<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آڈیٹر جنرل نے سرکاری اداروں کی نجکاری میں خریداروں کے انتخاب کے طریقہ کار میں بڑی اصلاحات کی سفارش کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281293/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے لیے خریداروں کے انتخاب کے طریقہ کار میں بڑی اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے زور دیا کہ پری کوالیفکیشن کے قواعد میں نظرِثانی کی جائے اور بولی دہندگان کی فوری مالی پیشکش کے بجائے ان کی تکنیکی اہلیت کو زیادہ اہمیت دی جائے، جبکہ ماضی کی نجکاری ڈیلز سے سبق بھی حاصل کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اجلاس شاہدہ بیگم کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزارتِ نجکاری کی مالی سال 2010-11 اور 2013-14 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ نجکاری ڈویژن کے سیکریٹری حماد شمیمی نے آڈٹ اعتراضات پر جواب دیا۔ فیڈرل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے ایک عہدیدار نے بھی اے جی پی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بولی دہندگان کی تکنیکی صلاحیت کو مالی قیمت کے مقابلے میں زیادہ وزن دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے نجکاری کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ نجکاری کے طریقہ کار اور ضوابط 2001 کا ازسرنو جائزہ لے، کیونکہ ان پر عمل درآمد کے دوران مزید وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹس میں ماضی میں کوٹ ادو پاور کمپنی، جاویداں سیمنٹ لمیٹڈ، مستحکم سیمنٹ، فلیٹی ہوٹل اور پاک امریکن فرٹیلائزر لمیٹڈ کی نجکاری میں طریقہ کار کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ کے مطابق جاویداں سیمنٹ لمیٹڈ کی نجکاری میں پری کوالیفکیشن کا باقاعدہ عمل موجود نہیں تھا۔ 96.34 فیصد حصص کے حصول کے لیے 28 جولائی 2005 کو اظہارِ دلچسپی طلب کی گئی، جس کی آخری تاریخ 6 اگست 2005 تھی۔ کمیشن کو 43 اظہارِ دلچسپی موصول ہوئیں، تاہم مقررہ تاریخ تک صرف چار سرمایہ کاروں نے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ارنسٹ منی جمع کرائی اور وہی بولی کے لیے اہل قرار پائے۔ آڈٹ کے مطابق پری کوالیفکیشن میں مالی، عملی اور تکنیکی پہلوؤں کو مدنظر نہیں رکھا گیا، جبکہ صرف ارنسٹ منی کی ادائیگی کو معیار بنایا گیا، جو قواعد کے مطابق نہیں تھا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعد ازاں جاویداں سیمنٹ کی زمین نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تبدیل کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مستحکم سیمنٹ لمیٹڈ کی نجکاری میں بھی آڈٹ نے نشاندہی کی کہ 85.29 فیصد حصص کے لیے اپریل 2005 میں اظہارِ دلچسپی طلب کی گئی، جسے جون میں دوبارہ شائع کیا گیا۔ کمیشن کو 38 اظہارِ دلچسپی موصول ہوئیں، مگر صرف تین سرمایہ کار ارنسٹ منی جمع کرا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری ڈویژن کے سیکریٹری نے کہا کہ تمام نجکاری معاملات طے شدہ قواعد اور پی سی بورڈ اور کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیے گئے اور ان سے حکومت کو مارکیٹ بیسڈ آمدن حاصل ہوئی۔ ایک اور آڈٹ پیرا میں کوٹ ادو پاور کمپنی کی نجکاری میں 11 ملین ڈالر کے معاملے کا ذکر کیا گیا، جس کے بارے میں آڈٹ کا کہنا ہے کہ اس کا ریکارڈ دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے کنوینر نے امید ظاہر کی کہ حالیہ پی آئی اے کی نجکاری عوام کے لیے مثبت نتائج لے کر آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے لیے خریداروں کے انتخاب کے طریقہ کار میں بڑی اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے زور دیا کہ پری کوالیفکیشن کے قواعد میں نظرِثانی کی جائے اور بولی دہندگان کی فوری مالی پیشکش کے بجائے ان کی تکنیکی اہلیت کو زیادہ اہمیت دی جائے، جبکہ ماضی کی نجکاری ڈیلز سے سبق بھی حاصل کیے جائیں۔</strong></p>
