<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی حملے میں 100 افراد ہلاک ہوئے، وینیزویلا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281405/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینیزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے بدھ کی رات بتایا کہ ہفتہ کے روز صدر نکولاس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے والی امریکی کارروائی میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی جانب سے جانی نقصان کی واضح تعداد پیش کی گئی ہے۔ اس سے قبل فوج نے اپنے 23 اہلکاروں کی فہرست جاری کی تھی جو اس کارروائی میں مارے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابیو نے اپنے ہفتہ وار سرکاری ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ کارروائی کے دوران مادورو کے ذاتی محافظ دستے کو شدید نقصان پہنچا اور ان کے اندر بڑی تعداد میں اہلکاروں کو قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وینیزویلا کی جانب سے جانی نقصان کی درست گنتی جاری ہے، کیونکہ کچھ لاپتا افراد، زخمی اہلکاروں اور مارے گئے سپاہیوں کی شناخت میں وقت درکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینیزویلا نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ ایک منظم فوجی اقدام تھا جس میں نہ صرف صدر کو گرفتار کیا گیا بلکہ ان کے قریبی حلقے اور سرکاری سیکیورٹی اداروں کے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کیوبا کے فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار جو وینیزویلا میں خدمات انجام دے رہے تھے، وہ بھی کارروائی کے دوران مارے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابیو نے بتایا کہ مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس، جنہیں صدر کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، اس کارروائی میں سر پر چوٹ لگنے سے زخمی ہوئیں، جبکہ مادورو کے پاؤں پر بھی زخم آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی عارضی قیادت نے فوجی اہلکاروں اور سیکیورٹی دستوں کے لیے ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا ہے جنہوں نے، کابیو کے بقول، ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں دیں۔ یہاں حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ممکنہ اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ صورتحال تاحال واضح نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وینیزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے بدھ کی رات بتایا کہ ہفتہ کے روز صدر نکولاس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے والی امریکی کارروائی میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی جانب سے جانی نقصان کی واضح تعداد پیش کی گئی ہے۔ اس سے قبل فوج نے اپنے 23 اہلکاروں کی فہرست جاری کی تھی جو اس کارروائی میں مارے گئے۔</strong></p>
<p><strong>کابیو نے اپنے ہفتہ وار سرکاری ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ کارروائی کے دوران مادورو کے ذاتی محافظ دستے کو شدید نقصان پہنچا اور ان کے اندر بڑی تعداد میں اہلکاروں کو قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وینیزویلا کی جانب سے جانی نقصان کی درست گنتی جاری ہے، کیونکہ کچھ لاپتا افراد، زخمی اہلکاروں اور مارے گئے سپاہیوں کی شناخت میں وقت درکار ہے۔</strong></p>
<p><strong>وینیزویلا نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ ایک منظم فوجی اقدام تھا جس میں نہ صرف صدر کو گرفتار کیا گیا بلکہ ان کے قریبی حلقے اور سرکاری سیکیورٹی اداروں کے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کیوبا کے فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار جو وینیزویلا میں خدمات انجام دے رہے تھے، وہ بھی کارروائی کے دوران مارے گئے۔</strong></p>
<p><strong>کابیو نے بتایا کہ مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس، جنہیں صدر کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، اس کارروائی میں سر پر چوٹ لگنے سے زخمی ہوئیں، جبکہ مادورو کے پاؤں پر بھی زخم آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی عارضی قیادت نے فوجی اہلکاروں اور سیکیورٹی دستوں کے لیے ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا ہے جنہوں نے، کابیو کے بقول، ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں دیں۔ یہاں حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ممکنہ اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ صورتحال تاحال واضح نہیں۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281405</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 14:30:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/08142740dc493d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/08142740dc493d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
