<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:32:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:32:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج مں پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب، 100 انڈیکس تقریباً ایک ہزار پوائنٹس گنوابیٹھا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے باعث 100 انڈیکس تقریباً ایک ہزار پوائنٹس گنوابیٹھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز منفی زون میں ہوا، ابتدائی اوقات میں 100 انڈیکس میں نمایاں کمی دیکھی گئی تاہم دوپہر کے وقت مارکیٹ میں جزوی بحالی آئی اور خریداری کے رجحان کے باعث انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 187,905 پوائنٹس تک جاپہنچاا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بحالی برقرار نہ رہ سکی اور فروخت کے دباؤ نے ایک بار پھر سر اٹھایا جو منافع سمیٹنے کے رجحان کے باعث ٹریڈنگ کے آخری گھنٹے میں شدید ہوگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 185,199.36 پوائنٹس تک گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 975.70 پوائنٹس یا 0.52 فیصد کی کمی سے185,543.01 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا جہاں مسلسل خریداری کے رجحان نے مختلف شعبوں کی بھرپور شرکت کے ساتھ بینچ مارک انڈیکس کو نئی تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,456.61 پوائنٹس یا 0.79 فیصد اضافے کے بعد ریکارڈ 186,518.72 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو تیل کی قیمتیں حالیہ کمی کے بعد مستحکم رہیں، تاہم سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکی لیبر مارکیٹ کے ملے جلے اعداد و شمار کے اثرات کا جائزہ لینے کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی آغاز دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اعلیٰ حکام نے بدھ کو کہا کہ وینزویلا کی معیشت کو مستحکم کرنے، اس کے تیل شعبے کی بحالی اور اسے امریکا کے مفادات کے مطابق کردار ادا کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وینزویلا کی تیل فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کو غیر معینہ مدت تک کنٹرول میں رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں امریکا نے اسی روز بحرِ اوقیانوس میں وینزویلا سے منسلک دو تیل بردار جہاز ضبط کرلیے جن میں سے ایک روسی پرچم تلے سفر کررہا تھا۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے براعظم امریکا میں تیل کی ترسیل اور بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی جارحانہ پالیسی کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا میں نکولس مادورو کی معزولی کے بعد وہاں کی صورتحال بدستور سرخیوں میں ہے اور اب تک اس کے اثرات زیادہ تر کموڈٹی مارکیٹس میں دیکھے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایشیائی سیشن میں حصص بازاروں میں ملا جلا رجحان رہا۔ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود نئے سال کے مضبوط آغاز نے مارکیٹس کو نئی بلند ترین سطح تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسفک خطے میں جاپان کے علاوہ حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور یہ کبھی منفی تو کبھی مثبت زون میں جاتا رہا، جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.74 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر نیسڈک فیوچرز میں 0.02 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.05 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ یورپی مارکیٹس کے فیوچرز بھی مندی میں کاروبار کرتے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.05 پر بند ہوئی، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں 0.01 روپے (ایک پیسہ) کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 1,329.5 ملین سے بڑھ کر 1,433.9 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 86.59 ارب روپے سے بہتر ہو کر 91.34 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آغا اسٹیل انڈسٹریز 131.88 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی، جس کے بعد پاک الیکٹرون 76.29 ملین شیئرز اور ہیسکول پٹرول 59.91 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو مجموعی طور پر &lt;strong&gt;481&lt;/strong&gt; کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے &lt;strong&gt;209&lt;/strong&gt; کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، &lt;strong&gt;245&lt;/strong&gt; میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ &lt;strong&gt;27&lt;/strong&gt; کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/08171533437628a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/08171533437628a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے باعث 100 انڈیکس تقریباً ایک ہزار پوائنٹس گنوابیٹھا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز منفی زون میں ہوا، ابتدائی اوقات میں 100 انڈیکس میں نمایاں کمی دیکھی گئی تاہم دوپہر کے وقت مارکیٹ میں جزوی بحالی آئی اور خریداری کے رجحان کے باعث انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 187,905 پوائنٹس تک جاپہنچاا۔</p>
<p>تاہم یہ بحالی برقرار نہ رہ سکی اور فروخت کے دباؤ نے ایک بار پھر سر اٹھایا جو منافع سمیٹنے کے رجحان کے باعث ٹریڈنگ کے آخری گھنٹے میں شدید ہوگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 185,199.36 پوائنٹس تک گرگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 975.70 پوائنٹس یا 0.52 فیصد کی کمی سے185,543.01 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا جہاں مسلسل خریداری کے رجحان نے مختلف شعبوں کی بھرپور شرکت کے ساتھ بینچ مارک انڈیکس کو نئی تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,456.61 پوائنٹس یا 0.79 فیصد اضافے کے بعد ریکارڈ 186,518.72 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو تیل کی قیمتیں حالیہ کمی کے بعد مستحکم رہیں، تاہم سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکی لیبر مارکیٹ کے ملے جلے اعداد و شمار کے اثرات کا جائزہ لینے کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی آغاز دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>امریکی اعلیٰ حکام نے بدھ کو کہا کہ وینزویلا کی معیشت کو مستحکم کرنے، اس کے تیل شعبے کی بحالی اور اسے امریکا کے مفادات کے مطابق کردار ادا کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وینزویلا کی تیل فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کو غیر معینہ مدت تک کنٹرول میں رکھا جائے۔</p>
<p>اسی تناظر میں امریکا نے اسی روز بحرِ اوقیانوس میں وینزویلا سے منسلک دو تیل بردار جہاز ضبط کرلیے جن میں سے ایک روسی پرچم تلے سفر کررہا تھا۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے براعظم امریکا میں تیل کی ترسیل اور بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی جارحانہ پالیسی کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔</p>
<p>وینزویلا میں نکولس مادورو کی معزولی کے بعد وہاں کی صورتحال بدستور سرخیوں میں ہے اور اب تک اس کے اثرات زیادہ تر کموڈٹی مارکیٹس میں دیکھے جارہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایشیائی سیشن میں حصص بازاروں میں ملا جلا رجحان رہا۔ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود نئے سال کے مضبوط آغاز نے مارکیٹس کو نئی بلند ترین سطح تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسفک خطے میں جاپان کے علاوہ حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور یہ کبھی منفی تو کبھی مثبت زون میں جاتا رہا، جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.74 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>ادھر نیسڈک فیوچرز میں 0.02 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.05 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ یورپی مارکیٹس کے فیوچرز بھی مندی میں کاروبار کرتے نظر آئے۔</p>
<p>دریں اثنا جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.05 پر بند ہوئی، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں 0.01 روپے (ایک پیسہ) کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 1,329.5 ملین سے بڑھ کر 1,433.9 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 86.59 ارب روپے سے بہتر ہو کر 91.34 ارب روپے رہی۔</p>
<p>آغا اسٹیل انڈسٹریز 131.88 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی، جس کے بعد پاک الیکٹرون 76.29 ملین شیئرز اور ہیسکول پٹرول 59.91 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔</p>
<p>جمعرات کو مجموعی طور پر <strong>481</strong> کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے <strong>209</strong> کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، <strong>245</strong> میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ <strong>27</strong> کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/08171533437628a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/08171533437628a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281386</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 20:08:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0810421770d3283.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0810421770d3283.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
