<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی بڑھنے کے خدشات میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281283/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مہنگائی ایک سیاسی طور پر حساس اشاریہ ہے، جس کا حساب پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کرتا ہے۔ اسی باعث اپوزیشن اراکین اور آزاد ماہرینِ معاشیات کی جانب سے اس پر معمول کے مطابق اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں، جو اعداد و شمار کی شفافیت پر خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس موقف کی توثیق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی 10 اکتوبر 2024 کو جاری کیے گئے قرض کی منظوری سے متعلق دستاویزات میں کی ہے، جو سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی باضابطہ بورڈ منظوری کے بعد جاری ہوئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’پالیسی مذاکرات‘‘ کے عنوان سے باب میں فنڈ نے ان شعبوں کے دستیاب بنیادی اعداد و شمار میں ’’اہم خامیوں‘‘ کی نشاندہی کی، جو مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل ہیں، اور سرکاری مالیاتی شماریات (جی ایف ایس) میں تفصیل اور اعتبار سے متعلق مسائل پر زور دیا۔ انہی مشاہدات کی بنیاد پر فنڈ نے جی ایف ایس کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی، جس میں نیا پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) مرتب کرنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ اور حکومت کے درمیان طے پانے والی شرائط، جو میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں درج ہیں، کے مطابق یہ تکنیکی معاونت حکام کو موجودہ ڈیٹا ذرائع اور تیاری کے طریقۂ کار کا جائزہ لینے اور بین الاقوامی معیار (جیسا کہ جی ایس ایم 2014 میں بیان کیا گیا ہے) کے مطابق مالیاتی رپورٹنگ کو بہتر بنانے سے متعلق رہنمائی فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس ایم 2014 ایک 450 صفحات پر مشتمل مفصل دستاویز ہے، جو فنڈ کے عملے نے تیار کی اور یہ اس مینوئل کا تیسرا ایڈیشن ہے۔ اس میں ایک خصوصی میکرو اکنامک شماریاتی فریم ورک، یعنی جی ایف ایس فریم ورک، کی وضاحت کی گئی ہے جو مالیاتی تجزیے کی معاونت کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ یہ مینوئل (اول) اعداد و شمار کی تیاری میں استعمال ہونے والے معاشی اور شماریاتی رپورٹنگ اصول فراہم کرتا ہے، (دوم) مالیاتی شماریات کو ایک تجزیاتی فریم ورک میں پیش کرنے کے رہنما اصول بیان کرتا ہے، جس میں مناسب توازن کے اجزا شامل ہوں، اور (سوم) دیگر میکرو اکنامک شماریاتی رہنما خطوط کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر جی ایس ایم 2014 میں پی پی آئی کی تعریف کیسے کی گئی ہے؟ اس ضمن میں مارکیٹ پر مبنی معیشتوں سے متعلق مفروضات اپنائے گئے ہیں، جن کے مطابق قیمتیں اس وقت معاشی طور پر بامعنی سمجھی جاتی ہیں جب پیداوار کرنے والے نجی ادارے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جب سرکاری کنٹرول موجود ہو تو متعلقہ ادارے کی قیمتیں عوامی پالیسی کے مقاصد کے تحت تبدیل کی جا سکتی ہیں، جس سے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وصول کی جانے والی قیمتیں معاشی طور پر بامعنی ہیں یا نہیں۔ سرکاری کارپوریشنز اکثر اس لیے قائم کی جاتی ہیں کہ وہ نجی اداروں کے مقابلے میں اسی فروخت قیمت پر زیادہ مقدار میں اشیا اور خدمات فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ آیا پاکستان کے لیے یہ مفروضات درست ہیں یا نہیں، جبکہ تقریباً تمام پیداواری شعبوں میں مارکیٹ کی خامیاں موجود ہیں، خواہ وہ سرکاری ہوں یا نجی ملکیت میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے، بالخصوص بڑے پیمانے کی صنعتوں، نے مختلف حکومتوں پر نمایاں اثر و رسوخ قائم رکھا ہے، جس کے لیے پیداواری انجمنیں اور تنظیمیں تشکیل دی گئیں اور انہیں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کرایا گیا، جن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن، آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن، آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ مراعات بڑی حد تک ای ایف ایف کی شرائط کے تحت واپس لے لی گئی ہیں، تاہم وزیر اعظم نے ایسی کمیٹیاں قائم کی ہیں جنہیں فنڈ کی منظوری سے بعض مراعات میں توسیع کی تجاویز دینے کا کام سونپا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری شعبے کے ادارے ٹیکس یا سبسڈی سے قبل فروخت کا حساب رکھتے ہیں، جس کے لیے فروخت سے حاصل ہونے والی وصولیوں اور فروخت شدہ اشیا و خدمات کی پیداواری لاگت کا تقابلی جائزہ ضروری ہوتا ہے، جو جزوی طور پر ناقص معاہدوں کا نتیجہ بھی ہے۔ اس تناظر میں فنڈ کی پالیسی مکمل لاگت کی وصولی کی بھرپور حمایت کرتی ہے، جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیرف خطے کی اوسط سے زیادہ کیوں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس ایم 2014 میں یہ مؤقف بھی درست طور پر پیش کیا گیا ہے کہ افراطِ زر مخصوص افراد کے لیے معیارِ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی مکمل عکاسی نہیں کر سکتا، کیونکہ سرکاری افراطِ زر کے اشاریے اشیا اور خدمات کی ایک مقررہ ٹوکری پر مبنی ہوتے ہیں جو کسی فرد کی حقیقی خرچ ترجیحات کو ظاہر نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے معاملے میں خاندانی اکائی مغرب کے مقابلے میں کہیں بڑی ہوتی ہے، جس میں مختلف عمر کے افراد شامل ہوتے ہیں، جیسے اسکول یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم بچے اور معمر یا ریٹائرڈ والدین جنہیں طبی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اثاثہ جاتی قیمتوں کے ببل، جنہیں افراطِ زر میں شامل نہیں کیا جاتا، بنیادی معاشی عدم توازن، کم آمدنی والے گھرانوں کا کم معیار کی اشیا خریدنا اور صارفین کے رویّوں پر قیمتوں میں مسلسل اضافے کے نفسیاتی اثرات بھی افراطِ زر کی شرح میں پوری طرح جھلک نہیں پاتے۔ مثال کے طور پر کسی شے کی قلت سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات مارکیٹ میں خوف پیدا کر کے ذخیرہ اندوزی کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس کے حساب کردہ افراطِ زر کی افادیت کو مزید کمزور اور پیچیدہ بنانے والا ایک بڑا عنصر ملک میں موجود غیر قانونی ’’انڈرگراؤنڈ‘‘ معیشت ہے، جو سرکاری اعداد و شمار سے باہر کام کرتی ہے اور جس کا حجم قانونی معیشت کے تقریباً 50 فیصد کے برابر لگایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال جاری آئی ایم ایف قرض پروگرام کی شرائط کے تحت نافذ کی جانے والی مالیاتی اور زری پالیسیوں کی مؤثریت کو شدید متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں بڑی حد تک نقدی پر مبنی معیشت بھی رائج ہے، جو انڈرگراؤنڈ معیشت میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور یہ ٹیکس اصلاحات، بشمول بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ٹیکس عائد کیے جانے، کا براہِ راست نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، پاکستان کی معیشت میں اس وقت بھی نقد لین دین غالب ہے، جس کے باعث ٹیکس حکام کو کروڑوں روپے کی آمدن سے محرومی کا سامنا ہے اور غیر فعال نقدی جمع ہو رہی ہے۔ اسی ادراک کے تحت حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے فوری ادائیگی کے نظام ’’راست‘‘ کے ذریعے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اس کوشش کو دو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے: اول، تعلیم کی کمی، جو صارفین کی تعداد کو محدود کر سکتی ہے، اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے تعلیم کے لیے مختص محدود بجٹ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتے ہیں؛ دوم، یہ ابھی واضح نہیں کہ 0.35 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی کم از کم حد خرد اور چھوٹے کاروباروں کے لیے قابلِ برداشت رہے گی یا نہیں، یا وہ اس خدشے کے تحت اس کی مزاحمت کریں گے کہ حکومت فروخت کی بنیاد پر ان پر ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا افراطِ زر میں کمی کو کسی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنا عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے کا امکان نہیں رکھتا، اور اس کے بجائے غربت کی سطح اور بے روزگاری پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ موزوں ہوگا۔ عالمی بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ ’’ریکلیمِنگ مومنٹم ٹوورڈز پراسپرٹی: پاکستانز پوورٹی، ایکویٹی اینڈ ریزیلینس اسیسمنٹ‘‘ میں، جو 2000 کی دہائی کے اوائل کے بعد غربت اور فلاحی رجحانات کا پہلا جامع جائزہ ہے، نشاندہی کی کہ ان اشاریوں کی تفصیلی تیاری حال ہی میں جمع کیے گئے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے اعداد و شمار کے اجرا کے بعد کی جائے گی۔ تاہم رپورٹ کی مرکزی مصنفین میں شامل سینئر ماہرِ معاشیات کرسٹینا ویزر نے ایسے انتہائی سیاسی طور پر مشکل اقدامات کی ایک طویل فہرست پیش کی جو آئی ایم ایف سے منظور شدہ 2025-26 کے بجٹ کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق: ’’غربت میں کمی کی پیش رفت کو ساختی کمزوریاں خطرے میں ڈال رہی ہیں… معیاری خدمات تک رسائی میں توسیع، گھریلو سطح پر صدمات سے تحفظ، اور بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی اصلاحات، خصوصاً نچلے 40 فیصد کے لیے، غربت کے چکر کو توڑنے اور پائیدار، جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مہنگائی ایک سیاسی طور پر حساس اشاریہ ہے، جس کا حساب پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کرتا ہے۔ اسی باعث اپوزیشن اراکین اور آزاد ماہرینِ معاشیات کی جانب سے اس پر معمول کے مطابق اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں، جو اعداد و شمار کی شفافیت پر خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس موقف کی توثیق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی 10 اکتوبر 2024 کو جاری کیے گئے قرض کی منظوری سے متعلق دستاویزات میں کی ہے، جو سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی باضابطہ بورڈ منظوری کے بعد جاری ہوئیں۔</strong></p>
<p>’’پالیسی مذاکرات‘‘ کے عنوان سے باب میں فنڈ نے ان شعبوں کے دستیاب بنیادی اعداد و شمار میں ’’اہم خامیوں‘‘ کی نشاندہی کی، جو مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل ہیں، اور سرکاری مالیاتی شماریات (جی ایف ایس) میں تفصیل اور اعتبار سے متعلق مسائل پر زور دیا۔ انہی مشاہدات کی بنیاد پر فنڈ نے جی ایف ایس کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی، جس میں نیا پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) مرتب کرنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>فنڈ اور حکومت کے درمیان طے پانے والی شرائط، جو میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں درج ہیں، کے مطابق یہ تکنیکی معاونت حکام کو موجودہ ڈیٹا ذرائع اور تیاری کے طریقۂ کار کا جائزہ لینے اور بین الاقوامی معیار (جیسا کہ جی ایس ایم 2014 میں بیان کیا گیا ہے) کے مطابق مالیاتی رپورٹنگ کو بہتر بنانے سے متعلق رہنمائی فراہم کرے گی۔</p>
