<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا کا بحران : پاکستان کا امریکی کارروائی کے بعد سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281309/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پیر کو نیویارک میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں  پاکستان نے وینزویلا کے بحران کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ یہ اجلاس لاطینی امریکی ملک کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکاس سے امریکی تحویل میں لیے جانے  کے معاملے پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، جس نے خطے اور عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ  اقوام متحدہ کا چارٹر ہمیں کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہنے کا حکم دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطرناک مثالیں قائم کرتے ہیں جن سے عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادیں کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ  یہ اقدامات عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں،جیسا کہ تاریخ نے بارہا دکھایا ہے آنے والے برسوں تک ناقابلِ پیش گوئی اور ناقابلِ قابو نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے آغاز میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کسی بھی ریاست کی سرزمین اور آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال کی ممانعت کے بنیادی اصول کا حوالہ دیا اور کہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت کے تناظر میں اقوام متحدہ کے چارٹر کا ”مکمل احترام“ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو کی جانب سے پیش کردہ بیان میں گوتریس نے کہا کہ 3 جنوری کو وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد کونسل کا یہ اجلاس ایک ”انتہائی سنگین وقت“ پر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب   نے وینزویلا میں حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایک ایسی دنیا میں جو پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے، کیریبین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس نازک موڑ پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ سیاسی اختلافات کا پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے کسی بھی بیرونی مداخلت کے بغیر اور وینزویلا کے عوام کی مرضی کے مکمل احترام کے ساتھ ہی نکالا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب  نے امید ظاہر کی کہ لاطینی امریکہ اور کیریبین خطہ بطور امن کا زون  تنازعات اور تصادم سے پاک رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ  ، کشیدگی کو کم کریں، پرامن بقائے باہمی کی راہ اپنائیں اور کسی بھی ایسے عمل سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ دے۔ ساتھ ہی مذاکرات کا آغاز کریں اور ثالثی کی مخلصانہ پیشکشوں سے فائدہ اٹھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سیکرٹری جنرل کے “گڈ آفسز (ثالثی کی خدمات) اس مقصد کے لیے ہمیشہ دستیاب ہیں۔ آخر میں انہوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری میں پاکستان کے تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ  تمام کوششوں کا بنیادی مقصد وینزویلا کا امن و استحکام اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakistanUN_NY/status/2008223974472261872?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008223974472261872%7Ctwgr%5E23c40124d51902ff4ea79fc70b344d6cf52d9f35%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40400860'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/2008223974472261872?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008223974472261872%7Ctwgr%5E23c40124d51902ff4ea79fc70b344d6cf52d9f35%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40400860"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل امریکی سفیر مائیکل والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ واشنگٹن نے دو مطلوب مفرور افراد نارکو ٹیررسٹ نکولس مادورو اور سیلیا فلورس کو گرفتار کرنے کے لیے ایک  سرجیکل لا انفورسمنٹ آپریشن کیا ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ  وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کا موازنہ 1989 میں پاناما کے مینوئل نوریگا کی گرفتاری سے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مادورو کو ایک مفرور اور   سفاک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کا رہنما قرار دیا اور الزام لگایا کہ ان کے روابط منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے ہیں جو  غیر قانونی منشیات کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے وسیع تر خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ماورائے عدالت قتل، تشدد اور من مانی گرفتاریوں کے الزامات لگائے اور نوٹ کیا کہ 80 لاکھ سے زائد وینزویلا کے شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے امریکہ کی اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ”مسلح جارحیت“ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ  آئینی طور پر منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو فوری رہا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ دوہرے معیار ترک کریں اور  امریکی عالمی تھانیدار کے خوف سے جارحیت کے اس سنگین عمل کا جواز پیش نہ کریں۔ روسی مندوب نے خبردار کیا کہ امریکہ وینزویلا کے قدرتی وسائل پر کنٹرول چاہتا ہے اور اس کے اقدامات  نئی نوآبادیات اور سامراجیت کو فروغ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے نمائندے سن لی نے کہا کہ ان کا ملک وینزویلا کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ، غیر قانونی اور غنڈہ گردی پر مبنی اقدامات  پر شدید حیران ہے اور ان کی سخت مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر وینزویلا کی خودمختاری، سلامتی اور جائز حقوق کو پامال کرنے کا الزام لگایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Chinamission2un/status/2008279777078137211'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Chinamission2un/status/2008279777078137211"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا کی سفیر لیونور زالاباتا ٹوریس جنہوں نے اس اجلاس کی درخواست کی تھی نے 3 جنوری کے واقعات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ان حملوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال تارکین وطن کی بڑی لہر کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر کولمبیا نے سرحدی استحکام برقرار رکھنے اور ممکنہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پیر کو نیویارک میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں  پاکستان نے وینزویلا کے بحران کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ یہ اجلاس لاطینی امریکی ملک کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکاس سے امریکی تحویل میں لیے جانے  کے معاملے پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، جس نے خطے اور عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ  اقوام متحدہ کا چارٹر ہمیں کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہنے کا حکم دیتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطرناک مثالیں قائم کرتے ہیں جن سے عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادیں کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ  یہ اقدامات عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں،جیسا کہ تاریخ نے بارہا دکھایا ہے آنے والے برسوں تک ناقابلِ پیش گوئی اور ناقابلِ قابو نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔</p>
