<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی بحالی یا صرف اعدادوشمار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281317/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ  کی ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک رپورٹ میں معیشت کی بحالی کی تصویر کشی کی گئی ہے جس کی بنیاد افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی، مالیاتی توازن میں بہتری اور جی ڈی پی کی سہ ماہی شرح نمو 3.7 فیصد پر ہے جو حقیقی معیشت کے تمام شعبوں میں وسیع البنیاد بحالی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہری طور پر دیکھا جائے تو یہ اعدادوشمار ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتے ہیں جو ایک مشکل دور کے بعد دوبارہ اپنی رفتارحاصل کررہا ہے، تاہم بنیادی حقائق اور ڈیٹا ایک زیادہ محتاط اور محدود کہانی بیان کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس سہ ماہی میں وہ خسارے بھی شامل ہیں جو سیلاب سے متاثرہ فصلوں کے باعث ہوئے جنہیں حکومت نے خود ماحولیاتی نقصان کے وسیع اثرات کے ثبوت کے طور پر اجاگر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک اور فیڈرل کاٹن اسسمنٹ کے پہلے سے شائع شدہ تخمینوں کے مطابق، خریف کی کئی اہم فصلوں کی پیداوار گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم رہی، جبکہ لائیواسٹاک (مویشیوں) کی قیمتوں میں اضافے کی شرح (مہنگائی) اب بھی طویل مدتی رجحان کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ڈی اے پی  کھاد کی فروخت میں 16 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان ناموافق حالات کے باوجود مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی  کے دوران زرعی جی ڈی پی میں 2.9 فیصد کی شرح سے نمو رپورٹ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ نیشنل اکاؤنٹس کے اعداد و شمار لائیواسٹاک (مویشیوں کے شعبے) میں سالانہ 6.3 فیصد اضافے کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیمتوں میں تیزی سے ہوتا اضافہ اور اس کے ساتھ ساتھ گھرانوں کی قوتِ خرید میں کمی، پیداوار میں اضافے کے بجائے رسد میں کمی کی زیادہ واضح نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلے دو سال کے دوران بیف ، مٹن اور تازہ دودھ کی قیمتوں میں خوراک کی دیگر اشیاء کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح، کھاد کے استعمال میں کمی عام طور پر کم پیداوار کا پیش خیمہ ہوتی ہے، نہ کہ بہتر ویلیو ایڈڈ کارکردگی کا۔ کسان کھاد کے استعمال میں کٹوتی اس وقت کرتے ہیں جب ان کا منافع کم ہو، نقدی کی کمی ہو یا خطرات بڑھ گئے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا کھاد کے استعمال میں کمی، مویشیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو وزارتِ خزانہ کے اس دعوے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے کہ زرعی جی ڈی پی میں ہر سطح پر مضبوطی اور بہتری دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کی اس رپورٹ میں یہی تضاد دیگر جگہوں پر بھی دہرایا گیا ہے۔ صنعتی شعبے کو بھی اسی طرح مثبت اور پُرامید انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ سہ ماہی جی ڈی پی  کے اعداد و شمار مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی  میں 9.4 فیصد کی صنعتی ترقی دکھاتے ہیں، جس میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، یہاں بھی پس منظر اور حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار) میں گزشتہ برسوں کے دوران پہلے ہی بھاری گراوٹ آچکی تھی اور یہ شعبہ اپنی کم ترین سطح  پر کام کررہا تھا۔ اب جیسے ہی درآمدی پابندیاں ختم ہوئی ہیں اور انونٹریز (مال کا ذخیرہ) معمول پر آرہی ہیں، تو معمولی بحالی خود بخود متوقع ہوتی ہے۔ یہ بہتری حقیقت تو ہے لیکن یہ صرف حالات کے معمول پر آنے کی عکاسی کرتی ہے، نہ کہ معیشت میں کسی فیصلہ کن ساختی تبدیلی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جی ڈی پی کے اعدادوشمار بجلی، گیس اور پانی کے شعبوں میں 20 فیصد سے زائد کی شرحِ نمو دکھا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بجلی و گیس کے نرخوں  میں اضافے کی وجہ سے طلب میں آنے والی کمی، عام آدمی کی قوتِ خرید پر دباؤ، گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے خدشات اور مجموعی کھپت کے جمود کا شکار اشاریوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروسز سیکٹر بھی اسی طرح کی کہانی بیان کرتا ہے۔ مالیات اور بیمہ کے شعبے کی جی ڈی پی  میں 10 فیصد سے زائد نمو رپورٹ کی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجی شعبے کا کریڈٹ 2025 کے آغاز سے حد بندی میں رہا، اے ڈی آر کے تناسب تاریخی کم ترین سطح کے قریب ہیں اور بینک حکومت کے سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے ایس بی پی سے اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے قرض لیتے رہے ہیں۔ مالی خدمات میں حقیقی اضافے کے لیے عام طور پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ نجی شعبے کی ثالثی مضبوط ہو، طویل مدتی قرضے بڑھیں اور مالی مصنوعات کی رسائی گہری ہو۔ لیکن یہ شرائط ابھی رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار میں نظر نہیں آتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے حوالے سے بھی تصویر تقریباً اسی طرح کی ہے۔ مجموعی سی پی آئی واقعی گزشتہ سال کے عروج کے مقابلے میں معتدل ہوئی ہے لیکن وزارتِ خزانہ کی اپ ڈیٹ اس سے زیادہ معنی خیز اشارے یعنی کور انفلیشن پر کم توجہ دیتی ہے۔ کور انفلیشن، جو غیر مستحکم خوراک اور توانائی کے اجزاء کو خارج کر کے ناپی جاتی ہے، ابھی بھی بلند سطح پر ہے اور اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد کی حد میں واپس نہیں آئی۔ 2025 کے دوران شہری اور دیہی دونوں شعبوں میں این ایف این ای (غیر خوراک غیر توانائی) کور انفلیشن اس ہدف کی حد سے کافی اوپر برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران افراطِ زر کی شرح میں ہونے والی زیادہ تر کمی بیس ایفیکٹ  کی درستگی اور خوراک و توانائی کی قیمتوں میں پہلے سے ہونے والی معمولی کمی کی وجہ سے تھی، نہ کہ قیمتوں یا طلب کے بنیادی دباؤ میں کسی ہمہ گیر کمی کی وجہ سے۔ جیسے ہی ہم 2026 میں داخل ہو رہے ہیں، یہ ’بیس ایفیکٹس‘ ختم ہو رہے ہیں، اور وہ شماریاتی اثر جس نے مہنگائی کے اعداد و شمار کو نیچے کھینچ رکھا تھا، اب ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔ ایسی صورتحال میں، کور انفلیشن کا مستقل بلند رہنا اس بات کا بہت کم اطمینان دلاتا ہے کہ پاکستان نے قیمتوں میں استحکام پر مکمل قابو پالیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ گھرانوں کے اخراجات کا ڈھانچہ اب بھی سخت ہے، چاہے مہنگائی کے مجموعی اعداد و شمار  بہتر ہی کیوں نہ نظر آئیں۔ دودھ، گوشت، تعلیم، صحت اور خدمات جیسے شعبوں میں قیمتیں اب بھی جمود کا شکار ہیں اور نیچے نہیں آرہیں ۔ یہ وہ زمرے ہیں جو زیادہ تر شہری اور دیہی خاندانوں کے روزمرہ کے اخراجات پر حاوی ہیں۔ مہنگائی میں پائیدار کمی کے لیے ضروری ہے کہ کور انفلیشن  مقررہ ہدف کے اندر آ جائے اور وہیں ٹھہری رہے۔ ایسا ابھی تک نہیں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی محاذ پر مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں مشترکہ اکاؤنٹس سرپلس میں رپورٹ کیے گئے ہیں جو کاغذی اعتبار سے حوصلہ افزا ہے۔ لیکن تفصیلی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اس بہتری کی زیادہ تر وجہ غیر معمولی غیر ٹیکس آمدنی ہے، خاص طور پر اسٹیٹ بینک سے منافع کی منتقلی، اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی کلیکشنز اور صوبائی کیش سرپلس۔ یہ مالی بہاؤ سہ ماہی توازن کو بہتر کرتا ہے لیکن فنڈ پروگرام کے دو سال بعد بھی ٹیکس بیس میں وسیع پیمانے پر مضبوطی یا ساختی اخراجات میں اصلاح کے کوئی آثار نہیں ملتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخراجات کے لحاظ سے بنیادی دباؤ برقرار ہے۔ سود کے اخراجات اب بھی بلند سطح پر ہیں، ترقیاتی اخراجات ساختی طور پر کم ہیں اور پینشنز، سبسڈیز اور خسارہ دینے والی سرکاری کمپنیوں جیسے اخراجات میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ اس معنی میں، مالی توازن گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر نظر آتا ہے، لیکن زیادہ تر یہ ایک مرتبہ کے مالی بہاؤ اور آئی ایم ایف کی ہدایت شدہ پابندیوں کی وجہ سے ہے، نہ کہ پائیدار مالی اصلاحات کی وجہ سے۔