداز رہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;37 ماہ پر مشتمل 7 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت دوسرے جائزے اور قسط کے اجرا نے منڈیوں اور پالیسی سازوں کو محض قلیل مدتی اعتماد فراہم کیا۔ اسی کے ساتھ اس نے بیرونی مالی معاونت اور پروگرام شرائط پر پاکستان کے مسلسل انحصار کو بھی مزید نمایاں کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل وابستگی طاقت کے بجائے کمزوری کی عکاس ہے۔ دیرینہ مالی مشکلات، برآمدی صلاحیت میں کمی اور بیرونی شعبے کی ناپائیداری نے پاکستان کی پالیسی خودمختاری کو محدود کر دیا ہے۔ چنانچہ 2025 میں پاکستان کا معاشی منظرنامہ اصلاحات پر مبنی ترقی کے بجائے ایڈجسٹمنٹ سے جڑے استحکام کے گرد گھومتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ &lt;strong&gt;’اسٹیٹسٹیکل بلیٹن دسمبر 2025‘&lt;/strong&gt; (’’بلیٹن‘‘) اس مبینہ استحکام ( جس کا دعویٰ کیا گیا ہے) کا جامع اور اعداد و شمار پر مبنی جائزہ پیش کرتا ہے، تاہم ساتھ ہی اس کی داخلی حدود کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیٹن میں شامل منتخب مالیاتی اشاریے اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ مجموعی معاشی توازن بنیادی طور پر طلب میں دباؤ (ڈیمانڈ کمپریشن) کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ پیداواری صلاحیت میں اضافے یا برآمدات میں توسیع کے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اعداد و شمار ایسی معیشت کی نشاندہی کرتے ہیں جو اپنی صلاحیت سے کم سطح پر کام کر رہی ہے، جہاں نام نہاد ” استحکام“ سخت مالی اور زرِمبادلہ پالیسیوں کے سماجی اور سرمایہ کاری اخراجات برداشت کر کے حاصل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیٹن کے مطابق وسیع مالیاتی مجموعات بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وسیع مالیاتی رسد (ایم ٹو) نومبر 2025 میں بڑھ کر 40,567,988 ملین روپے ہو گئی، جو جون 2024 میں 35,881,830 ملین روپے تھی۔ اسی طرح زیرِ گردش کرنسی نومبر 2025 میں بڑھ کر 10,790,707 ملین روپے تک پہنچ گئی، جو جون 2024 میں 9,153,099 ملین روپے تھی۔ اس نمایاں اضافے سے مسلسل افراطِ زر کے دباؤ اور نقدی پر مبنی معاشی رویّوں کے تسلسل کی عکاسی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی بنیاد کے دیگر اجزاء محدود ساختی تبدیلی کی تصدیق کرتے ہیں۔ نومبر 2025 میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ دیگر جمع شدہ رقم 45,667 ملین روپے رہی۔ نجی اور سرکاری شعبے کے اداروں کی جمع شدہ رقم نومبر 2025 میں 29,731,634 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ مقیم غیر ملکی کرنسی کی جمع شدہ رقم اسی ماہ 1,708,972 ملین روپے تھی۔ یہ اعداد و شمار بینکاری نظام میں مسلسل ڈالرائزیشن کے دباؤ کو اجاگر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی رسد پر اثر انداز ہونے والے عوامل حکومت کی قرض لینے کی بالادستی کو ظاہر کرتے ہیں۔ بینکاری نظام کے خالص غیر ملکی اثاثے نومبر 2025 میں 623,779 ملین روپے تک بہتر ہوئے، جو جون 2024 میں منفی 1,137,968 ملین روپے تھے۔ یہ بہتری بنیادی طور پر آئی ایم ایف کی معاونت اور متعلقہ ایڈجسٹمنٹ اقدامات سے متعلق بیرونی آمدنی کی عکاس ہے۔ خالص گھریلو اثاثے نومبر 2025 میں 39,944,209 ملین روپے تک پہنچ گئے۔ اس دوران حکومت کے شعبے کی خالص قرضہ کاری 34,404,283 ملین روپے تک بڑھ گئی، جو بینکاری نظام پر جاری مالی انحصار کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف بجٹ کی معاونت کے لیے قرضہ نومبر 2025 میں 33,342,144 ملین روپے تک پہنچ گیا، جو نجی شعبے کے قرض کی رکاوٹ واضح کرتا ہے۔ ریزرو منی جون 2024 میں 11,612,829 ملین روپے سے بڑھ کر نومبر 2025 میں 13,513,977 ملین روپے ہو گئی۔ یہ اعداد و شمار سخت مالیاتی نظم و نسق کے ساتھ مسلسل مالیاتی دباؤ کی تصدیق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی کے رویے سے بھی مزید بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ نومبر 2025 میں کل زیرِ گردش کرنسی 11,412,829 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ شیڈول بینکوں کی نقدی 621,633 ملین روپے رہی، جو صرف معمول کی آپریشنل لیکوئیڈیٹی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپازٹری کارپوریشنز کے سروے میں بھی یہی رجحان سامنے آتا ہے۔ اکتوبر 2025 میں ڈپازٹری کارپوریشنز کے خالص غیر ملکی اثاثے 703,185 ملین روپے رہے۔ غیر مقیموں پر دعوے 8,482,741 ملین روپے تک پہنچ گئے، جبکہ غیر مقیموں کے واجبات 7,779,555 ملین روپے تک تھے، جو بیرونی ذمہ داریوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گھریلو دعوے 50,368,752 ملین روپے تک بڑھ گئے، جو پیداواری قرض میں اضافے کے بجائے خسارے کی مالی اعانت کی بالادستی کو مزید واضح کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے بلیٹن میں بینکاری شعبے کو مالی طور پر منافع بخش مگر معاشی اعتبار سے علیحدہ دکھایا گیا ہے۔ شیڈول بینک نجی شعبے کو قرض دینے کے بجائے سرکاری سیکیورٹیز میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جمع شدہ رقم کا اضافہ پیداواری قرضوں میں منتقل نہیں ہوا۔ خودمختار اداروں کی جانب سے حکومت پر مرکوز سرمایہ کاری کی ساختی ترجیح ایک ایسی ناکامی کی عکاس ہے جو ترقی اور روزگار کو متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی شعبے کے اعداد و شمار 2025 میں حاصل شدہ استحکام کی ناپائیداری کو واضح کرتے ہیں۔ بیرونی توازن میں بہتری بنیادی طور پر درآمدات میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ برآمدات کی ساخت اور مسابقت میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی۔ کارکنوں کی ترسیلات زر اب بھی موجودہ کھاتہ کی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر طویل مدتی بیرونی مضبوطی کے بجائے توازن ادائیگی کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ادائیگی ریکارڈ اور پاکستان بیورو آف اسٹاٹسٹکس (پی بی ایس) کے کسٹمز ریکارڈ میں فرق ہم آہنگی کے خلاء کو ظاہر کرتا ہے۔ ادائیگی ریکارڈ برآمد شدہ محصول اور ادائیگیوں پر مرکوز ہیں، جبکہ کسٹمز ریکارڈ اشیاء کی جسمانی نقل و حرکت کا حساب رکھتا ہے۔ قیمت اور وقت کے فرق اب بھی موجود ہیں۔ تجارتی معلومات کے یکجا نہ ہونے سے پالیسی سازی کمزور ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان نے &lt;strong&gt;اعدادی استحکام&lt;/strong&gt; حاصل کر لیا ہے مگر کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ مسلسل مالیاتی عدم توازن، کم ٹیکس محصول کے باوجود بلند شرحیں، کمزور برآمدی تنوع، سطحی مالی وساطت اور محدود ادارہ جاتی ہم آہنگی واضح پالیسی ناکامیاں ہیں۔ مالیاتی سختی اور بینک مالی اعانت پر انحصار نے نجی سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کو دبایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو استحکام پر مرکوز پالیسی سازی سے پیداواریت پر مبنی اصلاحات کی طرف فیصلہ کن تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بینکاری نظام پر مالی انحصار کم کر کے نجی شعبے کے لیے قرض کی روانی بحال کرنی ہوگی۔ اس کے لیے ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنی ہوگی، بلند شرحیں معقول بنانی ہوں گی اور رضاکارانہ تعمیل کو بہتر کر کے قرض لینے کے دباؤ کو کم کرنا ہوگا۔ پاکستان کے ٹیکس نظام کی کئی کمزوریاں ہیں، جن میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور تمام صوبائی قوانین کے تحت خدمات پر سیلز ٹیکس کے پیچیدہ ودہولڈنگ ٹیکس نظام شامل ہیں۔ اس قسم کا غیر معقول ٹیکس نظام عملی طور پر غیر موثر، کاروبار مخالف، پیچیدہ، وقت طلب اور مہنگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;ودہولڈنگ ٹیکس نظام کو ختم کرنا چاہیے، سوائے پے رول، ڈیویڈنڈز، بینکوں سے سود کی آمدنی اور بیرونِ ملک مقیم افراد و اداروں کو کی جانے والی قابل ٹیکس ادائیگیوں کے۔ ٹیکس قوانین کو آسان اور عام فہم بنانے اور ٹیکس پالیسی کی اصلاح کے ایجنڈے پر عمل درآمد سے ٹیکس کی ادائیگی میں بہتری ممکن ہے&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;یہ ایجنڈا اس وقت موثر ہوگا جب عوامی تاثر میں بھی نمایاں بہتری آئے کہ ٹیکس حکام موثر، فنی مہارت، ایمانداری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے منصفانہ ٹیکس وصول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ وفاقی اور صوبائی ٹیکس اداروں کی کمزور اور منتشر ڈھانچہ مذکورہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ لہٰذا 2026 کا بنیادی چیلنج یہ ہے کہ ایک سادہ مگر موثر وفاقی ٹیکس نظام قائم کیا جائے، جسے ایک ماہر، ہنرمند اور خدمت پر مرکوز انتظامیہ چلائے، جو اس وقت موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر ٹیکس انتظامیہ پرانی اور فرسودہ ہے، اور اس میں ناکارکردگی، تربیت یافتہ عملے کی کمی، مطلوبہ بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی کمی نمایاں ہے۔ مناسب سطح کی ڈیجیٹل کاری، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی صلاحیتوں کا فقدان ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ٹیکس اصلاحات کا مطلب صرف قوانین میں معمولی ترمیم یا ظاہری تبدیلیاں کرنا نہیں ہے۔ آج تک پورے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں مالیاتی سختی اور بینکاری شعبے کے ذریعے خسارے کی مالی اعانت نے نجی سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کو دبا دیا۔ قابل اعتماد برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کی غیر موجودگی معیشت کو بار بار توازن ادائیگی کے بحران کے سامنے بے دفاع چھوڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل یہ ہے کہ برآمدات میں اضافہ اور ویلیو ایڈیشن کو مرکزی پالیسی ترجیحات بنایا جائے تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ کی مستقل آمد یقینی بنائی جا سکے۔ ساتھ ہی مالی، زرِمبادلہ اور تجارتی حکام کے درمیان ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط کر کے پالیسی کی مؤثریت کو بہتر بنایا جائے۔ پاکستان کی معاشی صلاحیت اب بھی کافی ہے، مگر اسے بروئے کار لانے کے لیے حکمرانی میں اصلاحات اور منضبط پالیسی سازی ضروری ہے، تا کہ بحران پر مبنی معاشی انتظام سے آزادی حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>2025 میں پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر آ کر ٹھہری۔ بحران سے نمٹنے کے اقدامات بتدریج محدود استحکام میں تبدیل ہوئے، تاہم گہری ساختی کمزوریاں بدستور مجموعی معاشی ماحول پر اثرانداز رہیں۔</strong></p>
