<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے انتہائی اہم قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281332/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے  کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز اگلے ماہ ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے ایک اہم ریہرسل ثابت ہوگی، جس کی میزبانی سری لنکا اور بھارت مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیریز کا آغاز بدھ کو دمبولا میں ہوگا جبکہ اگلا میچ جمعہ اور فائنل اتوار کو کھیلا جائے گا، یہ تمام میچز اسی ایک مقام پر منعقد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان علی آغا نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم ورلڈ کپ کے اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیل رہے ہیں، اس لیے یہ سیریز ہمیں یہاں کے حالات اور کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دے گی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات کی وجہ سے پاکستان اپنے ورلڈ کپ کے تمام میچز صرف سری لنکا میں کھیلے گا۔ اگر پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے میں کامیاب رہی تو اس کا سیمی فائنل اور فائنل دونوں کولمبو میں کھیلے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ٹیم اپنے کئی بڑے ناموں کے بغیر میدان میں اترے گی، کیونکہ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، محمد رضوان اور حارث رؤف اس وقت آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ کھیلنے میں مصروف ہیں۔ سلمان علی آغا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں ان کی کمی محسوس ہوگی لیکن یہ نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے ایک خوش آئند بات آل راؤنڈر شاداب خان کی واپسی ہے، جو گزشتہ سال جون سے انجری کے باعث ٹیم سے باہر رہنے کے بعد دوبارہ ایکشن میں نظر آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سری لنکا کی قیادت داسن شناکا کریں گے جنہیں ورلڈ کپ تک کپتانی سونپی گئی ہے۔ سری لنکن کپتان نے اعتراف کیا کہ حالیہ مہینوں میں ملے جلے نتائج کے بعد ٹیم میں کچھ بہتری کی ضرورت ہے۔ شناکا نے کہا گزشتہ چند سیریز میں ہمارے ٹاپ آرڈر نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن ہمیں مڈل آرڈر کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شناکا نے آل راؤنڈر دھننجایا ڈی سلوا کی واپسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک طویل عرصے بعد ٹی ٹوئنٹی سیٹ اپ میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں ایسے کھلاڑی کی ضرورت تھی جو اننگز کو سنبھال سکے، اگر وہ ایک اینڈ سے کھیل کو جوڑے رکھیں گے تو دوسرے کھلاڑی ان کے گرد کھل کر شاٹس کھیل سکیں گے۔ وہ ہمیں باؤلنگ کا آپشن بھی دیتے ہیں اور ہمارے حالات میں اسپن باؤلنگ کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی اسکواڈ:&lt;/strong&gt; سلمان علی آغا (کپتان)، عبد الصمد، ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ نافع، محمد نواز، محمد سلمان مرزا، محمد وسیم، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاداب خان، عثمان خان اور عثمان طارق۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سری لنکن اسکواڈ:&lt;/strong&gt; داسن شناکا (کپتان)، پاتھم نسانکا، کامل مشارا، کوسل مینڈس، کوسل پریرا، دھننجایا ڈی سلوا، چارتھ اسالنکا، جنیتھ لیانگے، کامندو مینڈس، وانندو ہسرنگا، دونتھ ویلالگے، مہیش تھیکشنا، دوشن ہیمنتھا، تراوین میتھیو، دشمنتھا چمیرا، متھیشا پتھیرانا، نوان تھشارہ اور ایشان ملنگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے  کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز اگلے ماہ ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے ایک اہم ریہرسل ثابت ہوگی، جس کی میزبانی سری لنکا اور بھارت مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>سیریز کا آغاز بدھ کو دمبولا میں ہوگا جبکہ اگلا میچ جمعہ اور فائنل اتوار کو کھیلا جائے گا، یہ تمام میچز اسی ایک مقام پر منعقد ہوں گے۔</p>
<p>سلمان علی آغا نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم ورلڈ کپ کے اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیل رہے ہیں، اس لیے یہ سیریز ہمیں یہاں کے حالات اور کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دے گی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات کی وجہ سے پاکستان اپنے ورلڈ کپ کے تمام میچز صرف سری لنکا میں کھیلے گا۔ اگر پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے میں کامیاب رہی تو اس کا سیمی فائنل اور فائنل دونوں کولمبو میں کھیلے جائیں گے۔</p>
<p>پاکستان کی ٹیم اپنے کئی بڑے ناموں کے بغیر میدان میں اترے گی، کیونکہ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، محمد رضوان اور حارث رؤف اس وقت آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ کھیلنے میں مصروف ہیں۔ سلمان علی آغا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں ان کی کمی محسوس ہوگی لیکن یہ نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے ایک خوش آئند بات آل راؤنڈر شاداب خان کی واپسی ہے، جو گزشتہ سال جون سے انجری کے باعث ٹیم سے باہر رہنے کے بعد دوبارہ ایکشن میں نظر آئیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب سری لنکا کی قیادت داسن شناکا کریں گے جنہیں ورلڈ کپ تک کپتانی سونپی گئی ہے۔ سری لنکن کپتان نے اعتراف کیا کہ حالیہ مہینوں میں ملے جلے نتائج کے بعد ٹیم میں کچھ بہتری کی ضرورت ہے۔ شناکا نے کہا گزشتہ چند سیریز میں ہمارے ٹاپ آرڈر نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن ہمیں مڈل آرڈر کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>شناکا نے آل راؤنڈر دھننجایا ڈی سلوا کی واپسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک طویل عرصے بعد ٹی ٹوئنٹی سیٹ اپ میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں ایسے کھلاڑی کی ضرورت تھی جو اننگز کو سنبھال سکے، اگر وہ ایک اینڈ سے کھیل کو جوڑے رکھیں گے تو دوسرے کھلاڑی ان کے گرد کھل کر شاٹس کھیل سکیں گے۔ وہ ہمیں باؤلنگ کا آپشن بھی دیتے ہیں اور ہمارے حالات میں اسپن باؤلنگ کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p><strong>پاکستانی اسکواڈ:</strong> سلمان علی آغا (کپتان)، عبد الصمد، ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ نافع، محمد نواز، محمد سلمان مرزا، محمد وسیم، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاداب خان، عثمان خان اور عثمان طارق۔</p>
<p><strong>سری لنکن اسکواڈ:</strong> داسن شناکا (کپتان)، پاتھم نسانکا، کامل مشارا، کوسل مینڈس، کوسل پریرا، دھننجایا ڈی سلوا، چارتھ اسالنکا، جنیتھ لیانگے، کامندو مینڈس، وانندو ہسرنگا، دونتھ ویلالگے، مہیش تھیکشنا، دوشن ہیمنتھا، تراوین میتھیو، دشمنتھا چمیرا، متھیشا پتھیرانا، نوان تھشارہ اور ایشان ملنگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281332</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 19:15:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/06190739e59a80a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/06190739e59a80a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
