<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کے قرضوں میں پانچ ماہ میں 345 ارب روپے کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281298/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی وفاقی حکومت کے قرضوں میں مالی سال 26 کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران 345 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، جس میں بڑی حد تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی منتقلی نے مدد دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے پیر کو رپورٹ میں بتایا کہ نومبر 2025 کے اختتام تک پاکستان کے مجموعی قرضوں، بشمول اندرونی اور بیرونی میں کمی واقع ہوئی اور یہ 77.543 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جو جون 2025 میں 77.888 ٹریلین روپے تھے، یعنی 0.44 فیصد کی کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے قرضوں میں کمی کی بنیادی وجہ بیرونی قرضوں میں کمی تھی۔ پاکستان کا بیرونی قرض نومبر 2025 کے اختتام تک 492 ارب روپے کم ہو کر 22.925 ٹریلین روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 23.417 ٹریلین روپے تھا، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مدت کے دوران غیر ملکی مالی اعانت پر انحصار کم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم داخلی سطح پر حکومت کے قرضے میں پہلی پانچ ماہ میں 147 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 54.619 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ طویل مدتی قرضوں میں نمایاں اضافہ تھا، جو 1.18 فیصد یا 538 ارب روپے بڑھ کر نومبر 2025 میں 46.191 ٹریلین روپے ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس وفاقی حکومت کے قلیل مدتی داخلی قرضے نومبر میں 393 ارب روپے کم ہو کر 8.363 ٹریلین روپے رہ گئے، جو جون میں 8.756 ٹریلین روپے تھے، جس سے طویل مدتی مالی اعانت کی جانب رجحان ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، اس مدت کے دوران نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ (این پی سی) کے تحت قرضے میں بھی 2 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 64 ارب روپے تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال میں 2.5 ٹریلین روپے کا مضبوط منافع کمایا، جس میں سے 2.4 ٹریلین روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے، اور اس منافع کی منتقلی نے قرض کے انتظام میں بہتری پیدا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اقتصادیات کے مطابق، قرضوں میں کمی ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور پالیسی سازوں کے لیے ریلیف کا سبب بنی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ قرض کی بہتری برقرار رکھنے کے لیے مالی نظم و ضبط اور آمدنی کے مجموعے میں مؤثر اضافہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق، پاکستان کے قرض کے انتظام میں بہتری آئی ہے اور مجموعی بیرونی قرض کا بوجھ کم ہونا شروع ہو گیا ہے، جس سے قرض سے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ چند سالوں میں 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی وفاقی حکومت کے قرضوں میں مالی سال 26 کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران 345 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، جس میں بڑی حد تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی منتقلی نے مدد دی۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک نے پیر کو رپورٹ میں بتایا کہ نومبر 2025 کے اختتام تک پاکستان کے مجموعی قرضوں، بشمول اندرونی اور بیرونی میں کمی واقع ہوئی اور یہ 77.543 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جو جون 2025 میں 77.888 ٹریلین روپے تھے، یعنی 0.44 فیصد کی کمی۔</p>
<p>وفاقی حکومت کے قرضوں میں کمی کی بنیادی وجہ بیرونی قرضوں میں کمی تھی۔ پاکستان کا بیرونی قرض نومبر 2025 کے اختتام تک 492 ارب روپے کم ہو کر 22.925 ٹریلین روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 23.417 ٹریلین روپے تھا، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مدت کے دوران غیر ملکی مالی اعانت پر انحصار کم ہوا۔</p>
<p>تاہم داخلی سطح پر حکومت کے قرضے میں پہلی پانچ ماہ میں 147 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 54.619 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ طویل مدتی قرضوں میں نمایاں اضافہ تھا، جو 1.18 فیصد یا 538 ارب روپے بڑھ کر نومبر 2025 میں 46.191 ٹریلین روپے ہو گئے۔</p>
<p>اس کے برعکس وفاقی حکومت کے قلیل مدتی داخلی قرضے نومبر میں 393 ارب روپے کم ہو کر 8.363 ٹریلین روپے رہ گئے، جو جون میں 8.756 ٹریلین روپے تھے، جس سے طویل مدتی مالی اعانت کی جانب رجحان ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، اس مدت کے دوران نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ (این پی سی) کے تحت قرضے میں بھی 2 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 64 ارب روپے تک پہنچ گئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال میں 2.5 ٹریلین روپے کا مضبوط منافع کمایا، جس میں سے 2.4 ٹریلین روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے، اور اس منافع کی منتقلی نے قرض کے انتظام میں بہتری پیدا کی۔</p>
<p>ماہرین اقتصادیات کے مطابق، قرضوں میں کمی ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور پالیسی سازوں کے لیے ریلیف کا سبب بنی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ قرض کی بہتری برقرار رکھنے کے لیے مالی نظم و ضبط اور آمدنی کے مجموعے میں مؤثر اضافہ ضروری ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق، پاکستان کے قرض کے انتظام میں بہتری آئی ہے اور مجموعی بیرونی قرض کا بوجھ کم ہونا شروع ہو گیا ہے، جس سے قرض سے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ چند سالوں میں 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد ہو گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281298</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 10:51:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/061048345fc26a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/061048345fc26a8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
