<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:30:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:30:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی سینیٹ نے وینزویلا سے متعلق ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی تحریک پیش کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281439/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وینزویلا کے خلاف بلا اجازت فوجی طاقت کے استعمال سے روکنے کے لیے اہم قانونی پیش رفت کی ہے۔ 52-47 کے تناسب سے منظور ہونے والی اس تحریک میں پانچ ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی ہی پارٹی کے صدر کے خلاف ووٹ دے کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حالیہ ڈرامائی گرفتاری کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ قانون سازوں کا موقف ہے کہ انتظامیہ نے انہیں فوجی ارادوں کے بارے میں اندھیرے میں رکھا۔ قرارداد کے محرکین، سینیٹر رینڈ پال اور ٹم کین کے مطابق مادورو کی گرفتاری اور ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ جیسی دیگر مہم جوئی کے اشاروں نے کانگریس میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں ایسی قراردادیں بلاک کرنے والے کئی ریپبلکن اب انتظامیہ کے اقدامات پر عوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ امریکی سینیٹ اب غیر ملکی فوجی مداخلتوں پر صدر کے لامحدود اختیارات پر لگام ڈالنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قرارداد کا مقصد امریکی آئین کے ’آرٹیکل ایک کی اہمیت کو بحال کرنا ہے، جو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس (پارلیمنٹ) کو دیتا ہے نہ کہ صدر کو۔ سینیٹرز کا موقف ہے کہ وینزویلا میں فوجی مداخلت بغیر کسی پیشگی بحث کے امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وینزویلا کے خلاف بلا اجازت فوجی طاقت کے استعمال سے روکنے کے لیے اہم قانونی پیش رفت کی ہے۔ 52-47 کے تناسب سے منظور ہونے والی اس تحریک میں پانچ ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی ہی پارٹی کے صدر کے خلاف ووٹ دے کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔</strong></p>
<p>یہ اقدام وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حالیہ ڈرامائی گرفتاری کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ قانون سازوں کا موقف ہے کہ انتظامیہ نے انہیں فوجی ارادوں کے بارے میں اندھیرے میں رکھا۔ قرارداد کے محرکین، سینیٹر رینڈ پال اور ٹم کین کے مطابق مادورو کی گرفتاری اور ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ جیسی دیگر مہم جوئی کے اشاروں نے کانگریس میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>ماضی میں ایسی قراردادیں بلاک کرنے والے کئی ریپبلکن اب انتظامیہ کے اقدامات پر عوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ امریکی سینیٹ اب غیر ملکی فوجی مداخلتوں پر صدر کے لامحدود اختیارات پر لگام ڈالنا چاہتی ہے۔</p>
<p>اس قرارداد کا مقصد امریکی آئین کے ’آرٹیکل ایک کی اہمیت کو بحال کرنا ہے، جو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس (پارلیمنٹ) کو دیتا ہے نہ کہ صدر کو۔ سینیٹرز کا موقف ہے کہ وینزویلا میں فوجی مداخلت بغیر کسی پیشگی بحث کے امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281439</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:19:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/091329380547876.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/091329380547876.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
