<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری چین کے سفارتی دباؤ کی حدود کا امتحان ہے، وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281331/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے اعلیٰ سفارتکار نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے وینزویلا کے رہنما نیکولس مادورو کو گرفتار کرکے اور نیویارک میں لاکر اس مقدمہ چلا کر  “عالمی منصف “ بننے کی کوشش کی ہے، جس کے بعد بیجنگ نے اس اقدام کو آڑھے ہاتھوں  لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں واشنگٹن کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کی جانے والی فوجی کارروائیوں پر باقاعدگی سے تنقید کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے “ ہر موسم کے“ اسٹریٹجک شراکت دار ملک وینزویلا کے رہنما کو امریکی فوج کی جانب سے رات کے اندھیرے میں اس کے دارالحکومت سے بے دخل کرنا، بیجنگ کے اس دعوے کا اہم امتحان ہے کہ وہ واشنگٹن کے فوجی حل ڈھونڈنے کے بجائے حساس کشیدہ عالمی معاملات حل کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ  ہم کبھی اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ کوئی ملک عالمی تھانیدار بن سکتا ہے اور نہ ہی ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ کوئی قوم عالمی جج ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات وینزویلا میں اچانک پیش آنے والے حالات کا حوالہ دیتے ہوئی کہی ہے تاہم انہوں نے امریکہ کا براہِ راست نام نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وانگ یی نے مزید کہا کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ یہ ان کے پہلے بیانات تھے جو ہفتے کے روز آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ پاؤں بندھے 63 سالہ مادورو کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد دئیے گئے، جنہوں نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو مادورو نے نیویارک کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ان پر لگائے گئے منشیات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ صرف چند بلاکس دور، کولمبیا کی درخواست پر، جس کی حمایت چین اور روس نے کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مادورو کو گرفتار کرنے کے فیصلے پر بحث کی، جس کے بارے میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام ”خطرناک مثال“ قائم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں چین نے امریکی کارروائیوں پر افسوس اور مذمت کا اظہار کیا، اور اسے آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کے اقدامات ناقابل قبول ہیں، جو کہ چین کی طرح کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک میں سے ایک کے لیے سنگین معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے مستقل مشن برائے اقوام متحدہ کے قائم مقام چیف آف مشن سن لی نے کہا ہے کہ تاریخ کے اسباق ایک سخت انتباہ پیش کرتے ہیں، فوجی ذرائع مسائل کا حل نہیں ہیں اور طاقت کے بلاامتیاز استعمال سے صرف بڑے بحران پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین، دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور ایک اہم عالمی تجارتی شراکت دار، واشنگٹن کے اقدامات پر تنقید کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائنا گلوبل ساؤتھ پراجیکٹ کے شریک بانی ایرک اولینڈر نے کہا ہے کہ اس وقت چین کے پاس وینزویلا کو مادی معاونت دینے کی زیادہ گنجائش نہیں ہے، لیکن تقریری طور پر بیجنگ بہت اہم ہو گا جب وہ اقوام متحدہ اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ امریکی اقدامات کے خلاف رائے سازی کی قیادت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ زمبابوے اور ایران کے کیسز میں، دونوں پر مغرب کی پابندیاں ہیں، چین نے ان تعلقات کے لیے اپنی وابستگی تجارتی اور سرمایہ کاری کے ذریعے دکھائی، چاہے حالات مشکل ہی کیوں نہ ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے لیے بڑا دھچکا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے کولمبیا اور میکسیکو کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دینے اور یہ بیان دینے کے بعد کہ کیوبا کا کمیونسٹ نظام ”اپنی ہی حالت میں گرنے کے لیے تیار لگتا ہے“، وہ لاطینی امریکا کے ممالک جو چینی صدر شی جن پنگ کی عالمی سیکیورٹی انیشیٹو میں شامل ہوئے، اب سوچ سکتے ہیں کہ یہ معاہدہ انہیں کیسے تحفظ فراہم کرے