<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا میں ایک درجن سے زائد میڈیا ورکرز زیرِ حراست ، نیشنل پریس ایسوسی ایشن کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281312/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینزویلا کی پریس ایسوسی ایشن کے مطابق  پیر کو دارالحکومت کاراکاس میں معزول صدر نکولس مادورو کے حق میں نکالے گئے مارچ اور ملک کی نئی قانون ساز اسمبلی کی حلف برداری کی کوریج کے دوران ایک درجن سے زائد میڈیا ورکرز کو حراست میں لے لیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ایسوسی ایشن (ایس این ٹی پی) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس  پر بتایا کہ حراست میں لیے گئے تمام 14 افراد کو بعد میں رہا کر دیا گیا، تاہم ان میں شامل ایک غیر ملکی صحافی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق زیرِ حراست افراد میں 11 بین الاقوامی میڈیا اداروں اور ایک مقامی ادارے سے وابستہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے  رائٹرز نے کہا کہ وہ آزادانہ طور پر ان تمام گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کر سکا۔ دوسری جانب وینزویلا کی وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ مواصلات نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)، اے ایف پی  اور سی این این  کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں کی یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایک رات گئے آپریشن کے دوران امریکی فوج نے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا تھا۔ پیر کے روز معزول رہنما نے نیویارک کی عدالت میں ’نارکو ٹیررازم‘ کے الزامات میں صحتِ جرم سے انکار کیا، جبکہ ان کی جگہ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عبوری سربراہ کے طور پر باگ ڈور سنبھال لی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وینزویلا کی پریس ایسوسی ایشن کے مطابق  پیر کو دارالحکومت کاراکاس میں معزول صدر نکولس مادورو کے حق میں نکالے گئے مارچ اور ملک کی نئی قانون ساز اسمبلی کی حلف برداری کی کوریج کے دوران ایک درجن سے زائد میڈیا ورکرز کو حراست میں لے لیا گیا۔</strong></p>
<p>پریس ایسوسی ایشن (ایس این ٹی پی) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس  پر بتایا کہ حراست میں لیے گئے تمام 14 افراد کو بعد میں رہا کر دیا گیا، تاہم ان میں شامل ایک غیر ملکی صحافی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق زیرِ حراست افراد میں 11 بین الاقوامی میڈیا اداروں اور ایک مقامی ادارے سے وابستہ تھا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے  رائٹرز نے کہا کہ وہ آزادانہ طور پر ان تمام گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کر سکا۔ دوسری جانب وینزویلا کی وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ مواصلات نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)، اے ایف پی  اور سی این این  کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>صحافیوں کی یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایک رات گئے آپریشن کے دوران امریکی فوج نے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا تھا۔ پیر کے روز معزول رہنما نے نیویارک کی عدالت میں ’نارکو ٹیررازم‘ کے الزامات میں صحتِ جرم سے انکار کیا، جبکہ ان کی جگہ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عبوری سربراہ کے طور پر باگ ڈور سنبھال لی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281312</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 13:25:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/06132005466fc05.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/06132005466fc05.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