سالانہ بہتری حقیقی ہوسکتی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ پاکستان کے مالیاتی راستے میں مستقل تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین سال میں استحکام اور نمو کے درمیان فرق اہم رہا ہے۔ استحکام ضروری تھا جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، لیکن یہ حتمی منزل نہیں ہو سکتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کو اب ہر قیمت پر نمو کے لیے توسیعی پالیسی اپنانا چاہیے۔ البتہ یہ  ضروری ہے کہ توجہ آہستہ آہستہ بحران کے انتظام سے ہٹ کر ان ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کی طرف منتقل کی جائے جو نمو کو نازک رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ فطری طور پر مالی حکام کے نقطہ نظر کو پیش کرے گی۔ لیکن صرف ماہانہ نتائج کی رپورٹنگ کے بجائے، یہ زیادہ تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے اگر اس میں واضح اور مستقل طور پر وہ اقدامات بھی بیان کیے جائیں جو پاکستان کی معیشت میں موجود ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اس سے گفتگو خود تشخیصی سے حکمت عملی کی جانب منتقل ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی اعداد و شمار بھلے ہی بہتر ہورہے ہوں، لیکن اصل کام اور چیلنجز اب بھی وہی ہیں: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، سرکاری اداروں  میں اصلاحات، سبسڈیز کو منطقی بنانا، توانائی اور ریگولیٹری نظام کی کارکردگی میں بہتری اور نجی سرمایہ کاری و پیداواری صلاحیت کی حمایت کرنا۔ ماہانہ بنیادوں پر خوراک کی قیمتوں پر تبصرے کے بجائے، ان ٹھوس محاذوں پر ہونے والی پیشرفت ہی آخر کار اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ معاشی استحکام ایک پائیدار ترقی میں تبدیل ہو پاتا ہے یا نہیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ  کی ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک رپورٹ میں معیشت کی بحالی کی تصویر کشی کی گئی ہے جس کی بنیاد افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی، مالیاتی توازن میں بہتری اور جی ڈی پی کی سہ ماہی شرح نمو 3.7 فیصد پر ہے جو حقیقی معیشت کے تمام شعبوں میں وسیع البنیاد بحالی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>ظاہری طور پر دیکھا جائے تو یہ اعدادوشمار ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتے ہیں جو ایک مشکل دور کے بعد دوبارہ اپنی رفتارحاصل کررہا ہے، تاہم بنیادی حقائق اور ڈیٹا ایک زیادہ محتاط اور محدود کہانی بیان کرتے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ اس سہ ماہی میں وہ خسارے بھی شامل ہیں جو سیلاب سے متاثرہ فصلوں کے باعث ہوئے جنہیں حکومت نے خود ماحولیاتی نقصان کے وسیع اثرات کے ثبوت کے طور پر اجاگر کیا تھا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک اور فیڈرل کاٹن اسسمنٹ کے پہلے سے شائع شدہ تخمینوں کے مطابق، خریف کی کئی اہم فصلوں کی پیداوار گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم رہی، جبکہ لائیواسٹاک (مویشیوں) کی قیمتوں میں اضافے کی شرح (مہنگائی) اب بھی طویل مدتی رجحان کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ڈی اے پی  کھاد کی فروخت میں 16 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان ناموافق حالات کے باوجود مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی  کے دوران زرعی جی ڈی پی میں 2.9 فیصد کی شرح سے نمو رپورٹ کی گئی۔</p>
<p>اگرچہ نیشنل اکاؤنٹس کے اعداد و شمار لائیواسٹاک (مویشیوں کے شعبے) میں سالانہ 6.3 فیصد اضافے کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیمتوں میں تیزی سے ہوتا اضافہ اور اس کے ساتھ ساتھ گھرانوں کی قوتِ خرید میں کمی، پیداوار میں اضافے کے بجائے رسد میں کمی کی زیادہ واضح نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>پچھلے دو سال کے دوران بیف ، مٹن اور تازہ دودھ کی قیمتوں میں خوراک کی دیگر اشیاء کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح، کھاد کے استعمال میں کمی عام طور پر کم پیداوار کا پیش خیمہ ہوتی ہے، نہ کہ بہتر ویلیو ایڈڈ کارکردگی کا۔ کسان کھاد کے استعمال میں کٹوتی اس وقت کرتے ہیں جب ان کا منافع کم ہو، نقدی کی کمی ہو یا خطرات بڑھ گئے ہوں۔</p>
