<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:17:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:17:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت کی بندش سے کپاس کے بروکرز کو بھاری نقصان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281274/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) کی عمارت کے حوالے سے  سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے جب 12 دسمبر 2025 کو متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) نے ایف آئی اے کی مدد سے اچانک عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے 320 رجسٹرڈ کاٹن بروکرز اور کرایہ دار شدید مشکلات کا شکار ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ عمارت سیل ہونے سے روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایسوسی ایشن کی 52 سالہ تاریخ میں پہلی بار ”کاٹن اسپاٹ ریٹ“ (روزانہ کی قیمت) جاری نہیں ہو سکا، جس سے پوری مارکیٹ میں بے یقینی پھیل گئی ہے کیونکہ یہ ریٹ تاجروں، بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طرف تو یہ قانونی جنگ جاری ہے جہاں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ یہ عمارت 1936 سے کے ایم سی  کی ملکیت ہے اور اسے سیل کرنا غیر قانونی ہے، وہیں دوسری طرف ایف آئی اے نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت کی گئی ہے کیونکہ ایسوسی ایشن کے پاس موجود لیز کی دستاویزات مبینہ طور پر جعلی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کی وجہ سے تقریباً  5 ہزار لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اور بروکرز نے مطالبہ کیا ہے کہ دفاتر کو فوری طور پر ڈی سیل کیا جائے، تاکہ کاروبار بحال ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار کی صورتحال کے بارے میں سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے ساجد محمود نے بتایا کہ 31 دسمبر 2025 تک ملک میں 54 لاکھ سے زائد گانٹھیں ریکارڈ کی گئیں، جو پچھلے سال کے لگ بھگ برابر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سالانہ ضرورت 16 ملین گانٹھیں ہے، جبکہ پیداوار صرف 11 سے 12 ملین تک محدود رہتی ہے، جس کے باعث 5 ملین گانٹھیں اربوں ڈالر خرچ کر کے درآمد کرنی پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ بیج کی کوالٹی، جدید تحقیق اور گننگ فیکٹریوں میں کیمروں کے ذریعے نگرانی  اپٹما کے مطالبے کے مطابق ناگزیر ہے ، تاکہ غیر رجسٹرڈ گانٹھوں کا سراغ لگایا جا سکے اور شفافیت آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کو پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے ساتھ ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ وسائل کا بہتر استعمال  اور تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو اسے کپاس کی تحقیق میں بھاری سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور صنعت کو سستی بجلی و سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا، کیونکہ ٹیکسٹائل کی مضبوطی براہِ راست کپاس کی بہتر پیداوار سے جڑی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) کی عمارت کے حوالے سے  سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے جب 12 دسمبر 2025 کو متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) نے ایف آئی اے کی مدد سے اچانک عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔</strong></p>
<p>اس اقدام سے 320 رجسٹرڈ کاٹن بروکرز اور کرایہ دار شدید مشکلات کا شکار ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ عمارت سیل ہونے سے روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایسوسی ایشن کی 52 سالہ تاریخ میں پہلی بار ”کاٹن اسپاٹ ریٹ“ (روزانہ کی قیمت) جاری نہیں ہو سکا، جس سے پوری مارکیٹ میں بے یقینی پھیل گئی ہے کیونکہ یہ ریٹ تاجروں، بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ایک طرف تو یہ قانونی جنگ جاری ہے جہاں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ یہ عمارت 1936 سے کے ایم سی  کی ملکیت ہے اور اسے سیل کرنا غیر قانونی ہے، وہیں دوسری طرف ایف آئی اے نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت کی گئی ہے کیونکہ ایسوسی ایشن کے پاس موجود لیز کی دستاویزات مبینہ طور پر جعلی ہیں۔</p>
<p>اس تنازع کی وجہ سے تقریباً  5 ہزار لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اور بروکرز نے مطالبہ کیا ہے کہ دفاتر کو فوری طور پر ڈی سیل کیا جائے، تاکہ کاروبار بحال ہو سکے۔</p>
<p>ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار کی صورتحال کے بارے میں سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے ساجد محمود نے بتایا کہ 31 دسمبر 2025 تک ملک میں 54 لاکھ سے زائد گانٹھیں ریکارڈ کی گئیں، جو پچھلے سال کے لگ بھگ برابر ہیں۔</p>
<p>ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سالانہ ضرورت 16 ملین گانٹھیں ہے، جبکہ پیداوار صرف 11 سے 12 ملین تک محدود رہتی ہے، جس کے باعث 5 ملین گانٹھیں اربوں ڈالر خرچ کر کے درآمد کرنی پڑتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ بیج کی کوالٹی، جدید تحقیق اور گننگ فیکٹریوں میں کیمروں کے ذریعے نگرانی  اپٹما کے مطالبے کے مطابق ناگزیر ہے ، تاکہ غیر رجسٹرڈ گانٹھوں کا سراغ لگایا جا سکے اور شفافیت آئے۔</p>
<p>حکومت نے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کو پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے ساتھ ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ وسائل کا بہتر استعمال  اور تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔</p>
<p>ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو اسے کپاس کی تحقیق میں بھاری سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور صنعت کو سستی بجلی و سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا، کیونکہ ٹیکسٹائل کی مضبوطی براہِ راست کپاس کی بہتر پیداوار سے جڑی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281274</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 14:07:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نسیم عثمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/05135728ea5d0f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/05135728ea5d0f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
