<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھریلو نظام کا خاموش انہدام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281328/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی پالیسی اشرافیہ جشن کے موڈ میں ہے۔ گزشتہ سال کی انتہاؤں کے بعد مہنگائی میں کمی آئی ہے، شرحِ مبادلہ نسبتاً پُرسکون دکھائی دیتا ہے اور ’’استحکام‘‘ کو بحالی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اگر یہ جاننا ہو کہ معیشت واقعی سنبھل رہی ہے یا نہیں تو پریس کانفرنسوں یا میکرو ڈیش بورڈز کو مت دیکھیں۔ باورچی خانے کی میز کو دیکھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے گھریلو آمدنی و اخراجات کے سروے ( ایچ آئی ای ایس) 2024–25 سے معلوم ہوتا ہے کہ گھرانے کس طرح حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے نتائج کسی بحالی کی نہیں بلکہ سکڑاؤ کی تصویر پیش کرتے ہیں — خوراک میں، وقار میں اور مواقع میں سکڑاؤ۔ اور یہ سکڑاؤ عارضی پریشانی نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی و معاشی شگاف کا ابتدائی مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک سے آغاز کریں۔ فی کس ماہانہ استعمال (مقدار کے لحاظ سے) سے متعلق اعداد و شمار خاموشی سے تباہ کن ہیں۔ 2018–19 سے 2024–25 کے درمیان اُن اشیاء کی اوسط ماہانہ کھپت میں کمی آئی جو غریب گھرانوں کی بقا کی بنیاد ہیں۔ گندم اور آٹے کا استعمال فی کس 7.00 کلوگرام سے کم ہو کر 6.59 کلوگرام رہ گیا۔ چاول 1.06 کلوگرام سے گھٹ کر 0.86 کلوگرام ہو گئے۔ دالیں، جو لاکھوں افراد کے لیے سستا ترین پروٹین ہیں، 0.35 کلوگرام سے کم ہو کر 0.26 کلوگرام رہ گئیں۔ دودھ کی کھپت فی کس 6.85 لیٹر سے گھٹ کر 6.15 لیٹر ہو گئی۔ حتیٰ کہ گوشت بھی متاثر ہوا: گائے کا گوشت 0.19 کلوگرام سے کم ہو کر 0.11 کلوگرام اور مٹن 0.06 کلوگرام سے گھٹ کر 0.05 کلوگرام رہ گیا۔ یہ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں نہیں، یہ پریشانی کے واضح اشارے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کوئی معاشرہ کم گندم، کم دالیں اور کم دودھ استعمال کرنے لگے تو وہ ’’ایڈجسٹ‘‘ نہیں کر رہا ہوتا بلکہ اسے ناقص خوراک پر مجبور کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں اجرتیں قیمتوں سے پیچھے رہ جاتی ہیں اور غیر رسمی روزگار غالب ہو، حقیقی آمدنی میں کمی اسی طرح ظاہر ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو اس کے بچوں پر اثرات ہیں: کم پروٹین، کم دودھ اور غذائی تنوع میں کمی جسمانی نشوونما اور سیکھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ آپ اسے استحکام کہہ سکتے ہیں، مگر غذائی قلت کو میکرو بیانیے کی پروا نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب آمدنی کمانے کی صلاحیت پر نظر ڈالیں۔ ایچ آئی ای ایس کے مطابق 2018–19 سے 2024–25 کے درمیان فی گھرانہ اوسط کمانے والوں کی تعداد 1.86 سے کم ہو کر 1.72 رہ گئی۔ شہری علاقوں میں یہ تعداد 1.75 سے گھٹ کر 1.62 اور دیہی علاقوں میں 1.92 سے کم ہو کر 1.78 ہو گئی۔ پنجاب کو سب سے شدید دھچکا لگا، جہاں فی گھرانہ کمانے والوں کی تعداد 1.63 سے گر کر 1.34 رہ گئی۔ یہ ایک ساختی انتباہ ہے: ایسے وقت میں جب بنیادی اخراجات — خوراک، کرایہ، ٹرانسپورٹ اور تعلیم — تیزی سے بڑھے ہیں، کم لوگ تقریباً وہی گھریلو ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں ’’روزگار‘‘ کی کہانی گمراہ کن بن جاتی ہے۔ پاکستان اکثر خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ لوگ کام کر رہے ہیں، اس لیے معیشت چل رہی ہے۔ مگر پاکستان میں کام کا مطلب اکثر غیر یقینی اوقات، کم پیداوار اور کسی تحفظ کا نہ ہونا ہوتا ہے۔ خود ایچ آئی ای ایس یاد دلاتا ہے کہ اگر کسی شخص نے مہینے میں صرف ایک گھنٹہ کام کیا ہو یا سال میں کسی بھی وقت کاروبار کیا ہو تو اسے ملازم شمار کر لیا جاتا ہے۔ درجہ بندی کے لیے یہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر اس سے ایک تلخ حقیقت چھپ جاتی ہے: اب روزگار بھی تحفظ کی ضمانت نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزگار کا ڈھانچہ اس انداز میں بدل رہا ہے جو ہر اس شخص کے لیے تشویشناک ہونا چاہیے جو سمجھتا ہے کہ لیبر مارکیٹ جھٹکوں کو جذب کر رہی ہے۔ ملازمین کا حصہ 54.80 فیصد سے بڑھ کر 60.10 فیصد ہو گیا، جبکہ خود روزگار 24.70 فیصد سے کم ہو کر 21.75 فیصد رہ گیا۔ سادہ الفاظ میں، پاکستان کی غیر رسمی کاروباری سرگرمیاں جو جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، کمزور ہو رہی ہیں، اور زیادہ لوگ اجرتی ملازمت پر انحصار کرنے لگے ہیں، ایسے معاشی ماحول میں جو معقول اجرتیں پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ جب محدود رسمی ملازمتوں والے ملک میں خود روزگار کم ہو تو اس کا مطلب عموماً خوشحالی نہیں ہوتا بلکہ یہ اشارہ ہوتا ہے کہ چھوٹے کاروبار بلند لاگت، کمزور طلب اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے باعث دباؤ میں آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والے اپنے سابقہ کالم ’’ آ ورک فورس ناٹ ریڈی فار ٹیک آف ‘‘ میں، جو لیبر فورس سروے 2025 پر مبنی تھا، میں نے افرادی قوت کی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کی تھی۔ ایچ آئی ای ایس 2025 کے نتائج کمزور طلب اور جدت کی کمی کے باعث لیبر مارکیٹ کے انہی مسائل کو مزید تقویت دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد توانائی کا دباؤ آتا ہے، جو شاید گھریلو زوال کا سب سے کم سمجھے جانے والا محرک ہے۔ ایچ آئی ای ایس کے مطابق 2024–25 میں قومی سطح پر گھریلو ایندھن کے اخراجات میں بجلی کا حصہ 55.91 فیصد رہا، جبکہ گیس 18.85 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ دیہی علاقوں میں بھی بجلی 44.23 فیصد کے ساتھ سب سے بڑا جزو ہے، مگر دوسرا بڑا حصہ لکڑی کا ہے جو 28.95 فیصد بنتا ہے، یہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ توانائی کی غربت اب بھی حقیقی اور مستقل مسئلہ ہے۔ بلند بجلی ٹیرف اگرچہ گردشی قرضے کی فائلوں کو متوازن دکھا سکتے ہیں، مگر وہ عملی طور پر گھرانوں پر ایک خاموش ٹیکس بن جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں خاندان خوراک کے معیار میں کمی، طبی علاج میں تاخیر اور بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع سے محروم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھریلو سطح پر یہ سکڑاؤ خلا میں نہیں ہو رہا۔ یہ ایک کے بعد ایک آنے والے جھٹکوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔ پاکستان نے کووِڈ کی رکاوٹ، عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے، شدید سیلابی تباہی جس نے روزگار اور غذائی نظام کو نقصان پہنچایا، شرحِ مبادلہ کے بار بار قیمتوں میں منتقل ہونے والے اثرات، اور طویل پالیسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کیا جس نے سرمایہ کاری اور روزگار کی تخلیق کو موخر رکھا۔ قدرتی آفات نے صرف فصلیں اور گھر تباہ نہیں کیے بلکہ خوراک کی قیمتیں بڑھائیں اور عدم تحفظ میں اضافہ کیا۔ معاشی جھٹکوں نے صرف مہنگائی نہیں بڑھائی بلکہ حقیقی اجرتوں کو کمزور کیا اور مزید کارکنوں کو نازک حکمتِ عملیوں پر مجبور کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجہ ایک خاموش انہدام کی صورت میں سامنے آیا ہے جو اشرافیہ کی گفتگو میں نظر نہیں آتا: ایک گھریلو معیشت جو بتدریج اپنی بہتر خوراک مہیا کرنے، بچوں پر سرمایہ کاری کرنے اور آئندہ جھٹکوں کے مقابلے میں خود کو مضبوط بنانے کی صلاحیت کھو رہی ہے۔ کوئی ملک ایک بحران برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن اگر گھرانوں کو مستقل طور پر اپنی خوراک اور امنگیں گھٹانے پر مجبور کیا جائے تو بار بار کے بحرانوں کے ساتھ بقا ممکن نہیں رہتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا پالیسی کے لیے کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ استحکام کے نظریے کو ازسرِنو لکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر استحکام گھریلو کھپت کو کچل کر حاصل کیا جا رہا ہے تو یہ استحکام نہیں بلکہ موخر شدہ عدم استحکام ہے۔ بھوکے شہری، تھکے ہوئے محنت کش اور زوال پذیر انسانی سرمایہ ترقی کی بنیاد نہیں ہوتے۔ یہ سماجی دباؤ کی بنیاد بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو بے شمار اصلاحات درکار ہیں، لیکن اگر اس بحران کی شدت کے مطابق ایک جرات مندانہ قدم اٹھانا ہو تو وہ یہ ہونا چاہیے: &lt;strong&gt;شاک ریسپانسِو ہاؤس ہولڈ پروٹیکشن گارنٹی،&lt;/strong&gt; خودکار، ضابطہ جاتی اور قابلِ پیمائش دباؤ کے اشاریوں سے منسلک۔ نہ کوئی نیا صوابدیدی پیکیج، نہ کوئی وقتی سبسڈی۔ ایک ضمانت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے واضح محرکات سے جوڑا جائے، جیسے خوراک کی مہنگائی، توانائی کے نرخوں میں اچانک اضافہ اور آفات کے اعلانات۔ ملک کے موجودہ ہدف بندی کے نظام (این ایس ای آر/بی آئی ایس پی) کو استعمال کیا جائے اور غذائیت سے متعلق معاونت شامل کی جائے، بالخصوص بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے، کیونکہ ایچ آئی ای ایس میں خوراک کی کھپت میں کمی صاف بتا رہی ہے کہ نقصان کہاں ہو رہا ہے۔ اسے خودکار بنایا جائے تاکہ ہر معاشی یا موسمی جھٹکے پر گھرانوں کو ریاست کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورلیپ ہوتے جھٹکوں کے اس دور میں سنجیدہ ریاستیں یہی کرتی ہیں: وہ منڈیوں ہی نہیں، گھرانوں کے لیے خودکار استحکام پیدا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ آئی ای ایس 2024–25 محض ایک رپورٹ نہیں۔ یہ گندم، دالوں، دودھ اور کمانے والوں کی زبان میں لکھی گئی ایک تنبیہ ہے۔ اگر ہم اسے نظرانداز کریں اور میکرو سطح کے سکون کا جشن مناتے رہیں تو ہم ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولیں گے جو کاغذوں میں مستحکم اور حقیقی زندگی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی پالیسی اشرافیہ جشن کے موڈ میں ہے۔ گزشتہ سال کی انتہاؤں کے بعد مہنگائی میں کمی آئی ہے، شرحِ مبادلہ نسبتاً پُرسکون دکھائی دیتا ہے اور ’’استحکام‘‘ کو بحالی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اگر یہ جاننا ہو کہ معیشت واقعی سنبھل رہی ہے یا نہیں تو پریس کانفرنسوں یا میکرو ڈیش بورڈز کو مت دیکھیں۔ باورچی خانے کی میز کو دیکھیں۔</strong></p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے گھریلو آمدنی و اخراجات کے سروے ( ایچ آئی ای ایس) 2024–25 سے معلوم ہوتا ہے کہ گھرانے کس طرح حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے نتائج کسی بحالی کی نہیں بلکہ سکڑاؤ کی تصویر پیش کرتے ہیں — خوراک میں، وقار میں اور مواقع میں سکڑاؤ۔ اور یہ سکڑاؤ عارضی پریشانی نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی و معاشی شگاف کا ابتدائی مرحلہ ہے۔</p>
<p>خوراک سے آغاز کریں۔ فی کس ماہانہ استعمال (مقدار کے لحاظ سے) سے متعلق اعداد و شمار خاموشی سے تباہ کن ہیں۔ 2018–19 سے 2024–25 کے درمیان اُن اشیاء کی اوسط ماہانہ کھپت میں کمی آئی جو غریب گھرانوں کی بقا کی بنیاد ہیں۔ گندم اور آٹے کا استعمال فی کس 7.00 کلوگرام سے کم ہو کر 6.59 کلوگرام رہ گیا۔ چاول 1.06 کلوگرام سے گھٹ کر 0.86 کلوگرام ہو گئے۔ دالیں، جو لاکھوں افراد کے لیے سستا ترین پروٹین ہیں، 0.35 کلوگرام سے کم ہو کر 0.26 کلوگرام رہ گئیں۔ دودھ کی کھپت فی کس 6.85 لیٹر سے گھٹ کر 6.15 لیٹر ہو گئی۔ حتیٰ کہ گوشت بھی متاثر ہوا: گائے کا گوشت 0.19 کلوگرام سے کم ہو کر 0.11 کلوگرام اور مٹن 0.06 کلوگرام سے گھٹ کر 0.05 کلوگرام رہ گیا۔ یہ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں نہیں، یہ پریشانی کے واضح اشارے ہیں۔</p>
<p>جب کوئی معاشرہ کم گندم، کم دالیں اور کم دودھ استعمال کرنے لگے تو وہ ’’ایڈجسٹ‘‘ نہیں کر رہا ہوتا بلکہ اسے ناقص خوراک پر مجبور کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں اجرتیں قیمتوں سے پیچھے رہ جاتی ہیں اور غیر رسمی روزگار غالب ہو، حقیقی آمدنی میں کمی اسی طرح ظاہر ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو اس کے بچوں پر اثرات ہیں: کم پروٹین، کم دودھ اور غذائی تنوع میں کمی جسمانی نشوونما اور سیکھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ آپ اسے استحکام کہہ سکتے ہیں، مگر غذائی قلت کو میکرو بیانیے کی پروا نہیں ہوتی۔</p>
<p>اب آمدنی کمانے کی صلاحیت پر نظر ڈالیں۔ ایچ آئی ای ایس کے مطابق 2018–19 سے 2024–25 کے درمیان فی گھرانہ اوسط کمانے والوں کی تعداد 1.86 سے کم ہو کر 1.72 رہ گئی۔ شہری علاقوں میں یہ تعداد 1.75 سے گھٹ کر 1.62 اور دیہی علاقوں میں 1.92 سے کم ہو کر 1.78 ہو گئی۔ پنجاب کو سب سے شدید دھچکا لگا، جہاں فی گھرانہ کمانے والوں کی تعداد 1.63 سے گر کر 1.34 رہ گئی۔ یہ ایک ساختی انتباہ ہے: ایسے وقت میں جب بنیادی اخراجات — خوراک، کرایہ، ٹرانسپورٹ اور تعلیم — تیزی سے بڑھے ہیں، کم لوگ تقریباً وہی گھریلو ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں ’’روزگار‘‘ کی کہانی گمراہ کن بن جاتی ہے۔ پاکستان اکثر خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ لوگ کام کر رہے ہیں، اس لیے معیشت چل رہی ہے۔ مگر پاکستان میں کام کا مطلب اکثر غیر یقینی اوقات، کم پیداوار اور کسی تحفظ کا نہ ہونا ہوتا ہے۔ خود ایچ آئی ای ایس یاد دلاتا ہے کہ اگر کسی شخص نے مہینے میں صرف ایک گھنٹہ کام کیا ہو یا سال میں کسی بھی وقت کاروبار کیا ہو تو اسے ملازم شمار کر لیا جاتا ہے۔ درجہ بندی کے لیے یہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر اس سے ایک تلخ حقیقت چھپ جاتی ہے: اب روزگار بھی تحفظ کی ضمانت نہیں رہا۔</p>
<p>روزگار کا ڈھانچہ اس انداز میں بدل رہا ہے جو ہر اس شخص کے لیے تشویشناک ہونا چاہیے جو سمجھتا ہے کہ لیبر مارکیٹ جھٹکوں کو جذب کر رہی ہے۔ ملازمین کا حصہ 54.80 فیصد سے بڑھ کر 60.10 فیصد ہو گیا، جبکہ خود روزگار 24.70 فیصد سے کم ہو کر 21.75 فیصد رہ گیا۔ سادہ الفاظ میں، پاکستان کی غیر رسمی کاروباری سرگرمیاں جو جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، کمزور ہو رہی ہیں، اور زیادہ لوگ اجرتی ملازمت پر انحصار کرنے لگے ہیں، ایسے معاشی ماحول میں جو معقول اجرتیں پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ جب محدود رسمی ملازمتوں والے ملک میں خود روزگار کم ہو تو اس کا مطلب عموماً خوشحالی نہیں ہوتا بلکہ یہ اشارہ ہوتا ہے کہ چھوٹے کاروبار بلند لاگت، کمزور طلب اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے باعث دباؤ میں آ گئے ہیں۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والے اپنے سابقہ کالم ’’ آ ورک فورس ناٹ ریڈی فار ٹیک آف ‘‘ میں، جو لیبر فورس سروے 2025 پر مبنی تھا، میں نے افرادی قوت کی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کی تھی۔ ایچ آئی ای ایس 2025 کے نتائج کمزور طلب اور جدت کی کمی کے باعث لیبر مارکیٹ کے انہی مسائل کو مزید تقویت دیتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد توانائی کا دباؤ آتا ہے، جو شاید گھریلو زوال کا سب سے کم سمجھے جانے والا محرک ہے۔ ایچ آئی ای ایس کے مطابق 2024–25 میں قومی سطح پر گھریلو ایندھن کے اخراجات میں بجلی کا حصہ 55.91 فیصد رہا، جبکہ گیس 18.85 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ دیہی علاقوں میں بھی بجلی 44.23 فیصد کے ساتھ سب سے بڑا جزو ہے، مگر دوسرا بڑا حصہ لکڑی کا ہے جو 28.95 فیصد بنتا ہے، یہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ توانائی کی غربت اب بھی حقیقی اور مستقل مسئلہ ہے۔ بلند بجلی ٹیرف اگرچہ گردشی قرضے کی فائلوں کو متوازن دکھا سکتے ہیں، مگر وہ عملی طور پر گھرانوں پر ایک خاموش ٹیکس بن جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں خاندان خوراک کے معیار میں کمی، طبی علاج میں تاخیر اور بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع سے محروم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>گھریلو سطح پر یہ سکڑاؤ خلا میں نہیں ہو رہا۔ یہ ایک کے بعد ایک آنے والے جھٹکوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔ پاکستان نے کووِڈ کی رکاوٹ، عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے، شدید سیلابی تباہی جس نے روزگار اور غذائی نظام کو نقصان پہنچایا، شرحِ مبادلہ کے بار بار قیمتوں میں منتقل ہونے والے اثرات، اور طویل پالیسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کیا جس نے سرمایہ کاری اور روزگار کی تخلیق کو موخر رکھا۔ قدرتی آفات نے صرف فصلیں اور گھر تباہ نہیں کیے بلکہ خوراک کی قیمتیں بڑھائیں اور عدم تحفظ میں اضافہ کیا۔ معاشی جھٹکوں نے صرف مہنگائی نہیں بڑھائی بلکہ حقیقی اجرتوں کو کمزور کیا اور مزید کارکنوں کو نازک حکمتِ عملیوں پر مجبور کر دیا۔</p>