<p>37 ماہ پر مشتمل 7 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت دوسرے جائزے اور قسط کے اجرا نے منڈیوں اور پالیسی سازوں کو محض قلیل مدتی اعتماد فراہم کیا۔ اسی کے ساتھ اس نے بیرونی مالی معاونت اور پروگرام شرائط پر پاکستان کے مسلسل انحصار کو بھی مزید نمایاں کر دیا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل وابستگی طاقت کے بجائے کمزوری کی عکاس ہے۔ دیرینہ مالی مشکلات، برآمدی صلاحیت میں کمی اور بیرونی شعبے کی ناپائیداری نے پاکستان کی پالیسی خودمختاری کو محدود کر دیا ہے۔ چنانچہ 2025 میں پاکستان کا معاشی منظرنامہ اصلاحات پر مبنی ترقی کے بجائے ایڈجسٹمنٹ سے جڑے استحکام کے گرد گھومتا رہا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ <strong>’اسٹیٹسٹیکل بلیٹن دسمبر 2025‘</strong> (’’بلیٹن‘‘) اس مبینہ استحکام ( جس کا دعویٰ کیا گیا ہے) کا جامع اور اعداد و شمار پر مبنی جائزہ پیش کرتا ہے، تاہم ساتھ ہی اس کی داخلی حدود کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔</p>
<p>بلیٹن میں شامل منتخب مالیاتی اشاریے اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ مجموعی معاشی توازن بنیادی طور پر طلب میں دباؤ (ڈیمانڈ کمپریشن) کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ پیداواری صلاحیت میں اضافے یا برآمدات میں توسیع کے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اعداد و شمار ایسی معیشت کی نشاندہی کرتے ہیں جو اپنی صلاحیت سے کم سطح پر کام کر رہی ہے، جہاں نام نہاد ” استحکام“ سخت مالی اور زرِمبادلہ پالیسیوں کے سماجی اور سرمایہ کاری اخراجات برداشت کر کے حاصل کیا گیا۔</p>
<p>بلیٹن کے مطابق وسیع مالیاتی مجموعات بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وسیع مالیاتی رسد (ایم ٹو) نومبر 2025 میں بڑھ کر 40,567,988 ملین روپے ہو گئی، جو جون 2024 میں 35,881,830 ملین روپے تھی۔ اسی طرح زیرِ گردش کرنسی نومبر 2025 میں بڑھ کر 10,790,707 ملین روپے تک پہنچ گئی، جو جون 2024 میں 9,153,099 ملین روپے تھی۔ اس نمایاں اضافے سے مسلسل افراطِ زر کے دباؤ اور نقدی پر مبنی معاشی رویّوں کے تسلسل کی عکاسی ہوتی ہے۔</p>
<hr />
<p>مالیاتی بنیاد کے دیگر اجزاء محدود ساختی تبدیلی کی تصدیق کرتے ہیں۔ نومبر 2025 میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ دیگر جمع شدہ رقم 45,667 ملین روپے رہی۔ نجی اور سرکاری شعبے کے اداروں کی جمع شدہ رقم نومبر 2025 میں 29,731,634 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ مقیم غیر ملکی کرنسی کی جمع شدہ رقم اسی ماہ 1,708,972 ملین روپے تھی۔ یہ اعداد و شمار بینکاری نظام میں مسلسل ڈالرائزیشن کے دباؤ کو اجاگر کرتے ہیں۔</p>
<p>مالیاتی رسد پر اثر انداز ہونے والے عوامل حکومت کی قرض لینے کی بالادستی کو ظاہر کرتے ہیں۔ بینکاری نظام کے خالص غیر ملکی اثاثے نومبر 2025 میں 623,779 ملین روپے تک بہتر ہوئے، جو جون 2024 میں منفی 1,137,968 ملین روپے تھے۔ یہ بہتری بنیادی طور پر آئی ایم ایف کی معاونت اور متعلقہ ایڈجسٹمنٹ اقدامات سے متعلق بیرونی آمدنی کی عکاس ہے۔ خالص گھریلو اثاثے نومبر 2025 میں 39,944,209 ملین روپے تک پہنچ گئے۔ اس دوران حکومت کے شعبے کی خالص قرضہ کاری 34,404,283 ملین روپے تک بڑھ گئی، جو بینکاری نظام پر جاری مالی انحصار کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>صرف بجٹ کی معاونت کے لیے قرضہ نومبر 2025 میں 33,342,144 ملین روپے تک پہنچ گیا، جو نجی شعبے کے قرض کی رکاوٹ واضح کرتا ہے۔ ریزرو منی جون 2024 میں 11,612,829 ملین روپے سے بڑھ کر نومبر 2025 میں 13,513,977 ملین روپے ہو گئی۔ یہ اعداد و شمار سخت مالیاتی نظم و نسق کے ساتھ مسلسل مالیاتی دباؤ کی تصدیق کرتے ہیں۔</p>