گا اگر آزمائش کا سامنا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شی نے پیر کو تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتیں مثال قائم کریں، تاہم اس موقع پر امریکہ یا وینزویلا کا نام  نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ نے پچھلے 20 سال میں لاطینی امریکا کے ممالک کو تائیوان سے چین کی طرف سفارتی پہچان منتقل کرنے پر قائل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے، جس میں کوسٹا ریکا، پاناما، ڈومینیکن ریپبلک، ایل سلواڈور، نکاراگوا اور ہونڈوراس شامل ہیں، جو 19 کھرب ڈالر معیشت کی اسٹریٹجک شراکت داری کی بات کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا نے 1974 میں چین کو تسلیم کیا، اور یہ تعلق ہگو چاویز کے دور میں مزید گہرا ہوا، وہ سوشلسٹ سابق فوجی جو 1998 میں اقتدار میں آئے اور لاطینی امریکہ میں بیجنگ کے سب سے قریبی حلیف بن گئے، اپنے ملک کو واشنگٹن سے دور رکھتے ہوئے چینی کمیونسٹ پارٹی کے حکمرانی کے ماڈل کی تعریف کرتے اور ملکی جمہوریت میں پس رفت کا مشاہدہ کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قریبی تعلق چاویز کے 2013 میں وفات پانے کے بعد بھی برقرار رہا اور مادورو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی جاری رہا، جس میں اس نے 2016 میں اپنے بیٹے کو اعلیٰ درجہ کی پیکنگ یونیورسٹی میں داخل کرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدلے میں، بیجنگ نے وینزویلا کی تیل کی ریفائنریز اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی، اقتصادی زندگی بخش سہارا فراہم کیا، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 2017 سے پابندیاں سخت کر دی تھیں۔ چینی کسٹمز کے مطابق، 2024 میں چین نے تقریباً 1.6 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات خریدیں، جن میں تیل تقریباً آدھی مالیت کا حصہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی حکومت کے ایک اہلکار نے، جو مادورو اور چین کے لاطینی امریکہ و کیریبین امور کے خصوصی نمائندے چو ژیاؤچی کے درمیان ملاقات سے آگاہ تھے، کہا ہے کہ یہ چین کے لیے بڑا دھچکا تھا، ہم چاہتے تھے کہ وینزویلا کے لیے ایک قابل اعتماد دوست کے طور پر نظر آئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے اعلیٰ سفارتکار نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے وینزویلا کے رہنما نیکولس مادورو کو گرفتار کرکے اور نیویارک میں لاکر اس مقدمہ چلا کر  “عالمی منصف “ بننے کی کوشش کی ہے، جس کے بعد بیجنگ نے اس اقدام کو آڑھے ہاتھوں  لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں واشنگٹن کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔</strong></p>
<p>چین عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کی جانے والی فوجی کارروائیوں پر باقاعدگی سے تنقید کرتا رہا ہے۔</p>
<p>چین کے “ ہر موسم کے“ اسٹریٹجک شراکت دار ملک وینزویلا کے رہنما کو امریکی فوج کی جانب سے رات کے اندھیرے میں اس کے دارالحکومت سے بے دخل کرنا، بیجنگ کے اس دعوے کا اہم امتحان ہے کہ وہ واشنگٹن کے فوجی حل ڈھونڈنے کے بجائے حساس کشیدہ عالمی معاملات حل کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p>چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ  ہم کبھی اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ کوئی ملک عالمی تھانیدار بن سکتا ہے اور نہ ہی ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ کوئی قوم عالمی جج ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات وینزویلا میں اچانک پیش آنے والے حالات کا حوالہ دیتے ہوئی کہی ہے تاہم انہوں نے امریکہ کا براہِ راست نام نہیں لیا۔</p>
<p>وانگ یی نے مزید کہا کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ یہ ان کے پہلے بیانات تھے جو ہفتے کے روز آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ پاؤں بندھے 63 سالہ مادورو کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد دئیے گئے، جنہوں نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔</p>
