<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دفاعی برآمدات میں تیزی پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکال سکتی ہے ، خواجہ آصف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281372/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے بعد پاکستان کی دفاعی مصنوعات  بالخصوص طیاروں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر زیر التوا تمام فوجی آرڈرز مکمل طور پر عملی جامہ پہن لیتے ہیں تو ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مزید امداد کی ضرورت نہیں رہے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیو نیوز کے پروگرام  کیپیٹل ٹاک میں انٹرویو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی مڈبھیڑ ہمارے لیے نعمت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس سے ہماری عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمیں آرڈرز اس لیے مل رہے ہیں کیونکہ ہمارے طیاروں سمیت دیگر دفاعی ساز و سامان کا جنگی حالات میں امتحان ہو چکا ہے اور وہ کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر یہ تمام آرڈرز اگلے چھ ماہ میں مکمل ہو جاتے ہیں تو ہمیں آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم ہاتھ جوڑ کر ان سے معذرت کر لیں گے اور اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے سکون سے زندگی گزاریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت کام کر رہا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور لچک و پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع کے یہ ریمارکس بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ہونے والی ملاقات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔اس ملاقات کے دوران جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عسکری ذرائع کے مطابق ایئر چیف ظہیر احمد بابر نے سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی فوری فراہمی کے ساتھ ساتھ مکمل تربیتی اور طویل مدتی سپورٹ سسٹم کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع میں اپنی فضائیہ کی کامیابیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، جو ان دو ایٹمی پڑوسیوں کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں کی بدترین لڑائی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے بعد پاکستان کی دفاعی مصنوعات  بالخصوص طیاروں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر زیر التوا تمام فوجی آرڈرز مکمل طور پر عملی جامہ پہن لیتے ہیں تو ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مزید امداد کی ضرورت نہیں رہے گی۔</strong></p>
<p>جیو نیوز کے پروگرام  کیپیٹل ٹاک میں انٹرویو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی مڈبھیڑ ہمارے لیے نعمت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس سے ہماری عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمیں آرڈرز اس لیے مل رہے ہیں کیونکہ ہمارے طیاروں سمیت دیگر دفاعی ساز و سامان کا جنگی حالات میں امتحان ہو چکا ہے اور وہ کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔</p>
<p>خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر یہ تمام آرڈرز اگلے چھ ماہ میں مکمل ہو جاتے ہیں تو ہمیں آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم ہاتھ جوڑ کر ان سے معذرت کر لیں گے اور اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے سکون سے زندگی گزاریں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت کام کر رہا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور لچک و پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔</p>
<p>وزیر دفاع کے یہ ریمارکس بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ہونے والی ملاقات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔اس ملاقات کے دوران جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>عسکری ذرائع کے مطابق ایئر چیف ظہیر احمد بابر نے سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی فوری فراہمی کے ساتھ ساتھ مکمل تربیتی اور طویل مدتی سپورٹ سسٹم کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔</p>
<p>پاکستان گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع میں اپنی فضائیہ کی کامیابیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، جو ان دو ایٹمی پڑوسیوں کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں کی بدترین لڑائی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281372</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 17:36:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0717185527cb672.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0717185527cb672.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