<p>اجلاس کے آغاز میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کسی بھی ریاست کی سرزمین اور آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال کی ممانعت کے بنیادی اصول کا حوالہ دیا اور کہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت کے تناظر میں اقوام متحدہ کے چارٹر کا ”مکمل احترام“ ہونا چاہیے۔</p>
<p>سیاسی امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو کی جانب سے پیش کردہ بیان میں گوتریس نے کہا کہ 3 جنوری کو وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد کونسل کا یہ اجلاس ایک ”انتہائی سنگین وقت“ پر ہو رہا ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب   نے وینزویلا میں حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایک ایسی دنیا میں جو پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے، کیریبین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس نازک موڑ پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ سیاسی اختلافات کا پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے کسی بھی بیرونی مداخلت کے بغیر اور وینزویلا کے عوام کی مرضی کے مکمل احترام کے ساتھ ہی نکالا جا سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب  نے امید ظاہر کی کہ لاطینی امریکہ اور کیریبین خطہ بطور امن کا زون  تنازعات اور تصادم سے پاک رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ  ، کشیدگی کو کم کریں، پرامن بقائے باہمی کی راہ اپنائیں اور کسی بھی ایسے عمل سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ دے۔ ساتھ ہی مذاکرات کا آغاز کریں اور ثالثی کی مخلصانہ پیشکشوں سے فائدہ اٹھائیں۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سیکرٹری جنرل کے “گڈ آفسز (ثالثی کی خدمات) اس مقصد کے لیے ہمیشہ دستیاب ہیں۔ آخر میں انہوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری میں پاکستان کے تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ  تمام کوششوں کا بنیادی مقصد وینزویلا کا امن و استحکام اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakistanUN_NY/status/2008223974472261872?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008223974472261872%7Ctwgr%5E23c40124d51902ff4ea79fc70b344d6cf52d9f35%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40400860'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/2008223974472261872?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2008223974472261872%7Ctwgr%5E23c40124d51902ff4ea79fc70b344d6cf52d9f35%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40400860"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل امریکی سفیر مائیکل والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ واشنگٹن نے دو مطلوب مفرور افراد نارکو ٹیررسٹ نکولس مادورو اور سیلیا فلورس کو گرفتار کرنے کے لیے ایک  سرجیکل لا انفورسمنٹ آپریشن کیا ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ  وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کا موازنہ 1989 میں پاناما کے مینوئل نوریگا کی گرفتاری سے کیا۔</p>
<p>انہوں نے مادورو کو ایک مفرور اور   سفاک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کا رہنما قرار دیا اور الزام لگایا کہ ان کے روابط منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے ہیں جو  غیر قانونی منشیات کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>انسانی حقوق کے وسیع تر خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ماورائے عدالت قتل، تشدد اور من مانی گرفتاریوں کے الزامات لگائے اور نوٹ کیا کہ 80 لاکھ سے زائد وینزویلا کے شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔</p>
<p>روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے امریکہ کی اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ”مسلح جارحیت“ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ  آئینی طور پر منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو فوری رہا کرے۔</p>
<p>انہوں نے کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ دوہرے معیار ترک کریں اور  امریکی عالمی تھانیدار کے خوف سے جارحیت کے اس سنگین عمل کا جواز پیش نہ کریں۔ روسی مندوب نے خبردار کیا کہ امریکہ وینزویلا کے قدرتی وسائل پر کنٹرول چاہتا ہے اور اس کے اقدامات  نئی نوآبادیات اور سامراجیت کو فروغ دے رہے ہیں۔</p>
<p>چین کے نمائندے سن لی نے کہا کہ ان کا ملک وینزویلا کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ، غیر قانونی اور غنڈہ گردی پر مبنی اقدامات  پر شدید حیران ہے اور ان کی سخت مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر وینزویلا کی خودمختاری، سلامتی اور جائز حقوق کو پامال کرنے کا الزام لگایا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Chinamission2un/status/2008279777078137211'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Chinamission2un/status/2008279777078137211"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کولمبیا کی سفیر لیونور زالاباتا ٹوریس جنہوں نے اس اجلاس کی درخواست کی تھی نے 3 جنوری کے واقعات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ان حملوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال تارکین وطن کی بڑی لہر کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر کولمبیا نے سرحدی استحکام برقرار رکھنے اور ممکنہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281309</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 13:04:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/06124752e3abe60.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/06124752e3abe60.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
