<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:29:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:29:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سڈنی : آسٹریلیا کی ایشیز میں بڑی فتح ، سمتھ کا اسٹوکس کے ساتھ جشن کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281408/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلوی کپتان اسٹیو سمتھ نے  کہا  ہے کہ وہ بین اسٹوکس کے ساتھ بیٹھ کر مشروب پئیں گے اور اس  خوشگوار ایشیز سیریز کی یادیں تازہ کریں گے۔ انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں ہر طرح کے حالات کے مطابق ڈھلنے پر اپنی ٹیم کی بھرپور تعریف کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزبان ٹیم نے پانچویں دن لنچ کے بعد سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی اور ایشیز ٹرافی  مزید 18 ماہ کے لیے اپنے پاس محفوظ کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس سیریز کے کانٹے دار ہونے کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن آسٹریلیا نے چند اہم کھلاڑیوں کی غیر موجودگی کے باوجود تمام شعبوں میں برتری ثابت کرتے ہوئے پہلے تین ٹیسٹ میچوں میں ہی سیریز کا فیصلہ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمتھ نے سڈنی ٹیسٹ میں حاصل ہونے والے پوائنٹس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا سیریز کا اختتام جیت کے ساتھ کرنا اچھا رہا، ہم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے حوالے سے ہر ٹیسٹ میچ کی اہمیت سے واقف ہیں۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کا ایک بہترین مقابلہ تھا اور یہ فتح ہماری سخت محنت کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیز گیند باز جوش ہیزل ووڈ انجری کی وجہ سے پوری سیریز سے باہر رہے اور پیٹ کمنز نے بھی صرف ایک ٹیسٹ کھیلا، ایسے میں تجربہ کار لیفٹ آرم باؤلر مچل اسٹارک نے حملے کی قیادت کی اور سیریز میں سب سے زیادہ 31 وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی جانب سے دوسری نمایاں کارکردگی ٹریوس ہیڈ کی رہی، جنہوں نے پرتھ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں عثمان خواجہ کی کمر میں تکلیف کے بعد بطور اوپنر پروموٹ ہونے پر تین سنچریاں داغ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کے باوجود سمتھ کا کہنا تھا کہ یہ ایک ٹیم ورک تھا۔ انہوں نے کہا نوجوانوں نے مختلف حالات میں ہمت دکھائی اور ہر کسی نے اپنی ذمہ داری پوری کی، ہمیں اس پر فخر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری ٹیم تجربہ کار ہے، ہم نے گزشتہ چار پانچ سال میں بہترین کرکٹ کھیلی ہے اور دو بار ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کا حصہ رہے ہیں۔ اس ٹیم کا حصہ ہونا اعزاز کی بات ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان پچوں پر کیسے کھیلنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف انگلینڈ کی ٹیم مایوس ہو کر وطن واپس روانہ ہو رہی ہے جہاں اسے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ سمتھ نے ’ٹی این ٹی اسپورٹس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ارادہ اپنے حریف کپتان بین اسٹوکس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمتھ نے مزید کہا کہ میں نے اسٹوکس سے کہا ہے کہ ’آؤ مل کر بیٹھتے ہیں‘۔ مجھے یقین ہے کہ ہم انگلش کھلاڑیوں سے ملیں گے اور اس یادگار سیریز پر بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلوی کپتان اسٹیو سمتھ نے  کہا  ہے کہ وہ بین اسٹوکس کے ساتھ بیٹھ کر مشروب پئیں گے اور اس  خوشگوار ایشیز سیریز کی یادیں تازہ کریں گے۔ انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں ہر طرح کے حالات کے مطابق ڈھلنے پر اپنی ٹیم کی بھرپور تعریف کی۔</strong></p>
<p>میزبان ٹیم نے پانچویں دن لنچ کے بعد سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی اور ایشیز ٹرافی  مزید 18 ماہ کے لیے اپنے پاس محفوظ کر لی۔</p>
<p>اگرچہ اس سیریز کے کانٹے دار ہونے کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن آسٹریلیا نے چند اہم کھلاڑیوں کی غیر موجودگی کے باوجود تمام شعبوں میں برتری ثابت کرتے ہوئے پہلے تین ٹیسٹ میچوں میں ہی سیریز کا فیصلہ کر دیا تھا۔</p>
<p>سمتھ نے سڈنی ٹیسٹ میں حاصل ہونے والے پوائنٹس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا سیریز کا اختتام جیت کے ساتھ کرنا اچھا رہا، ہم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے حوالے سے ہر ٹیسٹ میچ کی اہمیت سے واقف ہیں۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کا ایک بہترین مقابلہ تھا اور یہ فتح ہماری سخت محنت کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>تیز گیند باز جوش ہیزل ووڈ انجری کی وجہ سے پوری سیریز سے باہر رہے اور پیٹ کمنز نے بھی صرف ایک ٹیسٹ کھیلا، ایسے میں تجربہ کار لیفٹ آرم باؤلر مچل اسٹارک نے حملے کی قیادت کی اور سیریز میں سب سے زیادہ 31 وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>آسٹریلیا کی جانب سے دوسری نمایاں کارکردگی ٹریوس ہیڈ کی رہی، جنہوں نے پرتھ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں عثمان خواجہ کی کمر میں تکلیف کے بعد بطور اوپنر پروموٹ ہونے پر تین سنچریاں داغ دیں۔</p>
<p>کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کے باوجود سمتھ کا کہنا تھا کہ یہ ایک ٹیم ورک تھا۔ انہوں نے کہا نوجوانوں نے مختلف حالات میں ہمت دکھائی اور ہر کسی نے اپنی ذمہ داری پوری کی، ہمیں اس پر فخر ہے۔</p>
<p>ہماری ٹیم تجربہ کار ہے، ہم نے گزشتہ چار پانچ سال میں بہترین کرکٹ کھیلی ہے اور دو بار ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کا حصہ رہے ہیں۔ اس ٹیم کا حصہ ہونا اعزاز کی بات ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان پچوں پر کیسے کھیلنا ہے۔</p>
<p>دوسری طرف انگلینڈ کی ٹیم مایوس ہو کر وطن واپس روانہ ہو رہی ہے جہاں اسے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ سمتھ نے ’ٹی این ٹی اسپورٹس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ارادہ اپنے حریف کپتان بین اسٹوکس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے کا ہے۔</p>
<p>سمتھ نے مزید کہا کہ میں نے اسٹوکس سے کہا ہے کہ ’آؤ مل کر بیٹھتے ہیں‘۔ مجھے یقین ہے کہ ہم انگلش کھلاڑیوں سے ملیں گے اور اس یادگار سیریز پر بات کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281408</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 14:58:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/08144917fbd84db.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/08144917fbd84db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
