<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281347/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے 2026 کے آغاز میں اپنی تیزی کا سلسلہ برقرار رکھا ہے اور بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جس کی قیادت مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل خریداری نے کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس نے آغاز کے فوراً بعد تیز کمی دیکھی اور انٹرا ڈے کی  کم ترین سطح &lt;strong&gt;184,896.70 پوائنٹس&lt;/strong&gt; تک گر گیا، لیکن مارکیٹ کا رجحان جلد بحال ہوا، جس سے صبح کے اواخر اور دوپہر کے آغاز تک انڈیکس میں &lt;strong&gt;وسیع پیمانے پر بحالی&lt;/strong&gt; دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای 100 انڈیکس آج کے کاروباری دن کے دوران بلند ترین سطح &lt;strong&gt;187,015 پوائنٹس&lt;/strong&gt; تک جا پہنچا اور بعد ازاں معمولی کمی کے باوجود اپنی بیشتر اضافہ برقرار رکھا۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس &lt;strong&gt;186,518.71 پوائنٹس&lt;/strong&gt; پر بند ہوا، جو &lt;strong&gt;1,456.61 پوائنٹس یا 0.79 فیصد&lt;/strong&gt; کے اضافے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق یہ خریداری کی تیزی کا رجحان &lt;strong&gt;آئندہ ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی کے امکان&lt;/strong&gt; کے پیش نظر دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنے بعد از مارکیٹ تبصرے میں کہا ہے کہ ” اس سال کے ابتدائی پانچ ٹریڈنگ سیشنز میں پی ایس ایکس نے 12,464 پوائنٹس (+7.2 فیصد) کا مضبوط اضافہ دیکھا، جس سے سرمایہ کاروں میں 2026 کے لیے پرامیدی کا رجحان واضح طور پر نظر آیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بروکریج ہاؤس کے مطابق  تیزی کی قیادت زیادہ تر &lt;strong&gt;مقامی فنڈز کی جارحانہ خریداری&lt;/strong&gt; نے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“ اثاثہ جات کی تقسیم میں تبدیلی، روایتی ذرائع پر کم منافع کے درمیان فکسڈ انکم سے ایکویٹیز کی جانب منتقل، مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کو فروغ دے رہی ہے اور بلند قیمتوں کی حمایت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”حبکو، پی پی ایل, اینگرو ہولڈنگ, ایم سی بی، اور ایم ای بی ایل اہم محرک بنے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس کی پیش رفت میں تقریباً &lt;strong&gt;766 پوائنٹس&lt;/strong&gt; کا اضافہ کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) پاکستان کی سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن کر سامنے آئی جہاں اس کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن بڑھ کر 1.28 کھرب روپے (4.6 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی اور اس نے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) کو پیچھے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار زبردست تیزی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل خریداری اور بہتر کاروباری حجمِ کے باعث بینچ مارک 100 انڈیکس تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 2,653 پوائنٹس یا 1.45 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ ریکارڈ 185,062 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے دوران خام تیل کے فیوچرز میں کمی دیکھی گئی جبکہ وینزویلا میں سیاسی بحران اور اس کے تیل کے ذخائر کے مستقبل سے متعلق صورتحال کے اثرات کو جذب کرتے ہوئے وسائل سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر ایشیائی تجارت کے دوران خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ وسائل سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں، کیونکہ مارکیٹیں وینزویلا میں ہونے والی سیاسی ہلچل اور اس کے پٹرولیم ذخائر کے مستقبل کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وینزویلا میں اقتدار کی تبدیلی اور ملکی رہنما کی گرفتاری کے بعد وہاں کے تیل ذخائر میں سے 50 ملین بیرل تک تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ایکویٹی مارکیٹوں پر جاپانی حصص کا دباؤ رہا جبکہ صنعتی دھاتوں کی قیمتوں میں راتوں رات ہونے والے اضافے کے بعد کموڈیٹی سے وابستہ حصص مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکئی اسٹاک انڈیکس 0.25 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کا ایس اینڈ پی/اے ایس ایکس 200 انڈیکس 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ اوپر چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو بتایا کہ کراکس اور واشنگٹن کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت وینزویلا کا دو ارب ڈالر تک مالیت کا خام تیل امریکا کو برآمد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتظام وینزویلا پر ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا ہے، اسی دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان بھی دیا گیا کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے مختلف آپشنز پر غور کررہا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی فوج کے استعمال کو بھی ہمیشہ ایک آپشن قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوکیو میں اسٹاک مارکیٹس دباؤ میں رہیں جب چین نے جاپان کو ایسے &lt;strong&gt;دوہری استعمال کی مصنوعات کی برآمدات پر پابندی&lt;/strong&gt; عائد کرنے کا اعلان کیا جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ یہ اقدام بیجنگ کی جانب سے جاپانی وزیر اعظم &lt;strong&gt;ساناے تاکائیچی&lt;/strong&gt; کے تائیوان سے متعلق بیان کے ردعمل میں سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں  پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.06 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر حجم میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 1,329.5 ملین تک پہنچ گیا، پچھلے سیشن کے 1,306.1 ملین کے مقابلے میں۔ حصص کی کل قیمت بھی بہتر ہوئی اور 86.59 ارب روپے تک پہنچی، جو پچھلے سیشن کے 85.32 ارب روپے سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک حجم کے لحاظ سے سب سے آگے رہی جس کے 77.89 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ہسکول پیٹرول 58.65 ملین شیئرز کے دوسرے اور بینک آف پنجاب 54.53 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 299 کے حصص میں اضافہ، 161 کے شیئرز میں کمی اور 26 کے حصص میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/07175928e1054c8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/07175928e1054c8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے 2026 کے آغاز میں اپنی تیزی کا سلسلہ برقرار رکھا ہے اور بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جس کی قیادت مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل خریداری نے کی ہے۔</strong></p>
<p>ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس نے آغاز کے فوراً بعد تیز کمی دیکھی اور انٹرا ڈے کی  کم ترین سطح <strong>184,896.70 پوائنٹس</strong> تک گر گیا، لیکن مارکیٹ کا رجحان جلد بحال ہوا، جس سے صبح کے اواخر اور دوپہر کے آغاز تک انڈیکس میں <strong>وسیع پیمانے پر بحالی</strong> دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>کے ایس ای 100 انڈیکس آج کے کاروباری دن کے دوران بلند ترین سطح <strong>187,015 پوائنٹس</strong> تک جا پہنچا اور بعد ازاں معمولی کمی کے باوجود اپنی بیشتر اضافہ برقرار رکھا۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس <strong>186,518.71 پوائنٹس</strong> پر بند ہوا، جو <strong>1,456.61 پوائنٹس یا 0.79 فیصد</strong> کے اضافے کے مترادف ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق یہ خریداری کی تیزی کا رجحان <strong>آئندہ ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی کے امکان</strong> کے پیش نظر دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنے بعد از مارکیٹ تبصرے میں کہا ہے کہ ” اس سال کے ابتدائی پانچ ٹریڈنگ سیشنز میں پی ایس ایکس نے 12,464 پوائنٹس (+7.2 فیصد) کا مضبوط اضافہ دیکھا، جس سے سرمایہ کاروں میں 2026 کے لیے پرامیدی کا رجحان واضح طور پر نظر آیا ہے۔“</p>
<p>اس بروکریج ہاؤس کے مطابق  تیزی کی قیادت زیادہ تر <strong>مقامی فنڈز کی جارحانہ خریداری</strong> نے کی ہے۔</p>
<p>“ اثاثہ جات کی تقسیم میں تبدیلی، روایتی ذرائع پر کم منافع کے درمیان فکسڈ انکم سے ایکویٹیز کی جانب منتقل، مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کو فروغ دے رہی ہے اور بلند قیمتوں کی حمایت کر رہی ہے۔</p>
<p>”حبکو، پی پی ایل, اینگرو ہولڈنگ, ایم سی بی، اور ایم ای بی ایل اہم محرک بنے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس کی پیش رفت میں تقریباً <strong>766 پوائنٹس</strong> کا اضافہ کیا۔“</p>
