<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2025 میں دہشت گردی کے 71 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے ، ڈی جی آئی ایس پی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281323/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنزلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں سے 71 فیصد خیبر پختونخوا میں پیش آئے، اس کے بعد 29 فیصد بلوچستان میں اور ملک کے باقی حصوں میں محض ایک چھوٹا سا حصہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 5,397 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، جن میں سے 3,811 خیبر پختونخوا میں پیش آئے جو کہ 71 فیصد بنتا ہے، 1,557 واقعات بلوچستان میں (29 فیصد) اور ملک کے دیگر حصوں میں صرف 29 واقعات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 14,658 خیبر پختونخوا میں، 58,778 بلوچستان میں اور 1,739 ملک کے باقی حصوں میں کیے گئے۔ گزشتہ 5 برسوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودہدی نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 2021 میں 761 سے تیزی سے بڑھ کر 2025 میں 5,397 تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ’خوارج‘ کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ان کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ افغان حکمرانوں کو وعدے پورے نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ 2021 میں افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد دوحہ معاہدہ طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افغان حکام نے کہا تھا کہ وہ ایک ہمہ گیر حکومت لائیں گے، افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں گے لیکن یہ تینوں وعدے پورے نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں مختلف نسلیں آباد ہیں لیکن وہاں کی حکومت میں ہمہ گیریت نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والے بیشتر دہشت گرد حملوں میں افغان شہری ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاق رائے موجود ہے، تاہم اس پر عملدرآمد میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اس طویل اور کٹھن جنگ میں سکیورٹی فورسز اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور گزشتہ سال 1,235 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ترجمان نے کہا کہ 2025 میں ملک بھر میں 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبر پختونخوا میں ہوئے، جبکہ ان میں سے دو خودکش حملے خواتین نے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے افغانستان میں ٹھکانے موجود ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ حالیہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 2,500 دہشت گرد شام سے افغانستان پہنچ چکے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے کیونکہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کی اصل وجوہات مختلف تھیں اور 134 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود وہ وہاں پائیدار امن قائم کرنے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے وقت جدید اسلحے کی بڑی مقدار چھوڑ گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے اور یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگرچہ افغان طالبان سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے خیبر پختونخوا میں ایک مسجد پر حملہ کیا، جس کے بعد چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خود پشاور کا دورہ کیا اور مسجد کے ملبے پر کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر پاکستان کو درپیش دہشت گردی کی سطح کا صرف پانچ فیصد بھی کسی اور ملک میں ہو جائے تو وہ ریاست اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنزلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں سے 71 فیصد خیبر پختونخوا میں پیش آئے، اس کے بعد 29 فیصد بلوچستان میں اور ملک کے باقی حصوں میں محض ایک چھوٹا سا حصہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 5,397 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، جن میں سے 3,811 خیبر پختونخوا میں پیش آئے جو کہ 71 فیصد بنتا ہے، 1,557 واقعات بلوچستان میں (29 فیصد) اور ملک کے دیگر حصوں میں صرف 29 واقعات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 14,658 خیبر پختونخوا میں، 58,778 بلوچستان میں اور 1,739 ملک کے باقی حصوں میں کیے گئے۔ گزشتہ 5 برسوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودہدی نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 2021 میں 761 سے تیزی سے بڑھ کر 2025 میں 5,397 تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ’خوارج‘ کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ان کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ افغان حکمرانوں کو وعدے پورے نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ 2021 میں افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد دوحہ معاہدہ طے پایا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افغان حکام نے کہا تھا کہ وہ ایک ہمہ گیر حکومت لائیں گے، افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں گے لیکن یہ تینوں وعدے پورے نہیں کیے گئے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں مختلف نسلیں آباد ہیں لیکن وہاں کی حکومت میں ہمہ گیریت نظر نہیں آتی۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والے بیشتر دہشت گرد حملوں میں افغان شہری ملوث تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاق رائے موجود ہے، تاہم اس پر عملدرآمد میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اس طویل اور کٹھن جنگ میں سکیورٹی فورسز اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور گزشتہ سال 1,235 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔</p>
<p>فوجی ترجمان نے کہا کہ 2025 میں ملک بھر میں 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبر پختونخوا میں ہوئے، جبکہ ان میں سے دو خودکش حملے خواتین نے کیے۔</p>
<p>افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے افغانستان میں ٹھکانے موجود ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ حالیہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 2,500 دہشت گرد شام سے افغانستان پہنچ چکے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے کیونکہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کی اصل وجوہات مختلف تھیں اور 134 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود وہ وہاں پائیدار امن قائم کرنے میں ناکام رہیں۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے وقت جدید اسلحے کی بڑی مقدار چھوڑ گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے اور یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگرچہ افغان طالبان سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے خیبر پختونخوا میں ایک مسجد پر حملہ کیا، جس کے بعد چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خود پشاور کا دورہ کیا اور مسجد کے ملبے پر کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا۔</p>
<p>انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر پاکستان کو درپیش دہشت گردی کی سطح کا صرف پانچ فیصد بھی کسی اور ملک میں ہو جائے تو وہ ریاست اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281323</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 15:18:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/061518176b67833.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/061518176b67833.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/oalG6A_xmT8/maxresdefault_live.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/oalG6A_xmT8/mqdefault_live.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=oalG6A_xmT8"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