<p>نتیجہ ایک خاموش انہدام کی صورت میں سامنے آیا ہے جو اشرافیہ کی گفتگو میں نظر نہیں آتا: ایک گھریلو معیشت جو بتدریج اپنی بہتر خوراک مہیا کرنے، بچوں پر سرمایہ کاری کرنے اور آئندہ جھٹکوں کے مقابلے میں خود کو مضبوط بنانے کی صلاحیت کھو رہی ہے۔ کوئی ملک ایک بحران برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن اگر گھرانوں کو مستقل طور پر اپنی خوراک اور امنگیں گھٹانے پر مجبور کیا جائے تو بار بار کے بحرانوں کے ساتھ بقا ممکن نہیں رہتی۔</p>
<p>اس کا پالیسی کے لیے کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ استحکام کے نظریے کو ازسرِنو لکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر استحکام گھریلو کھپت کو کچل کر حاصل کیا جا رہا ہے تو یہ استحکام نہیں بلکہ موخر شدہ عدم استحکام ہے۔ بھوکے شہری، تھکے ہوئے محنت کش اور زوال پذیر انسانی سرمایہ ترقی کی بنیاد نہیں ہوتے۔ یہ سماجی دباؤ کی بنیاد بنتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو بے شمار اصلاحات درکار ہیں، لیکن اگر اس بحران کی شدت کے مطابق ایک جرات مندانہ قدم اٹھانا ہو تو وہ یہ ہونا چاہیے: <strong>شاک ریسپانسِو ہاؤس ہولڈ پروٹیکشن گارنٹی،</strong> خودکار، ضابطہ جاتی اور قابلِ پیمائش دباؤ کے اشاریوں سے منسلک۔ نہ کوئی نیا صوابدیدی پیکیج، نہ کوئی وقتی سبسڈی۔ ایک ضمانت۔</p>
<p>اسے واضح محرکات سے جوڑا جائے، جیسے خوراک کی مہنگائی، توانائی کے نرخوں میں اچانک اضافہ اور آفات کے اعلانات۔ ملک کے موجودہ ہدف بندی کے نظام (این ایس ای آر/بی آئی ایس پی) کو استعمال کیا جائے اور غذائیت سے متعلق معاونت شامل کی جائے، بالخصوص بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے، کیونکہ ایچ آئی ای ایس میں خوراک کی کھپت میں کمی صاف بتا رہی ہے کہ نقصان کہاں ہو رہا ہے۔ اسے خودکار بنایا جائے تاکہ ہر معاشی یا موسمی جھٹکے پر گھرانوں کو ریاست کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔</p>
<p>اوورلیپ ہوتے جھٹکوں کے اس دور میں سنجیدہ ریاستیں یہی کرتی ہیں: وہ منڈیوں ہی نہیں، گھرانوں کے لیے خودکار استحکام پیدا کرتی ہیں۔</p>
<p>ایچ آئی ای ایس 2024–25 محض ایک رپورٹ نہیں۔ یہ گندم، دالوں، دودھ اور کمانے والوں کی زبان میں لکھی گئی ایک تنبیہ ہے۔ اگر ہم اسے نظرانداز کریں اور میکرو سطح کے سکون کا جشن مناتے رہیں تو ہم ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولیں گے جو کاغذوں میں مستحکم اور حقیقی زندگی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281328</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 16:16:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صائمہ نواز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/061603426f5c205.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/061603426f5c205.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