<p>پیر کو مادورو نے نیویارک کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ان پر لگائے گئے منشیات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ صرف چند بلاکس دور، کولمبیا کی درخواست پر، جس کی حمایت چین اور روس نے کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مادورو کو گرفتار کرنے کے فیصلے پر بحث کی، جس کے بارے میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام ”خطرناک مثال“ قائم کر سکتا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں چین نے امریکی کارروائیوں پر افسوس اور مذمت کا اظہار کیا، اور اسے آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کے اقدامات ناقابل قبول ہیں، جو کہ چین کی طرح کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک میں سے ایک کے لیے سنگین معاملہ ہے۔</p>
<p>چین کے مستقل مشن برائے اقوام متحدہ کے قائم مقام چیف آف مشن سن لی نے کہا ہے کہ تاریخ کے اسباق ایک سخت انتباہ پیش کرتے ہیں، فوجی ذرائع مسائل کا حل نہیں ہیں اور طاقت کے بلاامتیاز استعمال سے صرف بڑے بحران پیدا ہوں گے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین، دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور ایک اہم عالمی تجارتی شراکت دار، واشنگٹن کے اقدامات پر تنقید کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>چائنا گلوبل ساؤتھ پراجیکٹ کے شریک بانی ایرک اولینڈر نے کہا ہے کہ اس وقت چین کے پاس وینزویلا کو مادی معاونت دینے کی زیادہ گنجائش نہیں ہے، لیکن تقریری طور پر بیجنگ بہت اہم ہو گا جب وہ اقوام متحدہ اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ امریکی اقدامات کے خلاف رائے سازی کی قیادت کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ زمبابوے اور ایران کے کیسز میں، دونوں پر مغرب کی پابندیاں ہیں، چین نے ان تعلقات کے لیے اپنی وابستگی تجارتی اور سرمایہ کاری کے ذریعے دکھائی، چاہے حالات مشکل ہی کیوں نہ ہوں۔“</p>
<p><strong>چین کے لیے بڑا دھچکا</strong></p>
<p>ٹرمپ کے کولمبیا اور میکسیکو کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دینے اور یہ بیان دینے کے بعد کہ کیوبا کا کمیونسٹ نظام ”اپنی ہی حالت میں گرنے کے لیے تیار لگتا ہے“، وہ لاطینی امریکا کے ممالک جو چینی صدر شی جن پنگ کی عالمی سیکیورٹی انیشیٹو میں شامل ہوئے، اب سوچ سکتے ہیں کہ یہ معاہدہ انہیں کیسے تحفظ فراہم کرے گا اگر آزمائش کا سامنا ہو۔</p>
<p>شی نے پیر کو تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتیں مثال قائم کریں، تاہم اس موقع پر امریکہ یا وینزویلا کا نام  نہیں لیا۔</p>
<p>بیجنگ نے پچھلے 20 سال میں لاطینی امریکا کے ممالک کو تائیوان سے چین کی طرف سفارتی پہچان منتقل کرنے پر قائل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے، جس میں کوسٹا ریکا، پاناما، ڈومینیکن ریپبلک، ایل سلواڈور، نکاراگوا اور ہونڈوراس شامل ہیں، جو 19 کھرب ڈالر معیشت کی اسٹریٹجک شراکت داری کی بات کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p>وینزویلا نے 1974 میں چین کو تسلیم کیا، اور یہ تعلق ہگو چاویز کے دور میں مزید گہرا ہوا، وہ سوشلسٹ سابق فوجی جو 1998 میں اقتدار میں آئے اور لاطینی امریکہ میں بیجنگ کے سب سے قریبی حلیف بن گئے، اپنے ملک کو واشنگٹن سے دور رکھتے ہوئے چینی کمیونسٹ پارٹی کے حکمرانی کے ماڈل کی تعریف کرتے اور ملکی جمہوریت میں پس رفت کا مشاہدہ کرتے رہے۔</p>
<p>یہ قریبی تعلق چاویز کے 2013 میں وفات پانے کے بعد بھی برقرار رہا اور مادورو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی جاری رہا، جس میں اس نے 2016 میں اپنے بیٹے کو اعلیٰ درجہ کی پیکنگ یونیورسٹی میں داخل کرایا۔</p>
<p>بدلے میں، بیجنگ نے وینزویلا کی تیل کی ریفائنریز اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی، اقتصادی زندگی بخش سہارا فراہم کیا، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 2017 سے پابندیاں سخت کر دی تھیں۔ چینی کسٹمز کے مطابق، 2024 میں چین نے تقریباً 1.6 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات خریدیں، جن میں تیل تقریباً آدھی مالیت کا حصہ تھا۔</p>
<p>چینی حکومت کے ایک اہلکار نے، جو مادورو اور چین کے لاطینی امریکہ و کیریبین امور کے خصوصی نمائندے چو ژیاؤچی کے درمیان ملاقات سے آگاہ تھے، کہا ہے کہ یہ چین کے لیے بڑا دھچکا تھا، ہم چاہتے تھے کہ وینزویلا کے لیے ایک قابل اعتماد دوست کے طور پر نظر آئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281331</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 19:40:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0618345150866ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0618345150866ed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
