<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا برآمدات بڑھانے اور تجارتی خسارے میں کمی کے اقدامات کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281376/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ برآمدات بالخصوص زرعی برآمدات کو بڑھانے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے  جامع روڈ میپ تیار کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے  جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے چاول کی برآمدات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (آرای اے پی) کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں حکمت عملی مرتب کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے واضح کیا کہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے اسے برآمدی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو حکومت کی برآمدات کے فروغ کی حکمت عملی پر بریفنگ دی اور جولائی سے دسمبر 2025 تک کے تجارتی اعداد و شمار پیش کیے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انجینئرنگ کے سامان، ادویات، طبی آلات اور پراسیسڈ فوڈ سمیت اعلیٰ قدر والے شعبوں میں برآمدات بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان کی برآمدات کو عالمی سپلائی چین  کا حصہ بنانے کے لیے کام جاری ہے، جبکہ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے نظام میں بہتری لائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں حکام نے بتایا کہ چاول کی برآمدات کے حوالے سے کئی ممالک کے ساتھ حکومتی سطح (جی ٹو جی) کے معاہدوں پر مذاکرات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ برآمدات بالخصوص زرعی برآمدات کو بڑھانے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے  جامع روڈ میپ تیار کیا جائے۔</strong></p>
<p>قومی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے  جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے چاول کی برآمدات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (آرای اے پی) کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں حکمت عملی مرتب کریں۔</p>
<p>انہوں نے برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے واضح کیا کہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے اسے برآمدی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p>اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو حکومت کی برآمدات کے فروغ کی حکمت عملی پر بریفنگ دی اور جولائی سے دسمبر 2025 تک کے تجارتی اعداد و شمار پیش کیے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انجینئرنگ کے سامان، ادویات، طبی آلات اور پراسیسڈ فوڈ سمیت اعلیٰ قدر والے شعبوں میں برآمدات بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان کی برآمدات کو عالمی سپلائی چین  کا حصہ بنانے کے لیے کام جاری ہے، جبکہ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے نظام میں بہتری لائی جا رہی ہے۔</p>
<p>مزید برآں حکام نے بتایا کہ چاول کی برآمدات کے حوالے سے کئی ممالک کے ساتھ حکومتی سطح (جی ٹو جی) کے معاہدوں پر مذاکرات جاری ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281376</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 19:11:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/07185816197ed56.webp" type="image/webp" medium="image" height="944" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/07185816197ed56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