<p>جی ایس ایم 2014 ایک 450 صفحات پر مشتمل مفصل دستاویز ہے، جو فنڈ کے عملے نے تیار کی اور یہ اس مینوئل کا تیسرا ایڈیشن ہے۔ اس میں ایک خصوصی میکرو اکنامک شماریاتی فریم ورک، یعنی جی ایف ایس فریم ورک، کی وضاحت کی گئی ہے جو مالیاتی تجزیے کی معاونت کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ یہ مینوئل (اول) اعداد و شمار کی تیاری میں استعمال ہونے والے معاشی اور شماریاتی رپورٹنگ اصول فراہم کرتا ہے، (دوم) مالیاتی شماریات کو ایک تجزیاتی فریم ورک میں پیش کرنے کے رہنما اصول بیان کرتا ہے، جس میں مناسب توازن کے اجزا شامل ہوں، اور (سوم) دیگر میکرو اکنامک شماریاتی رہنما خطوط کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔</p>
<p>تو پھر جی ایس ایم 2014 میں پی پی آئی کی تعریف کیسے کی گئی ہے؟ اس ضمن میں مارکیٹ پر مبنی معیشتوں سے متعلق مفروضات اپنائے گئے ہیں، جن کے مطابق قیمتیں اس وقت معاشی طور پر بامعنی سمجھی جاتی ہیں جب پیداوار کرنے والے نجی ادارے ہوں۔</p>
<p>تاہم جب سرکاری کنٹرول موجود ہو تو متعلقہ ادارے کی قیمتیں عوامی پالیسی کے مقاصد کے تحت تبدیل کی جا سکتی ہیں، جس سے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وصول کی جانے والی قیمتیں معاشی طور پر بامعنی ہیں یا نہیں۔ سرکاری کارپوریشنز اکثر اس لیے قائم کی جاتی ہیں کہ وہ نجی اداروں کے مقابلے میں اسی فروخت قیمت پر زیادہ مقدار میں اشیا اور خدمات فراہم کریں۔</p>
<p>یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ آیا پاکستان کے لیے یہ مفروضات درست ہیں یا نہیں، جبکہ تقریباً تمام پیداواری شعبوں میں مارکیٹ کی خامیاں موجود ہیں، خواہ وہ سرکاری ہوں یا نجی ملکیت میں۔</p>
<p>نجی شعبے، بالخصوص بڑے پیمانے کی صنعتوں، نے مختلف حکومتوں پر نمایاں اثر و رسوخ قائم رکھا ہے، جس کے لیے پیداواری انجمنیں اور تنظیمیں تشکیل دی گئیں اور انہیں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کرایا گیا، جن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن، آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن، آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ مراعات بڑی حد تک ای ایف ایف کی شرائط کے تحت واپس لے لی گئی ہیں، تاہم وزیر اعظم نے ایسی کمیٹیاں قائم کی ہیں جنہیں فنڈ کی منظوری سے بعض مراعات میں توسیع کی تجاویز دینے کا کام سونپا گیا ہے۔</p>
<p>سرکاری شعبے کے ادارے ٹیکس یا سبسڈی سے قبل فروخت کا حساب رکھتے ہیں، جس کے لیے فروخت سے حاصل ہونے والی وصولیوں اور فروخت شدہ اشیا و خدمات کی پیداواری لاگت کا تقابلی جائزہ ضروری ہوتا ہے، جو جزوی طور پر ناقص معاہدوں کا نتیجہ بھی ہے۔ اس تناظر میں فنڈ کی پالیسی مکمل لاگت کی وصولی کی بھرپور حمایت کرتی ہے، جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیرف خطے کی اوسط سے زیادہ کیوں ہیں۔</p>
<p>جی ایس ایم 2014 میں یہ مؤقف بھی درست طور پر پیش کیا گیا ہے کہ افراطِ زر مخصوص افراد کے لیے معیارِ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی مکمل عکاسی نہیں کر سکتا، کیونکہ سرکاری افراطِ زر کے اشاریے اشیا اور خدمات کی ایک مقررہ ٹوکری پر مبنی ہوتے ہیں جو کسی فرد کی حقیقی خرچ ترجیحات کو ظاہر نہیں کرتی۔</p>
<p>پاکستان کے معاملے میں خاندانی اکائی مغرب کے مقابلے میں کہیں بڑی ہوتی ہے، جس میں مختلف عمر کے افراد شامل ہوتے ہیں، جیسے اسکول یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم بچے اور معمر یا ریٹائرڈ والدین جنہیں طبی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اثاثہ جاتی قیمتوں کے ببل، جنہیں افراطِ زر میں شامل نہیں کیا جاتا، بنیادی معاشی عدم توازن، کم آمدنی والے گھرانوں کا کم معیار کی اشیا خریدنا اور صارفین کے رویّوں پر قیمتوں میں مسلسل اضافے کے نفسیاتی اثرات بھی افراطِ زر کی شرح میں پوری طرح جھلک نہیں پاتے۔ مثال کے طور پر کسی شے کی قلت سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات مارکیٹ میں خوف پیدا کر کے ذخیرہ اندوزی کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>پی بی ایس کے حساب کردہ افراطِ زر کی افادیت کو مزید کمزور اور پیچیدہ بنانے والا ایک بڑا عنصر ملک میں موجود غیر قانونی ’’انڈرگراؤنڈ‘‘ معیشت ہے، جو سرکاری اعداد و شمار سے باہر کام کرتی ہے اور جس کا حجم قانونی معیشت کے تقریباً 50 فیصد کے برابر لگایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال جاری آئی ایم ایف قرض پروگرام کی شرائط کے تحت نافذ کی جانے والی مالیاتی اور زری پالیسیوں کی مؤثریت کو شدید متاثر کرتی ہے۔</p>
<p>ملک میں بڑی حد تک نقدی پر مبنی معیشت بھی رائج ہے، جو انڈرگراؤنڈ معیشت میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور یہ ٹیکس اصلاحات، بشمول بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ٹیکس عائد کیے جانے، کا براہِ راست نتیجہ ہے۔</p>
<p>آخرکار، پاکستان کی معیشت میں اس وقت بھی نقد لین دین غالب ہے، جس کے باعث ٹیکس حکام کو کروڑوں روپے کی آمدن سے محرومی کا سامنا ہے اور غیر فعال نقدی جمع ہو رہی ہے۔ اسی ادراک کے تحت حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے فوری ادائیگی کے نظام ’’راست‘‘ کے ذریعے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اس کوشش کو دو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے: اول، تعلیم کی کمی، جو صارفین کی تعداد کو محدود کر سکتی ہے، اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے تعلیم کے لیے مختص محدود بجٹ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتے ہیں؛ دوم، یہ ابھی واضح نہیں کہ 0.35 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی کم از کم حد خرد اور چھوٹے کاروباروں کے لیے قابلِ برداشت رہے گی یا نہیں، یا وہ اس خدشے کے تحت اس کی مزاحمت کریں گے کہ حکومت فروخت کی بنیاد پر ان پر ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا افراطِ زر میں کمی کو کسی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنا عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے کا امکان نہیں رکھتا، اور اس کے بجائے غربت کی سطح اور بے روزگاری پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ موزوں ہوگا۔ عالمی بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ ’’ریکلیمِنگ مومنٹم ٹوورڈز پراسپرٹی: پاکستانز پوورٹی، ایکویٹی اینڈ ریزیلینس اسیسمنٹ‘‘ میں، جو 2000 کی دہائی کے اوائل کے بعد غربت اور فلاحی رجحانات کا پہلا جامع جائزہ ہے، نشاندہی کی کہ ان اشاریوں کی تفصیلی تیاری حال ہی میں جمع کیے گئے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے اعداد و شمار کے اجرا کے بعد کی جائے گی۔ تاہم رپورٹ کی مرکزی مصنفین میں شامل سینئر ماہرِ معاشیات کرسٹینا ویزر نے ایسے انتہائی سیاسی طور پر مشکل اقدامات کی ایک طویل فہرست پیش کی جو آئی ایم ایف سے منظور شدہ 2025-26 کے بجٹ کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق: ’’غربت میں کمی کی پیش رفت کو ساختی کمزوریاں خطرے میں ڈال رہی ہیں… معیاری خدمات تک رسائی میں توسیع، گھریلو سطح پر صدمات سے تحفظ، اور بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی اصلاحات، خصوصاً نچلے 40 فیصد کے لیے، غربت کے چکر کو توڑنے اور پائیدار، جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔‘‘</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281283</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 16:28:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/05160647b7eb2d1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/05160647b7eb2d1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