<p>لہٰذا کھاد کے استعمال میں کمی، مویشیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو وزارتِ خزانہ کے اس دعوے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے کہ زرعی جی ڈی پی میں ہر سطح پر مضبوطی اور بہتری دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کی اس رپورٹ میں یہی تضاد دیگر جگہوں پر بھی دہرایا گیا ہے۔ صنعتی شعبے کو بھی اسی طرح مثبت اور پُرامید انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ سہ ماہی جی ڈی پی  کے اعداد و شمار مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی  میں 9.4 فیصد کی صنعتی ترقی دکھاتے ہیں، جس میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، یہاں بھی پس منظر اور حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار) میں گزشتہ برسوں کے دوران پہلے ہی بھاری گراوٹ آچکی تھی اور یہ شعبہ اپنی کم ترین سطح  پر کام کررہا تھا۔ اب جیسے ہی درآمدی پابندیاں ختم ہوئی ہیں اور انونٹریز (مال کا ذخیرہ) معمول پر آرہی ہیں، تو معمولی بحالی خود بخود متوقع ہوتی ہے۔ یہ بہتری حقیقت تو ہے لیکن یہ صرف حالات کے معمول پر آنے کی عکاسی کرتی ہے، نہ کہ معیشت میں کسی فیصلہ کن ساختی تبدیلی کی۔</p>
<p>دریں اثنا جی ڈی پی کے اعدادوشمار بجلی، گیس اور پانی کے شعبوں میں 20 فیصد سے زائد کی شرحِ نمو دکھا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بجلی و گیس کے نرخوں  میں اضافے کی وجہ سے طلب میں آنے والی کمی، عام آدمی کی قوتِ خرید پر دباؤ، گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے خدشات اور مجموعی کھپت کے جمود کا شکار اشاریوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔</p>
<p>سروسز سیکٹر بھی اسی طرح کی کہانی بیان کرتا ہے۔ مالیات اور بیمہ کے شعبے کی جی ڈی پی  میں 10 فیصد سے زائد نمو رپورٹ کی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجی شعبے کا کریڈٹ 2025 کے آغاز سے حد بندی میں رہا، اے ڈی آر کے تناسب تاریخی کم ترین سطح کے قریب ہیں اور بینک حکومت کے سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے ایس بی پی سے اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے قرض لیتے رہے ہیں۔ مالی خدمات میں حقیقی اضافے کے لیے عام طور پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ نجی شعبے کی ثالثی مضبوط ہو، طویل مدتی قرضے بڑھیں اور مالی مصنوعات کی رسائی گہری ہو۔ لیکن یہ شرائط ابھی رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار میں نظر نہیں آتیں۔</p>
<p>مہنگائی کے حوالے سے بھی تصویر تقریباً اسی طرح کی ہے۔ مجموعی سی پی آئی واقعی گزشتہ سال کے عروج کے مقابلے میں معتدل ہوئی ہے لیکن وزارتِ خزانہ کی اپ ڈیٹ اس سے زیادہ معنی خیز اشارے یعنی کور انفلیشن پر کم توجہ دیتی ہے۔ کور انفلیشن، جو غیر مستحکم خوراک اور توانائی کے اجزاء کو خارج کر کے ناپی جاتی ہے، ابھی بھی بلند سطح پر ہے اور اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد کی حد میں واپس نہیں آئی۔ 2025 کے دوران شہری اور دیہی دونوں شعبوں میں این ایف این ای (غیر خوراک غیر توانائی) کور انفلیشن اس ہدف کی حد سے کافی اوپر برقرار رہی۔</p>
<p>یہ فرق انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران افراطِ زر کی شرح میں ہونے والی زیادہ تر کمی بیس ایفیکٹ  کی درستگی اور خوراک و توانائی کی قیمتوں میں پہلے سے ہونے والی معمولی کمی کی وجہ سے تھی، نہ کہ قیمتوں یا طلب کے بنیادی دباؤ میں کسی ہمہ گیر کمی کی وجہ سے۔ جیسے ہی ہم 2026 میں داخل ہو رہے ہیں، یہ ’بیس ایفیکٹس‘ ختم ہو رہے ہیں، اور وہ شماریاتی اثر جس نے مہنگائی کے اعداد و شمار کو نیچے کھینچ رکھا تھا، اب ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔ ایسی صورتحال میں، کور انفلیشن کا مستقل بلند رہنا اس بات کا بہت کم اطمینان دلاتا ہے کہ پاکستان نے قیمتوں میں استحکام پر مکمل قابو پالیا ہے۔</p>
