<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:32:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:32:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان سرزمین سے دہشت گردی کابل کے ساتھ واحد دو طرفہ مسئلہ ہے ، دفترِ خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281414/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اسلام آباد اور کابل کے درمیان واحد دو طرفہ مسئلہ ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اور مصدقہ یقین دہانیاں کرائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا اور تعلقات میں بہتری کا خواہشمند ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ پہلے حل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارا سوائے اس کی سرزمین سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے کوئی دو طرفہ تنازع نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس بات کی معتبر اور تحریری یقین دہانیوں کی ضرورت ہے کہ ایسی سرگرمیاں روک دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2009151521108226449?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009151521108226449%7Ctwgr%5Eab727aa256b7c3e1a38677b95f4731bbd1bbc41f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40401242'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2009151521108226449?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009151521108226449%7Ctwgr%5Eab727aa256b7c3e1a38677b95f4731bbd1bbc41f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40401242"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد نے مستقل طور پر کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان پر حملوں میں ملوث عناصر خاص طور پر ’فتنہ الخوارج‘ (کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے ریاست کی جانب سے مقرر کردہ اصطلاح) کے خلاف موثر کارروائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان سے تحریری اور قابلِ تصدیق وعدوں کی توقع رکھتا ہے کہ افغان سرزمین اپنے ہمسایہ ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ  یہ مطالبہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ہمیں ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانیاں موصول نہیں ہو جاتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے حل سے دو طرفہ تعلقات کی بہتری کے لیے بڑی راہیں کھل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے کہا کہ افغانستان ایک لینڈ لاک (چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا) ملک ہونے کے ناطے، اگر سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوتی ہے تو وہ علاقائی رابطوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  علاقائی رابطوں کے منصوبوں کی صلاحیت بہت زیادہ ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردی پر پختہ وعدے کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ان الزامات کے درمیان اسلام آباد اور کابل کے درمیان تناؤ برقرار ہے کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہ حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کے بعد پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر میں افغانستان کے اندر سرحد پار حملے کیے تھے۔11 اکتوبر کو ابتدائی جھڑپوں کے بعد پاک افغان سرحد پر متعدد واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جس میں پاکستانی حملوں نے افغانستان کے اندر گل بہادر گروپ سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کسی قابلِ عمل نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ رواں ماہ کے آغاز میں فوجی ترجمان نے افغان طالبان کو ان دہشت گرد گروہوں کی ”بنیادی تنظیم“  قرار دیا تھا جو 2021 سے مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی سفارت کاری پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان چین-افغانستان-پاکستان سہ فریقی وزرائے خارجہ مذاکرات کے ذریعے بات چیت جاری رکھے گا اور انہوں نے اسے افغانستان سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ایک مثبت فریم ورک قرار دیا۔ تاہم انہوں نے دہرایا کہ پیش رفت کا دارومدار کابل کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی پر تحریری اور قابلِ تصدیق وعدوں پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقین دہانیوں کی عدم موجودگی کے باوجود ترجمان نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی ذرائع کھلے ہیں، ہمارے سفارت خانے اور قونصل خانے کام کر رہے ہیں اور معمول کی سفارتی بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اسلام آباد اور کابل کے درمیان واحد دو طرفہ مسئلہ ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اور مصدقہ یقین دہانیاں کرائیں۔</strong></p>
<p>ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا اور تعلقات میں بہتری کا خواہشمند ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ پہلے حل ہونا چاہیے۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارا سوائے اس کی سرزمین سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے کوئی دو طرفہ تنازع نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس بات کی معتبر اور تحریری یقین دہانیوں کی ضرورت ہے کہ ایسی سرگرمیاں روک دی جائیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2009151521108226449?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009151521108226449%7Ctwgr%5Eab727aa256b7c3e1a38677b95f4731bbd1bbc41f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40401242'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2009151521108226449?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009151521108226449%7Ctwgr%5Eab727aa256b7c3e1a38677b95f4731bbd1bbc41f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40401242"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد نے مستقل طور پر کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان پر حملوں میں ملوث عناصر خاص طور پر ’فتنہ الخوارج‘ (کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے ریاست کی جانب سے مقرر کردہ اصطلاح) کے خلاف موثر کارروائی کرے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان سے تحریری اور قابلِ تصدیق وعدوں کی توقع رکھتا ہے کہ افغان سرزمین اپنے ہمسایہ ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ  یہ مطالبہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ہمیں ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانیاں موصول نہیں ہو جاتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے حل سے دو طرفہ تعلقات کی بہتری کے لیے بڑی راہیں کھل سکتی ہیں۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے کہا کہ افغانستان ایک لینڈ لاک (چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا) ملک ہونے کے ناطے، اگر سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوتی ہے تو وہ علاقائی رابطوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  علاقائی رابطوں کے منصوبوں کی صلاحیت بہت زیادہ ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردی پر پختہ وعدے کیے جائیں۔</p>
<p>پاکستان کے ان الزامات کے درمیان اسلام آباد اور کابل کے درمیان تناؤ برقرار ہے کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہ حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کے بعد پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر میں افغانستان کے اندر سرحد پار حملے کیے تھے۔11 اکتوبر کو ابتدائی جھڑپوں کے بعد پاک افغان سرحد پر متعدد واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جس میں پاکستانی حملوں نے افغانستان کے اندر گل بہادر گروپ سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔</p>
<p>قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کسی قابلِ عمل نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ رواں ماہ کے آغاز میں فوجی ترجمان نے افغان طالبان کو ان دہشت گرد گروہوں کی ”بنیادی تنظیم“  قرار دیا تھا جو 2021 سے مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔</p>
<p>علاقائی سفارت کاری پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان چین-افغانستان-پاکستان سہ فریقی وزرائے خارجہ مذاکرات کے ذریعے بات چیت جاری رکھے گا اور انہوں نے اسے افغانستان سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ایک مثبت فریم ورک قرار دیا۔ تاہم انہوں نے دہرایا کہ پیش رفت کا دارومدار کابل کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی پر تحریری اور قابلِ تصدیق وعدوں پر ہے۔</p>
<p>یقین دہانیوں کی عدم موجودگی کے باوجود ترجمان نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی ذرائع کھلے ہیں، ہمارے سفارت خانے اور قونصل خانے کام کر رہے ہیں اور معمول کی سفارتی بات چیت جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281414</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 19:59:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/08193910b8d799a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/08193910b8d799a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