<p>کرنسی کے رویے سے بھی مزید بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ نومبر 2025 میں کل زیرِ گردش کرنسی 11,412,829 ملین روپے تک پہنچ گئی۔ شیڈول بینکوں کی نقدی 621,633 ملین روپے رہی، جو صرف معمول کی آپریشنل لیکوئیڈیٹی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>ڈپازٹری کارپوریشنز کے سروے میں بھی یہی رجحان سامنے آتا ہے۔ اکتوبر 2025 میں ڈپازٹری کارپوریشنز کے خالص غیر ملکی اثاثے 703,185 ملین روپے رہے۔ غیر مقیموں پر دعوے 8,482,741 ملین روپے تک پہنچ گئے، جبکہ غیر مقیموں کے واجبات 7,779,555 ملین روپے تک تھے، جو بیرونی ذمہ داریوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گھریلو دعوے 50,368,752 ملین روپے تک بڑھ گئے، جو پیداواری قرض میں اضافے کے بجائے خسارے کی مالی اعانت کی بالادستی کو مزید واضح کرتے ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے بلیٹن میں بینکاری شعبے کو مالی طور پر منافع بخش مگر معاشی اعتبار سے علیحدہ دکھایا گیا ہے۔ شیڈول بینک نجی شعبے کو قرض دینے کے بجائے سرکاری سیکیورٹیز میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جمع شدہ رقم کا اضافہ پیداواری قرضوں میں منتقل نہیں ہوا۔ خودمختار اداروں کی جانب سے حکومت پر مرکوز سرمایہ کاری کی ساختی ترجیح ایک ایسی ناکامی کی عکاس ہے جو ترقی اور روزگار کو متاثر کرتی ہے۔</p>
<p>بیرونی شعبے کے اعداد و شمار 2025 میں حاصل شدہ استحکام کی ناپائیداری کو واضح کرتے ہیں۔ بیرونی توازن میں بہتری بنیادی طور پر درآمدات میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ برآمدات کی ساخت اور مسابقت میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی۔ کارکنوں کی ترسیلات زر اب بھی موجودہ کھاتہ کی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر طویل مدتی بیرونی مضبوطی کے بجائے توازن ادائیگی کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ادائیگی ریکارڈ اور پاکستان بیورو آف اسٹاٹسٹکس (پی بی ایس) کے کسٹمز ریکارڈ میں فرق ہم آہنگی کے خلاء کو ظاہر کرتا ہے۔ ادائیگی ریکارڈ برآمد شدہ محصول اور ادائیگیوں پر مرکوز ہیں، جبکہ کسٹمز ریکارڈ اشیاء کی جسمانی نقل و حرکت کا حساب رکھتا ہے۔ قیمت اور وقت کے فرق اب بھی موجود ہیں۔ تجارتی معلومات کے یکجا نہ ہونے سے پالیسی سازی کمزور ہوئی ہے۔</p>
<p>مجموعی شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان نے <strong>اعدادی استحکام</strong> حاصل کر لیا ہے مگر کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ مسلسل مالیاتی عدم توازن، کم ٹیکس محصول کے باوجود بلند شرحیں، کمزور برآمدی تنوع، سطحی مالی وساطت اور محدود ادارہ جاتی ہم آہنگی واضح پالیسی ناکامیاں ہیں۔ مالیاتی سختی اور بینک مالی اعانت پر انحصار نے نجی سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کو دبایا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو استحکام پر مرکوز پالیسی سازی سے پیداواریت پر مبنی اصلاحات کی طرف فیصلہ کن تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بینکاری نظام پر مالی انحصار کم کر کے نجی شعبے کے لیے قرض کی روانی بحال کرنی ہوگی۔ اس کے لیے ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنی ہوگی، بلند شرحیں معقول بنانی ہوں گی اور رضاکارانہ تعمیل کو بہتر کر کے قرض لینے کے دباؤ کو کم کرنا ہوگا۔ پاکستان کے ٹیکس نظام کی کئی کمزوریاں ہیں، جن میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور تمام صوبائی قوانین کے تحت خدمات پر سیلز ٹیکس کے پیچیدہ ودہولڈنگ ٹیکس نظام شامل ہیں۔ اس قسم کا غیر معقول ٹیکس نظام عملی طور پر غیر موثر، کاروبار مخالف، پیچیدہ، وقت طلب اور مہنگا ہے۔</p>
