<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27 ویں ترمیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281335/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے  کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، جو خاص طور پر عدلیہ کی آزادی کو کمزور  اور تاحیات استثنیٰ کی فراہمی کے ذریعے حکام کو احتساب سے بالا تر رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں کہا گیا کہ  نومبر 2025 میں منظور کی گئی دستور کی 27 ویں ترمیم  بڑی پسپائی کی علامت  اور یہ پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی حکمرانی پر براہِ راست اور مسلسل حملے کا حصہ ہے۔ یہ پیش رفت پارلیمنٹ سے قانون سازی کی منظوری کے تقریباً دو ماہ بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انتہائی متنازع قانون کے ذریعے مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں اور صدر کو آئینی تحفظ فراہم  ، وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے، ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کی اجازت دی گئی ہے اور آئین میں کئی دیگر اہم ترامیم و تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں سینیٹ سے منظوری کے فوراً بعد صدر آصف علی زرداری نے اس بل پر دستخط کر کے اسے قانونی شکل دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس آئینی ترمیم کے فوری جائزے کا مطالبہ کیا ہے اور پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ججوں کی غیر جانبداری، آزادی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر تمام ضروری اقدامات کریں، تاکہ وہ کسی بھی نامناسب یا بلاجواز مداخلت کے بغیر اپنے عدالتی فرائض سرانجام دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ  پاکستانی حکام کو انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے، انصاف تک رسائی اور مؤثر تلافی کی ضمانت دینی چاہیے اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے دور رس نتائج کے باوجود اسے اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی سے کسی مشاورت کے بغیر پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جس دن یہ ایکٹ قانون بنا، سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججوں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور دو دن بعد لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے بھی استعفیٰ دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کو مزید نقصان پہنچاتی ہے جو کہ پہلے ہی 26 ویں آئینی ترمیم سے کمزور ہو چکی تھی کیونکہ یہ صدر اور وزیراعظم کو وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور ابتدائی ججوں کے تقرر کا اختیار دے کر عدلیہ پر ایگزیکٹو کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے یہ بھی یاد دلایا کہ  26 ویں ترمیم بھی اسی طرح کی جلد بازی میں اکتوبر 2024 میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں پاس کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے  کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، جو خاص طور پر عدلیہ کی آزادی کو کمزور  اور تاحیات استثنیٰ کی فراہمی کے ذریعے حکام کو احتساب سے بالا تر رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان میں کہا گیا کہ  نومبر 2025 میں منظور کی گئی دستور کی 27 ویں ترمیم  بڑی پسپائی کی علامت  اور یہ پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی حکمرانی پر براہِ راست اور مسلسل حملے کا حصہ ہے۔ یہ پیش رفت پارلیمنٹ سے قانون سازی کی منظوری کے تقریباً دو ماہ بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>اس انتہائی متنازع قانون کے ذریعے مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں اور صدر کو آئینی تحفظ فراہم  ، وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے، ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کی اجازت دی گئی ہے اور آئین میں کئی دیگر اہم ترامیم و تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں سینیٹ سے منظوری کے فوراً بعد صدر آصف علی زرداری نے اس بل پر دستخط کر کے اسے قانونی شکل دی تھی۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس آئینی ترمیم کے فوری جائزے کا مطالبہ کیا ہے اور پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ججوں کی غیر جانبداری، آزادی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر تمام ضروری اقدامات کریں، تاکہ وہ کسی بھی نامناسب یا بلاجواز مداخلت کے بغیر اپنے عدالتی فرائض سرانجام دے سکیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ  پاکستانی حکام کو انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے، انصاف تک رسائی اور مؤثر تلافی کی ضمانت دینی چاہیے اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔</p>
<p>ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے دور رس نتائج کے باوجود اسے اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی سے کسی مشاورت کے بغیر پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جس دن یہ ایکٹ قانون بنا، سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججوں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور دو دن بعد لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے بھی استعفیٰ دے دیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کو مزید نقصان پہنچاتی ہے جو کہ پہلے ہی 26 ویں آئینی ترمیم سے کمزور ہو چکی تھی کیونکہ یہ صدر اور وزیراعظم کو وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور ابتدائی ججوں کے تقرر کا اختیار دے کر عدلیہ پر ایگزیکٹو کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرتی ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے یہ بھی یاد دلایا کہ  26 ویں ترمیم بھی اسی طرح کی جلد بازی میں اکتوبر 2024 میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں پاس کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281335</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 19:44:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/06193135d26447c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/06193135d26447c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