<p>یہ اجلاس شاہدہ بیگم کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزارتِ نجکاری کی مالی سال 2010-11 اور 2013-14 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ نجکاری ڈویژن کے سیکریٹری حماد شمیمی نے آڈٹ اعتراضات پر جواب دیا۔ فیڈرل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے ایک عہدیدار نے بھی اے جی پی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بولی دہندگان کی تکنیکی صلاحیت کو مالی قیمت کے مقابلے میں زیادہ وزن دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>کمیٹی نے نجکاری کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ نجکاری کے طریقہ کار اور ضوابط 2001 کا ازسرنو جائزہ لے، کیونکہ ان پر عمل درآمد کے دوران مزید وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹس میں ماضی میں کوٹ ادو پاور کمپنی، جاویداں سیمنٹ لمیٹڈ، مستحکم سیمنٹ، فلیٹی ہوٹل اور پاک امریکن فرٹیلائزر لمیٹڈ کی نجکاری میں طریقہ کار کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>آڈٹ کے مطابق جاویداں سیمنٹ لمیٹڈ کی نجکاری میں پری کوالیفکیشن کا باقاعدہ عمل موجود نہیں تھا۔ 96.34 فیصد حصص کے حصول کے لیے 28 جولائی 2005 کو اظہارِ دلچسپی طلب کی گئی، جس کی آخری تاریخ 6 اگست 2005 تھی۔ کمیشن کو 43 اظہارِ دلچسپی موصول ہوئیں، تاہم مقررہ تاریخ تک صرف چار سرمایہ کاروں نے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ارنسٹ منی جمع کرائی اور وہی بولی کے لیے اہل قرار پائے۔ آڈٹ کے مطابق پری کوالیفکیشن میں مالی، عملی اور تکنیکی پہلوؤں کو مدنظر نہیں رکھا گیا، جبکہ صرف ارنسٹ منی کی ادائیگی کو معیار بنایا گیا، جو قواعد کے مطابق نہیں تھا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعد ازاں جاویداں سیمنٹ کی زمین نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تبدیل کر دی گئی۔</p>
<p>اسی طرح مستحکم سیمنٹ لمیٹڈ کی نجکاری میں بھی آڈٹ نے نشاندہی کی کہ 85.29 فیصد حصص کے لیے اپریل 2005 میں اظہارِ دلچسپی طلب کی گئی، جسے جون میں دوبارہ شائع کیا گیا۔ کمیشن کو 38 اظہارِ دلچسپی موصول ہوئیں، مگر صرف تین سرمایہ کار ارنسٹ منی جمع کرا سکے۔</p>
<p>نجکاری ڈویژن کے سیکریٹری نے کہا کہ تمام نجکاری معاملات طے شدہ قواعد اور پی سی بورڈ اور کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد کیے گئے اور ان سے حکومت کو مارکیٹ بیسڈ آمدن حاصل ہوئی۔ ایک اور آڈٹ پیرا میں کوٹ ادو پاور کمپنی کی نجکاری میں 11 ملین ڈالر کے معاملے کا ذکر کیا گیا، جس کے بارے میں آڈٹ کا کہنا ہے کہ اس کا ریکارڈ دستیاب نہیں۔</p>
<p>کمیٹی کے کنوینر نے امید ظاہر کی کہ حالیہ پی آئی اے کی نجکاری عوام کے لیے مثبت نتائج لے کر آئے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281293</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 09:22:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/06091724b2e7eba.webp" type="image/webp" medium="image" height="515" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/06091724b2e7eba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