<p>منگل کو یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) پاکستان کی سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن کر سامنے آئی جہاں اس کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن بڑھ کر 1.28 کھرب روپے (4.6 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی اور اس نے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) کو پیچھے چھوڑ دیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار زبردست تیزی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل خریداری اور بہتر کاروباری حجمِ کے باعث بینچ مارک 100 انڈیکس تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 2,653 پوائنٹس یا 1.45 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ ریکارڈ 185,062 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے دوران خام تیل کے فیوچرز میں کمی دیکھی گئی جبکہ وینزویلا میں سیاسی بحران اور اس کے تیل کے ذخائر کے مستقبل سے متعلق صورتحال کے اثرات کو جذب کرتے ہوئے وسائل سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر ایشیائی تجارت کے دوران خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ وسائل سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں، کیونکہ مارکیٹیں وینزویلا میں ہونے والی سیاسی ہلچل اور اس کے پٹرولیم ذخائر کے مستقبل کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وینزویلا میں اقتدار کی تبدیلی اور ملکی رہنما کی گرفتاری کے بعد وہاں کے تیل ذخائر میں سے 50 ملین بیرل تک تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔</p>
<p>علاقائی ایکویٹی مارکیٹوں پر جاپانی حصص کا دباؤ رہا جبکہ صنعتی دھاتوں کی قیمتوں میں راتوں رات ہونے والے اضافے کے بعد کموڈیٹی سے وابستہ حصص مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھاتے رہے۔</p>
<p>جاپان کا نکئی اسٹاک انڈیکس 0.25 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>آسٹریلیا کا ایس اینڈ پی/اے ایس ایکس 200 انڈیکس 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ اوپر چلا گیا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو بتایا کہ کراکس اور واشنگٹن کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت وینزویلا کا دو ارب ڈالر تک مالیت کا خام تیل امریکا کو برآمد کیا جائے گا۔</p>
<p>یہ انتظام وینزویلا پر ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا ہے، اسی دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان بھی دیا گیا کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے مختلف آپشنز پر غور کررہا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی فوج کے استعمال کو بھی ہمیشہ ایک آپشن قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ٹوکیو میں اسٹاک مارکیٹس دباؤ میں رہیں جب چین نے جاپان کو ایسے <strong>دوہری استعمال کی مصنوعات کی برآمدات پر پابندی</strong> عائد کرنے کا اعلان کیا جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ یہ اقدام بیجنگ کی جانب سے جاپانی وزیر اعظم <strong>ساناے تاکائیچی</strong> کے تائیوان سے متعلق بیان کے ردعمل میں سامنے آیا۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں  پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.06 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر حجم میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 1,329.5 ملین تک پہنچ گیا، پچھلے سیشن کے 1,306.1 ملین کے مقابلے میں۔ حصص کی کل قیمت بھی بہتر ہوئی اور 86.59 ارب روپے تک پہنچی، جو پچھلے سیشن کے 85.32 ارب روپے سے زیادہ ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک حجم کے لحاظ سے سب سے آگے رہی جس کے 77.89 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ہسکول پیٹرول 58.65 ملین شیئرز کے دوسرے اور بینک آف پنجاب 54.53 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>بدھ کو مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 299 کے حصص میں اضافہ، 161 کے شیئرز میں کمی اور 26 کے حصص میں استحکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/07175928e1054c8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/07175928e1054c8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281347</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 19:28:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/07105410b801acf.webp" type="image/webp" medium="image" height="455" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/07105410b801acf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
