<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان بارڈر کی بندش کے باوجود افغان تجارت 2025 میں مستحکم رہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281342/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان کی تجارت 2025 میں بھی مضبوط رہی، حالانکہ پاکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کی بار بار بندش نے کاروبار میں خلل ڈالا۔ وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدکنندگان اور درآمدکنندگان نے بڑھتی ہوئی مشکلات کے پیش نظر ایران اور وسطی ایشیا کے متبادل راستوں پر زیادہ انحصار شروع کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجارتی استحکام اس وقت دیکھنے میں آیا جب اسلام آباد کے ساتھ کشیدگی نے طویل عرصے سے قائم ٹرانزٹ راستوں کو متاثر کیا، جو خشکی سے گھرے افغانستان کیلئے سمندری بندرگاہوں تک رسائی کا بنیادی ذریعہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں نے اس کے مقابلے میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے سامان کی نقل و حمل میں اضافہ کیا اور ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے راستے زمینی تجارت کو وسعت دی، جس سے تاخیر اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کم ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کے مطابق 2025 میں افغانستان کی مجموعی تجارت — یعنی برآمدات اور درآمدات کی مجموعی مالیت — بڑھ کر تقریباً 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ برآمدات کا اندازہ تقریباً 1.8 ارب ڈالر لگایا گیا، جو گزشتہ سال کے قریب ہی رہی، جبکہ درآمدات بڑھ کر 12.1 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت، پاکستان اور چند وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کی بڑی منڈیوں میں شامل رہے، جہاں خشک میوہ جات، کوئلہ، قالین، زعفران اور زرعی پیداوار اہم برآمداتی اشیا رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدات زیادہ تر ایندھن، مشینری، غذائی ضروریات اور صنعتی خام مال پر مشتمل تھیں، جن کا بڑا حصہ ایران، متحدہ عرب امارات، چین اور خطے کے دیگر پڑوسی ممالک سے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرحدی بندشوں اور سکیورٹی سے جڑے مسائل کے بعد افغانستان پاکستان پر انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ اگرچہ سمندر تک پہنچنے کیلئے پاکستان اب بھی مختصر ترین راستہ ہے، تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی راہداریوں میں تنوع نے کاروباری سرگرمیوں کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے، خواہ مشرقی پڑوسی کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہی کیوں نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان کی تجارت 2025 میں بھی مضبوط رہی، حالانکہ پاکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کی بار بار بندش نے کاروبار میں خلل ڈالا۔ وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدکنندگان اور درآمدکنندگان نے بڑھتی ہوئی مشکلات کے پیش نظر ایران اور وسطی ایشیا کے متبادل راستوں پر زیادہ انحصار شروع کر دیا۔</strong></p>
<p>یہ تجارتی استحکام اس وقت دیکھنے میں آیا جب اسلام آباد کے ساتھ کشیدگی نے طویل عرصے سے قائم ٹرانزٹ راستوں کو متاثر کیا، جو خشکی سے گھرے افغانستان کیلئے سمندری بندرگاہوں تک رسائی کا بنیادی ذریعہ رہے ہیں۔</p>
<p>تاجروں نے اس کے مقابلے میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے سامان کی نقل و حمل میں اضافہ کیا اور ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے راستے زمینی تجارت کو وسعت دی، جس سے تاخیر اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کم ہوئے۔</p>
<p>وزارت تجارت کے مطابق 2025 میں افغانستان کی مجموعی تجارت — یعنی برآمدات اور درآمدات کی مجموعی مالیت — بڑھ کر تقریباً 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ برآمدات کا اندازہ تقریباً 1.8 ارب ڈالر لگایا گیا، جو گزشتہ سال کے قریب ہی رہی، جبکہ درآمدات بڑھ کر 12.1 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہو گئیں۔</p>
<p>بھارت، پاکستان اور چند وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کی بڑی منڈیوں میں شامل رہے، جہاں خشک میوہ جات، کوئلہ، قالین، زعفران اور زرعی پیداوار اہم برآمداتی اشیا رہیں۔</p>
<p>درآمدات زیادہ تر ایندھن، مشینری، غذائی ضروریات اور صنعتی خام مال پر مشتمل تھیں، جن کا بڑا حصہ ایران، متحدہ عرب امارات، چین اور خطے کے دیگر پڑوسی ممالک سے آیا۔</p>
<p>سرحدی بندشوں اور سکیورٹی سے جڑے مسائل کے بعد افغانستان پاکستان پر انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ اگرچہ سمندر تک پہنچنے کیلئے پاکستان اب بھی مختصر ترین راستہ ہے، تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی راہداریوں میں تنوع نے کاروباری سرگرمیوں کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے، خواہ مشرقی پڑوسی کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہی کیوں نہ ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281342</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 09:48:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/070947446e76918.webp" type="image/webp" medium="image" height="394" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/070947446e76918.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
