<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حق خودارادیت کا دن، صدر اور وزیراعظم کا کشمیری عوام کیلئے حمایت کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281257/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری آج حق خودارادیت کا دن منا کر اپنے عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دن 5 جنوری 1949 کی یاد دلاتا ہے، جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں جموں و کشمیر کے عوام کو اپنا مستقبل اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کے ذریعے طے کرنے کا حق دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے عوام اس موقع پر جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں جموں و کشمیر کے متنازعہ ہونے کو تسلیم کیا گیا اور کشمیری عوام کو آزاد اور غیر جانبدار ووٹ کے ذریعے حق خودارادیت کی ضمانت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری نے کہا کہ سات دہائیوں سے زیادہ گزرنے کے باوجود عالمی برادری کا یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حق سے مسلسل انکار اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں، اظہار رائے کی آزادی پر قدغن، طویل حراستوں اور سخت قوانین کے استعمال پر گہری تشویش ظاہر کی، اور کہا کہ شہری تشدد، بے دخلی اور روزگار کے نقصان کی وجہ سے مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری نے جموں و کشمیر کے دریاؤں پر بھارت کے کنٹرول پر بھی تشویش ظاہر کی اور انڈس واٹرز ٹریٹی کی یکطرفہ معطلی کو علاقائی استحکام، غذائی سلامتی اور روزگار کے لیے خطرناک اقدام قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع صرف بات چیت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ سے ہی حل ہو سکتا ہے اور پاکستان کشمیری عوام کو اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے علیحدہ پیغام میں کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے اپنے موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کی قرارداد کے مطابق جموں و کشمیر کی حتمی تقدیر اقوام متحدہ کے نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدار ریفرنڈم کے ذریعے طے ہونی تھی، لیکن بھارت کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی برادری فوری طور پر بھارت سے مطالبہ کرے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے، یکطرفہ اقدامات واپس لے، سخت قوانین ختم کرے اور کشمیری عوام کو حق خودارادیت فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری آج حق خودارادیت کا دن منا کر اپنے عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔</strong></p>
<p>یہ دن 5 جنوری 1949 کی یاد دلاتا ہے، جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں جموں و کشمیر کے عوام کو اپنا مستقبل اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کے ذریعے طے کرنے کا حق دیا گیا۔</p>
<p>اس حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے عوام اس موقع پر جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں جموں و کشمیر کے متنازعہ ہونے کو تسلیم کیا گیا اور کشمیری عوام کو آزاد اور غیر جانبدار ووٹ کے ذریعے حق خودارادیت کی ضمانت دی گئی۔</p>
<p>صدر آصف زرداری نے کہا کہ سات دہائیوں سے زیادہ گزرنے کے باوجود عالمی برادری کا یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حق سے مسلسل انکار اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں، اظہار رائے کی آزادی پر قدغن، طویل حراستوں اور سخت قوانین کے استعمال پر گہری تشویش ظاہر کی، اور کہا کہ شہری تشدد، بے دخلی اور روزگار کے نقصان کی وجہ سے مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p>صدر آصف زرداری نے جموں و کشمیر کے دریاؤں پر بھارت کے کنٹرول پر بھی تشویش ظاہر کی اور انڈس واٹرز ٹریٹی کی یکطرفہ معطلی کو علاقائی استحکام، غذائی سلامتی اور روزگار کے لیے خطرناک اقدام قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع صرف بات چیت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ سے ہی حل ہو سکتا ہے اور پاکستان کشمیری عوام کو اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے علیحدہ پیغام میں کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے اپنے موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کی قرارداد کے مطابق جموں و کشمیر کی حتمی تقدیر اقوام متحدہ کے نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدار ریفرنڈم کے ذریعے طے ہونی تھی، لیکن بھارت کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔</p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی برادری فوری طور پر بھارت سے مطالبہ کرے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے، یکطرفہ اقدامات واپس لے، سخت قوانین ختم کرے اور کشمیری عوام کو حق خودارادیت فراہم کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281257</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 10:13:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فضل شیر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/051007211c7aec2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/051007211c7aec2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
