<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مادورو کی امریکی عدالت میں پیشی، ٹرمپ نے مزید حملوں کا عندیہ دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281278/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو امریکی فورسز کی جانب سے ہفتے کے روز حراست میں لیے جانے کے بعد پیر کو نیویارک کی ایک امریکی وفاقی عدالت میں پیش کیا جانا تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر وینزویلا کی عبوری حکومت نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو مزید فوجی کارروائی بھی خارج از امکان نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وینزویلا تیل کے شعبے کو امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے اور منشیات اسمگلنگ کے خلاف تعاون نہیں کرتا تو وہ ایک اور حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کولمبیا اور میکسیکو میں بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی اور کہا کہ کیوبا کی کمیونسٹ حکومت خود ہی زوال کے قریب ہے۔ واشنگٹن میں کولمبیا اور میکسیکو کے سفارت خانوں نے فوری طور پر ان بیانات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب مادورو کی پیر کو نیویارک میں عدالت میں پیشی طے تھی۔ مادورو کو ہفتے کے روز کاراکاس میں ایک فوجی چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ملک میں شدید سیاسی بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اس کارروائی کو قانون نافذ کرنے کا اقدام قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد مادورو کو 2020 میں دائر کیے گئے فوجداری الزامات پر جوابدہ ٹھہرانا ہے، جن میں انہیں منشیات سے متعلق دہشت گردی کی سازش کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خود صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس کارروائی کے پیچھے دیگر عوامل بھی تھے، جن میں وینزویلا سے امریکہ آنے والے تارکین وطن کی بڑھتی تعداد اور ماضی میں امریکی تیل کے مفادات کو قومی تحویل میں لینا شامل ہے۔ ایئر فورس ون میں سوار ہو کر فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر انہوں نے کہا کہ ہم وہ واپس لے رہے ہیں جو ہم سے چوری کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کاراکاس میں مادورو کی حکومت بدستور قائم ہے۔ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز، جنہوں نے عبوری قیادت سنبھالی ہے، نے کہا ہے کہ مادورو ہی ملک کے صدر ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں۔ مادورو پر بڑے منشیات کارٹلز کی مدد، اسمگلنگ کے راستوں کی نگرانی اور ریاستی وسائل کے استعمال کے الزامات ہیں، جن کی وہ تردید کرتے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر کئی ممالک نے ایک غیر ملکی سربراہِ مملکت کی گرفتاری کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس معاملے پر اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو امریکی فورسز کی جانب سے ہفتے کے روز حراست میں لیے جانے کے بعد پیر کو نیویارک کی ایک امریکی وفاقی عدالت میں پیش کیا جانا تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر وینزویلا کی عبوری حکومت نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو مزید فوجی کارروائی بھی خارج از امکان نہیں۔</strong></p>
<p>اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وینزویلا تیل کے شعبے کو امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے اور منشیات اسمگلنگ کے خلاف تعاون نہیں کرتا تو وہ ایک اور حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کولمبیا اور میکسیکو میں بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی اور کہا کہ کیوبا کی کمیونسٹ حکومت خود ہی زوال کے قریب ہے۔ واشنگٹن میں کولمبیا اور میکسیکو کے سفارت خانوں نے فوری طور پر ان بیانات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>ٹرمپ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب مادورو کی پیر کو نیویارک میں عدالت میں پیشی طے تھی۔ مادورو کو ہفتے کے روز کاراکاس میں ایک فوجی چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ملک میں شدید سیاسی بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اس کارروائی کو قانون نافذ کرنے کا اقدام قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد مادورو کو 2020 میں دائر کیے گئے فوجداری الزامات پر جوابدہ ٹھہرانا ہے، جن میں انہیں منشیات سے متعلق دہشت گردی کی سازش کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم خود صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس کارروائی کے پیچھے دیگر عوامل بھی تھے، جن میں وینزویلا سے امریکہ آنے والے تارکین وطن کی بڑھتی تعداد اور ماضی میں امریکی تیل کے مفادات کو قومی تحویل میں لینا شامل ہے۔ ایئر فورس ون میں سوار ہو کر فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر انہوں نے کہا کہ ہم وہ واپس لے رہے ہیں جو ہم سے چوری کیا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب کاراکاس میں مادورو کی حکومت بدستور قائم ہے۔ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز، جنہوں نے عبوری قیادت سنبھالی ہے، نے کہا ہے کہ مادورو ہی ملک کے صدر ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں۔ مادورو پر بڑے منشیات کارٹلز کی مدد، اسمگلنگ کے راستوں کی نگرانی اور ریاستی وسائل کے استعمال کے الزامات ہیں، جن کی وہ تردید کرتے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر کئی ممالک نے ایک غیر ملکی سربراہِ مملکت کی گرفتاری کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس معاملے پر اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281278</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 15:26:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0515152858a3dbe.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0515152858a3dbe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
