<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دسمبر 2025 میں 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281438/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مجموعی آمد 3.59 بلین ڈالر رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال کے اسی مہینے میں ترسیلات 3.1 بلین ڈالر تھیں، اس لحاظ سے سالانہ بنیاد پر اضافہ تقریباً 16.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ماہانہ بنیاد پر بھی یہ آمد  نومبر کے 3.2 بلین ڈالر کے مقابلے میں  13 فیصد  زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں مجموعی ترسیلات 19.7 بلین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی مدت میں 17.8 بلین ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ترسیلات میں مسلسل اضافہ گزشتہ برسوں میں افرادی قوت کی زیادہ برآمد، انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ایکسچینج ریٹ میں کم شرح فرق اور ترغیباتی پیکج کے تسلسل کی وجہ سے ممکن ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی مالی سال 2026 کے لیے ترسیلات کا ہدف 41 بلین ڈالر برقرار رکھتی ہے، جو مالی سال 2025 کے 38 بلین ڈالر سے تقریباً 7.5 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے استحکام، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور ان گھرانوں کی قوت خرید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو بیرون ملک سے آنے والی رقم پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت بھی باضابطہ ذرائع کے استعمال اور ترغیبات کے ذریعے اس رجحان کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں اسٹیٹ بینک نے بتایا تھا کہ 2009 سے پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو کے تحت باضابطہ زر مبادلہ کی ترسیل کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مالی اداروں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 50 سے زائد ہوگئی ہے، جن میں روایتی، اسلامی اور مائیکرو فنانس بینکوں کے ساتھ ساتھ ایکسچینج کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی اداروں کی تعداد 45 سے بڑھ کر 400 کے قریب ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک سے ترسیلات&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ 813 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 8 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات سے ترسیلات 631 ملین ڈالر سے بڑھ کر 726 ملین ڈالر ہو گئیں، یعنی 15 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ سے آنے والی ترسیلات 560 ملین ڈالر رہیں، جو نومبر کے مقابلے میں 16 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 28 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ سے 302 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 1 فیصد کم لیکن ماہانہ بنیاد پر 9 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین ممالک سے آنے والی ترسیلات 499 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ 39 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مجموعی آمد 3.59 بلین ڈالر رہی۔</strong></p>
<p>گزشتہ سال کے اسی مہینے میں ترسیلات 3.1 بلین ڈالر تھیں، اس لحاظ سے سالانہ بنیاد پر اضافہ تقریباً 16.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ماہانہ بنیاد پر بھی یہ آمد  نومبر کے 3.2 بلین ڈالر کے مقابلے میں  13 فیصد  زیادہ رہی۔</p>
<p>مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں مجموعی ترسیلات 19.7 بلین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی مدت میں 17.8 بلین ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ترسیلات میں مسلسل اضافہ گزشتہ برسوں میں افرادی قوت کی زیادہ برآمد، انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ایکسچینج ریٹ میں کم شرح فرق اور ترغیباتی پیکج کے تسلسل کی وجہ سے ممکن ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی مالی سال 2026 کے لیے ترسیلات کا ہدف 41 بلین ڈالر برقرار رکھتی ہے، جو مالی سال 2025 کے 38 بلین ڈالر سے تقریباً 7.5 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے استحکام، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور ان گھرانوں کی قوت خرید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو بیرون ملک سے آنے والی رقم پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت بھی باضابطہ ذرائع کے استعمال اور ترغیبات کے ذریعے اس رجحان کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔</p>
<p>اگست میں اسٹیٹ بینک نے بتایا تھا کہ 2009 سے پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو کے تحت باضابطہ زر مبادلہ کی ترسیل کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مالی اداروں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 50 سے زائد ہوگئی ہے، جن میں روایتی، اسلامی اور مائیکرو فنانس بینکوں کے ساتھ ساتھ ایکسچینج کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی اداروں کی تعداد 45 سے بڑھ کر 400 کے قریب ہوچکی ہے۔</p>
<p>یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک سے ترسیلات</p>
<p>دسمبر 2025 میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ 813 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 8 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات سے ترسیلات 631 ملین ڈالر سے بڑھ کر 726 ملین ڈالر ہو گئیں، یعنی 15 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔</p>
<p>برطانیہ سے آنے والی ترسیلات 560 ملین ڈالر رہیں، جو نومبر کے مقابلے میں 16 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 28 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>امریکہ سے 302 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 1 فیصد کم لیکن ماہانہ بنیاد پر 9 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین ممالک سے آنے والی ترسیلات 499 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ 39 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281438</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 13:59:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/09135539ecc6a93.webp" type="image/webp" medium="image" height="395" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/09135539ecc6a93.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
