<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ میں امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ کے واقعات کے بعد کشیدگی میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281433/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف کشیدگی جمعرات کو بڑھ گئی جب دو دن میں امیگریشن اہلکاروں سے متعلق فائرنگ کا دوسرا واقعہ پیش آیا، جس سے ریاستی اور وفاقی حکام کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیسوٹا میں بدھ کے روز 37 سالہ ماں رینی نکول گڈ کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ  اہلکار نے ہلاک کر دیا، جس کے بعد مظاہرے شدت اختیار کر گئے۔ ریاستی اور وفاقی حکام نے واقعے کی مختلف وضاحتیں پیش کیں اور ریاستی تفتیش کاروں نے شکایت کی کہ انہیں وفاقی تحقیقات سے باہر رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اوریگون میں جمعرات کو ایک بارڈر پیٹرول اہلکار نے پورٹ لینڈ میں ایک مرد اور ایک عورت کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ مقامی حکام نے فوری طور پر امن قائم رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ وفاقی حکام کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں واقعات میں ڈیموکریٹک میئرز اور گورنرز نے وفاقی اہلکاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا، جنہیں زیادہ تر ڈیموکریٹک زیر قیادت شہروں میں تعینات کیا گیا۔ مظاہرے کرنے والوں اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے ان آپریشنز کو غیر ضروری اشتعال انگیزی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے ممکنہ شہری بدامنی کے پیش نظر نیشنل گارڈ کو الرٹ کر دیا۔ سینکڑوں مظاہرین نے منیسوٹا میں وفاقی اہلکاروں کے خلاف نعرے بازی کی، کچھ اہلکاروں نے مظاہرین پر آنسو گیس اور پیپر بالز استعمال کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرنے والی رینی نکول گڈ کی 15 سالہ بیٹی اور دو کم عمر بیٹے تھے۔ مقامی کمیونٹی کے نمائندوں نے کہا کہ نکول گڈ محض پڑوس کی نگرانی کرنے والے رضا کاروں کی ٹیم کے ساتھ شامل تھیں اور ان پر مہلک طاقت استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہلکاروں نے نکول گڈ کی گاڑی کے قریب آ کر فائرنگ کی، تاہم یہ واضح نہیں کہ گاڑی اہلکار سے ٹکرائی یا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں پر کہا کہ عورت نے سرکاری اہلکار کو گاڑی سے روند ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ امریکہ میں امیگریشن پالیسی کے نفاذ اور وفاقی و ریاستی حکام کے درمیان جاری تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف کشیدگی جمعرات کو بڑھ گئی جب دو دن میں امیگریشن اہلکاروں سے متعلق فائرنگ کا دوسرا واقعہ پیش آیا، جس سے ریاستی اور وفاقی حکام کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو گئے۔</strong></p>
<p>منیسوٹا میں بدھ کے روز 37 سالہ ماں رینی نکول گڈ کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ  اہلکار نے ہلاک کر دیا، جس کے بعد مظاہرے شدت اختیار کر گئے۔ ریاستی اور وفاقی حکام نے واقعے کی مختلف وضاحتیں پیش کیں اور ریاستی تفتیش کاروں نے شکایت کی کہ انہیں وفاقی تحقیقات سے باہر رکھا گیا۔</p>
<p>ادھر اوریگون میں جمعرات کو ایک بارڈر پیٹرول اہلکار نے پورٹ لینڈ میں ایک مرد اور ایک عورت کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ مقامی حکام نے فوری طور پر امن قائم رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ وفاقی حکام کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکتے۔</p>
<p>دونوں واقعات میں ڈیموکریٹک میئرز اور گورنرز نے وفاقی اہلکاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا، جنہیں زیادہ تر ڈیموکریٹک زیر قیادت شہروں میں تعینات کیا گیا۔ مظاہرے کرنے والوں اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے ان آپریشنز کو غیر ضروری اشتعال انگیزی قرار دیا۔</p>
<p>منیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے ممکنہ شہری بدامنی کے پیش نظر نیشنل گارڈ کو الرٹ کر دیا۔ سینکڑوں مظاہرین نے منیسوٹا میں وفاقی اہلکاروں کے خلاف نعرے بازی کی، کچھ اہلکاروں نے مظاہرین پر آنسو گیس اور پیپر بالز استعمال کیے۔</p>
<p>مرنے والی رینی نکول گڈ کی 15 سالہ بیٹی اور دو کم عمر بیٹے تھے۔ مقامی کمیونٹی کے نمائندوں نے کہا کہ نکول گڈ محض پڑوس کی نگرانی کرنے والے رضا کاروں کی ٹیم کے ساتھ شامل تھیں اور ان پر مہلک طاقت استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔</p>
<p>ویڈیو شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہلکاروں نے نکول گڈ کی گاڑی کے قریب آ کر فائرنگ کی، تاہم یہ واضح نہیں کہ گاڑی اہلکار سے ٹکرائی یا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں پر کہا کہ عورت نے سرکاری اہلکار کو گاڑی سے روند ڈالا۔</p>
<p>یہ واقعہ امریکہ میں امیگریشن پالیسی کے نفاذ اور وفاقی و ریاستی حکام کے درمیان جاری تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281433</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:07:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0912051816a729f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0912051816a729f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
