<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:09:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 17:09:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیسکو میں اضافی بلنگ، آڈیٹر جنرل نے ایف آئی اے کو تحقیقات شروع کرنے سے روک دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281297/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں اضافی بلنگ کے معاملات پر تحقیقات شروع کرنے سے پہلے تکنیکی تصدیق حاصل کرے اور نیپرا  اور صوبائی انسپیکشن آفس  کے ساتھ رابطہ کرے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تحقیقات اور صارفین کے مسائل کا ازالہ مکمل طور پر نیپرا کے قانونی دائرہ کار کے مطابق ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سفارشات ایک آڈٹ پیرا میں کی گئی ہیں جس کا عنوان تھا: ”نیپرا کے طریقہ کار کی خلاف ورزی میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں اضافی بلنگ پر ایف آئی اے کی غیر مجاز تحقیقات اور غیر حتمی کارروائی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کے ایکٹ 1997 کے سیکشن 38 کے تحت ہر صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صوبائی انسپیکشن آفس قائم کرے جو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی ہدایات، میٹرنگ، بلنگ، بجلی کے صارفین سے چارجز اور توانائی کی چوری کے معاملات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ یہ دفاتر میٹرنگ، بلنگ اور ٹیرف جمع کرنے کے تنازعات کو حل کرنے کے بھی مجاز ہیں۔ اسی طرح سیکشن 39 کے تحت کسی بھی متعلقہ فریق، بشمول صوبائی حکومت، کو حق ہے کہ وہ کسی لائسنس ہولڈر کے خلاف تحریری شکایت نیپرا میں جمع کرائے، جس کے بعد نیپرا نوٹس جاری کر کے متعلقہ فریق کو سنے بغیر کوئی کارروائی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ 2019 سے 2024 کے دوران ایف آئی اے کی لیسکو تحقیقات میں ایف آئی آر نمبر 79/2024 میں 59.791 ملین یونٹس اضافی بل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، جو ایکس ای این شاہپور ڈویژن کی طرف سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی تھا۔ تاہم، متعلقہ افسروں کے بیانات سے پتہ چلا کہ یہ اعداد و شمار ایس ڈی اوز کی فراہم کردہ مفروضوں پر مبنی تھے اور میٹرنگ اور ٹیسٹنگ کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے اے سی سی لاہور کی ہدایت پر 18 نومبر 2024 کو لیسکو کی تکنیکی کمیٹی نے کیس کا جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ اگرچہ شاہپور ڈویژن میں اضافی بلنگ موجود تھی، لیکن ایف آئی آر 79/2024 میں دیے گئے اعداد و شمار تصدیق شدہ تکنیکی شواہد پر مبنی نہیں تھے اور زیادہ تر اضافی بلنگ بعد میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی، جس سے کوئی حقیقی مالی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، کمپنی کی ساکھ اور عوامی اعتماد متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ نے مزید نشاندہی کی کہ سیکشن 38، 39 اور 35-اے نیپرا ایکٹ 1997 کے تحت اور کنزیومر سروس مینوئل 2021 کے چیپٹر 15 کے مطابق، اضافی بلنگ کی شکایات کو صوبائی انسپیکشن آفس یا نیپرا کے کنزیومر افیئرز ڈویژن کے ذریعے ہی نمٹایا جانا چاہیے۔ نیپرا کو ہی تکنیکی، تجارتی اور بلنگ کے معاملات میں تحقیقات اور ریگولیٹری کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایف آئی اے نے متعدد ایف آئی آرز اور تحقیقات شروع کیں، جو بعد میں انکوائری نمبر. 32/2024 میں ضم ہو گئیں، جس سے کیسز غیر حتمی رہ گئے، شواہد کمزور ہوئے اور غیر جانبداری متاثر ہوئی۔ آڈٹ کے مطابق اس غیر مجاز اور غیر حتمی کارروائی کے سبب صارفین کا اعتماد مجروح ہوا، لیسکو کی ساکھ متاثر ہوئی، اور ریگولیٹری عمل میں تاخیر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ نے سفارش کی کہ ایف آئی اے بغیر تکنیکی تصدیق کے اضافی بلنگ کی تحقیقات نہ کرے اور نیپرا اور صوبائی انسپیکشن آفس کے ساتھ رابطہ قائم رکھے تاکہ تحقیقات اور صارفین کے ازالے کا عمل مکمل طور پر قانونی فریم ورک کے مطابق ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں اضافی بلنگ کے معاملات پر تحقیقات شروع کرنے سے پہلے تکنیکی تصدیق حاصل کرے اور نیپرا  اور صوبائی انسپیکشن آفس  کے ساتھ رابطہ کرے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تحقیقات اور صارفین کے مسائل کا ازالہ مکمل طور پر نیپرا کے قانونی دائرہ کار کے مطابق ہو۔</strong></p>