<ul>
<li>ودہولڈنگ ٹیکس نظام کو ختم کرنا چاہیے، سوائے پے رول، ڈیویڈنڈز، بینکوں سے سود کی آمدنی اور بیرونِ ملک مقیم افراد و اداروں کو کی جانے والی قابل ٹیکس ادائیگیوں کے۔ ٹیکس قوانین کو آسان اور عام فہم بنانے اور ٹیکس پالیسی کی اصلاح کے ایجنڈے پر عمل درآمد سے ٹیکس کی ادائیگی میں بہتری ممکن ہے</li>
</ul>
<p>یہ ایجنڈا اس وقت موثر ہوگا جب عوامی تاثر میں بھی نمایاں بہتری آئے کہ ٹیکس حکام موثر، فنی مہارت، ایمانداری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے منصفانہ ٹیکس وصول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>موجودہ وفاقی اور صوبائی ٹیکس اداروں کی کمزور اور منتشر ڈھانچہ مذکورہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ لہٰذا 2026 کا بنیادی چیلنج یہ ہے کہ ایک سادہ مگر موثر وفاقی ٹیکس نظام قائم کیا جائے، جسے ایک ماہر، ہنرمند اور خدمت پر مرکوز انتظامیہ چلائے، جو اس وقت موجود نہیں ہے۔</p>
<p>وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر ٹیکس انتظامیہ پرانی اور فرسودہ ہے، اور اس میں ناکارکردگی، تربیت یافتہ عملے کی کمی، مطلوبہ بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی کمی نمایاں ہے۔ مناسب سطح کی ڈیجیٹل کاری، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی صلاحیتوں کا فقدان ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ٹیکس اصلاحات کا مطلب صرف قوانین میں معمولی ترمیم یا ظاہری تبدیلیاں کرنا نہیں ہے۔ آج تک پورے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔</p>
<p>2025 میں مالیاتی سختی اور بینکاری شعبے کے ذریعے خسارے کی مالی اعانت نے نجی سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کو دبا دیا۔ قابل اعتماد برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کی غیر موجودگی معیشت کو بار بار توازن ادائیگی کے بحران کے سامنے بے دفاع چھوڑتی ہے۔</p>
<p>حکومت کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل یہ ہے کہ برآمدات میں اضافہ اور ویلیو ایڈیشن کو مرکزی پالیسی ترجیحات بنایا جائے تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ کی مستقل آمد یقینی بنائی جا سکے۔ ساتھ ہی مالی، زرِمبادلہ اور تجارتی حکام کے درمیان ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط کر کے پالیسی کی مؤثریت کو بہتر بنایا جائے۔ پاکستان کی معاشی صلاحیت اب بھی کافی ہے، مگر اسے بروئے کار لانے کے لیے حکمرانی میں اصلاحات اور منضبط پالیسی سازی ضروری ہے، تا کہ بحران پر مبنی معاشی انتظام سے آزادی حاصل کی جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281448</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 17:33:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوریحزیمہ بخاری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/09164816a6d392f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/09164816a6d392f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