<p>عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ گھرانوں کے اخراجات کا ڈھانچہ اب بھی سخت ہے، چاہے مہنگائی کے مجموعی اعداد و شمار  بہتر ہی کیوں نہ نظر آئیں۔ دودھ، گوشت، تعلیم، صحت اور خدمات جیسے شعبوں میں قیمتیں اب بھی جمود کا شکار ہیں اور نیچے نہیں آرہیں ۔ یہ وہ زمرے ہیں جو زیادہ تر شہری اور دیہی خاندانوں کے روزمرہ کے اخراجات پر حاوی ہیں۔ مہنگائی میں پائیدار کمی کے لیے ضروری ہے کہ کور انفلیشن  مقررہ ہدف کے اندر آ جائے اور وہیں ٹھہری رہے۔ ایسا ابھی تک نہیں ہوا ہے۔</p>
<p>مالیاتی محاذ پر مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں مشترکہ اکاؤنٹس سرپلس میں رپورٹ کیے گئے ہیں جو کاغذی اعتبار سے حوصلہ افزا ہے۔ لیکن تفصیلی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اس بہتری کی زیادہ تر وجہ غیر معمولی غیر ٹیکس آمدنی ہے، خاص طور پر اسٹیٹ بینک سے منافع کی منتقلی، اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی کلیکشنز اور صوبائی کیش سرپلس۔ یہ مالی بہاؤ سہ ماہی توازن کو بہتر کرتا ہے لیکن فنڈ پروگرام کے دو سال بعد بھی ٹیکس بیس میں وسیع پیمانے پر مضبوطی یا ساختی اخراجات میں اصلاح کے کوئی آثار نہیں ملتے۔</p>
<p>اخراجات کے لحاظ سے بنیادی دباؤ برقرار ہے۔ سود کے اخراجات اب بھی بلند سطح پر ہیں، ترقیاتی اخراجات ساختی طور پر کم ہیں اور پینشنز، سبسڈیز اور خسارہ دینے والی سرکاری کمپنیوں جیسے اخراجات میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ اس معنی میں، مالی توازن گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر نظر آتا ہے، لیکن زیادہ تر یہ ایک مرتبہ کے مالی بہاؤ اور آئی ایم ایف کی ہدایت شدہ پابندیوں کی وجہ سے ہے، نہ کہ پائیدار مالی اصلاحات کی وجہ سے۔سالانہ بہتری حقیقی ہوسکتی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ پاکستان کے مالیاتی راستے میں مستقل تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ تین سال میں استحکام اور نمو کے درمیان فرق اہم رہا ہے۔ استحکام ضروری تھا جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، لیکن یہ حتمی منزل نہیں ہو سکتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کو اب ہر قیمت پر نمو کے لیے توسیعی پالیسی اپنانا چاہیے۔ البتہ یہ  ضروری ہے کہ توجہ آہستہ آہستہ بحران کے انتظام سے ہٹ کر ان ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کی طرف منتقل کی جائے جو نمو کو نازک رکھتی ہیں۔</p>
<p>ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ فطری طور پر مالی حکام کے نقطہ نظر کو پیش کرے گی۔ لیکن صرف ماہانہ نتائج کی رپورٹنگ کے بجائے، یہ زیادہ تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے اگر اس میں واضح اور مستقل طور پر وہ اقدامات بھی بیان کیے جائیں جو پاکستان کی معیشت میں موجود ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اس سے گفتگو خود تشخیصی سے حکمت عملی کی جانب منتقل ہو جائے گی۔</p>
<p>مجموعی اعداد و شمار بھلے ہی بہتر ہورہے ہوں، لیکن اصل کام اور چیلنجز اب بھی وہی ہیں: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، سرکاری اداروں  میں اصلاحات، سبسڈیز کو منطقی بنانا، توانائی اور ریگولیٹری نظام کی کارکردگی میں بہتری اور نجی سرمایہ کاری و پیداواری صلاحیت کی حمایت کرنا۔ ماہانہ بنیادوں پر خوراک کی قیمتوں پر تبصرے کے بجائے، ان ٹھوس محاذوں پر ہونے والی پیشرفت ہی آخر کار اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ معاشی استحکام ایک پائیدار ترقی میں تبدیل ہو پاتا ہے یا نہیں۔<br></p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281317</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 13:50:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/06131603be9a75d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/06131603be9a75d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