<p>یہ سفارشات ایک آڈٹ پیرا میں کی گئی ہیں جس کا عنوان تھا: ”نیپرا کے طریقہ کار کی خلاف ورزی میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں اضافی بلنگ پر ایف آئی اے کی غیر مجاز تحقیقات اور غیر حتمی کارروائی۔“</p>
<p>نیپرا کے ایکٹ 1997 کے سیکشن 38 کے تحت ہر صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صوبائی انسپیکشن آفس قائم کرے جو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی ہدایات، میٹرنگ، بلنگ، بجلی کے صارفین سے چارجز اور توانائی کی چوری کے معاملات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ یہ دفاتر میٹرنگ، بلنگ اور ٹیرف جمع کرنے کے تنازعات کو حل کرنے کے بھی مجاز ہیں۔ اسی طرح سیکشن 39 کے تحت کسی بھی متعلقہ فریق، بشمول صوبائی حکومت، کو حق ہے کہ وہ کسی لائسنس ہولڈر کے خلاف تحریری شکایت نیپرا میں جمع کرائے، جس کے بعد نیپرا نوٹس جاری کر کے متعلقہ فریق کو سنے بغیر کوئی کارروائی نہیں کرتا۔</p>
<p>آڈٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ 2019 سے 2024 کے دوران ایف آئی اے کی لیسکو تحقیقات میں ایف آئی آر نمبر 79/2024 میں 59.791 ملین یونٹس اضافی بل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، جو ایکس ای این شاہپور ڈویژن کی طرف سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی تھا۔ تاہم، متعلقہ افسروں کے بیانات سے پتہ چلا کہ یہ اعداد و شمار ایس ڈی اوز کی فراہم کردہ مفروضوں پر مبنی تھے اور میٹرنگ اور ٹیسٹنگ کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔</p>
<p>ایف آئی اے اے سی سی لاہور کی ہدایت پر 18 نومبر 2024 کو لیسکو کی تکنیکی کمیٹی نے کیس کا جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ اگرچہ شاہپور ڈویژن میں اضافی بلنگ موجود تھی، لیکن ایف آئی آر 79/2024 میں دیے گئے اعداد و شمار تصدیق شدہ تکنیکی شواہد پر مبنی نہیں تھے اور زیادہ تر اضافی بلنگ بعد میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی، جس سے کوئی حقیقی مالی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، کمپنی کی ساکھ اور عوامی اعتماد متاثر ہوا۔</p>
<p>آڈٹ نے مزید نشاندہی کی کہ سیکشن 38، 39 اور 35-اے نیپرا ایکٹ 1997 کے تحت اور کنزیومر سروس مینوئل 2021 کے چیپٹر 15 کے مطابق، اضافی بلنگ کی شکایات کو صوبائی انسپیکشن آفس یا نیپرا کے کنزیومر افیئرز ڈویژن کے ذریعے ہی نمٹایا جانا چاہیے۔ نیپرا کو ہی تکنیکی، تجارتی اور بلنگ کے معاملات میں تحقیقات اور ریگولیٹری کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>تاہم ایف آئی اے نے متعدد ایف آئی آرز اور تحقیقات شروع کیں، جو بعد میں انکوائری نمبر. 32/2024 میں ضم ہو گئیں، جس سے کیسز غیر حتمی رہ گئے، شواہد کمزور ہوئے اور غیر جانبداری متاثر ہوئی۔ آڈٹ کے مطابق اس غیر مجاز اور غیر حتمی کارروائی کے سبب صارفین کا اعتماد مجروح ہوا، لیسکو کی ساکھ متاثر ہوئی، اور ریگولیٹری عمل میں تاخیر ہوئی۔</p>
<p>آڈٹ نے سفارش کی کہ ایف آئی اے بغیر تکنیکی تصدیق کے اضافی بلنگ کی تحقیقات نہ کرے اور نیپرا اور صوبائی انسپیکشن آفس کے ساتھ رابطہ قائم رکھے تاکہ تحقیقات اور صارفین کے ازالے کا عمل مکمل طور پر قانونی فریم ورک کے مطابق ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281297</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 10:40:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/061036308d34f93.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/061036308d34f93.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
