<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی کے ٹرمپ کو کال نہ کرنے پر بھارت۔امریکا تجارتی معاہدہ تعطل کا شکار ہوا، امریکی سیکرٹری کامرس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281443/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معاہدہ طے کرنے کے لیے درکار فون کال نہیں کی۔ یہ بات امریکی کامرس سیکرٹری ہاورڈ لیوٹنک نے جمعے کو ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات پر کافی پیش رفت ہو چکی تھی لیکن آخری مرحلے میں معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے مودی کا براہ راست ٹرمپ سے رابطہ ضروری تھا جو بھارتی حکومت نے نہیں کیا۔ ان کے بقول، بھارتی حکام اس رابطے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاورڈ لیوٹنک نے یہ تبصرہ ایک امریکی ٹیک اور بزنس پوڈکاسٹ میں کیا جہاں انہوں نے کہا کہ معاہدہ تقریباً تیار تھا مگر ایک چھوٹا سا قدم باقی تھا جو نہ اٹھایا جا سکا۔ اس پس منظر میں پچھلے سال مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد ٹرمپ نے بھارت پر محصولات کی شرح دوگنی کر دی اور بھارتی اشیا پر ڈیوٹی بڑھا کر 50 فیصد تک کر دی جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس اضافی ٹیکس میں سے ایک حصہ روسی تیل کی خریداری کے ردعمل کے طور پر نافذ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اس ہفتے بھارت پر ایک مرتبہ پھر دباؤ بڑھایا اور خبردار کیا کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کی درآمدات کم نہ کرے تو محصولات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد بھارتی روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا لگا، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کے منتظر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاورڈ لیوٹنک نے بتایا کہ بھارت ایسا ٹیرف لیول چاہتا ہے جو امریکہ کے برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے درمیان ہو، مگر اس تجویز کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ بھارتی وزارت تجارت نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دونوں حکومتیں معاہدے کے انتہائی قریب تھیں مگر غیر مؤثر رابطے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ ایک بھارتی عہدیدار کے مطابق مودی کو اندیشہ تھا کہ براہ راست فون کال انہیں مشکل صورتحال سے دوچار کر سکتی تھی کیونکہ بات چیت غیر متوازن ہو سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معاہدہ طے کرنے کے لیے درکار فون کال نہیں کی۔ یہ بات امریکی کامرس سیکرٹری ہاورڈ لیوٹنک نے جمعے کو ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات پر کافی پیش رفت ہو چکی تھی لیکن آخری مرحلے میں معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے مودی کا براہ راست ٹرمپ سے رابطہ ضروری تھا جو بھارتی حکومت نے نہیں کیا۔ ان کے بقول، بھارتی حکام اس رابطے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔</strong></p>
<p>ہاورڈ لیوٹنک نے یہ تبصرہ ایک امریکی ٹیک اور بزنس پوڈکاسٹ میں کیا جہاں انہوں نے کہا کہ معاہدہ تقریباً تیار تھا مگر ایک چھوٹا سا قدم باقی تھا جو نہ اٹھایا جا سکا۔ اس پس منظر میں پچھلے سال مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد ٹرمپ نے بھارت پر محصولات کی شرح دوگنی کر دی اور بھارتی اشیا پر ڈیوٹی بڑھا کر 50 فیصد تک کر دی جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس اضافی ٹیکس میں سے ایک حصہ روسی تیل کی خریداری کے ردعمل کے طور پر نافذ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ٹرمپ نے اس ہفتے بھارت پر ایک مرتبہ پھر دباؤ بڑھایا اور خبردار کیا کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کی درآمدات کم نہ کرے تو محصولات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد بھارتی روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا لگا، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کے منتظر تھے۔</p>
<p>ہاورڈ لیوٹنک نے بتایا کہ بھارت ایسا ٹیرف لیول چاہتا ہے جو امریکہ کے برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے درمیان ہو، مگر اس تجویز کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ بھارتی وزارت تجارت نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دونوں حکومتیں معاہدے کے انتہائی قریب تھیں مگر غیر مؤثر رابطے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ ایک بھارتی عہدیدار کے مطابق مودی کو اندیشہ تھا کہ براہ راست فون کال انہیں مشکل صورتحال سے دوچار کر سکتی تھی کیونکہ بات چیت غیر متوازن ہو سکتی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281443</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:17:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/091414103a31493.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/091414103a31493.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
