<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک افغان سرحد کی طویل بندش سے تاجروں کو بھاری نقصان کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281252/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرحدی تاجروں کے مطابق پاک افغان سرحدی گزرگاہوں کی طویل بندش کے باعث دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بھاری مالی نقصانات اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں نے ان خیالات کا اظہار سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا، جس کی صدارت چیمبر کے صدر جنید الطاف نے کی۔ اجلاس میں سینئر عہدیداران، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان، تاجر، صنعتکار، درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاک افغان مشترکہ سرحد اور چار دیگر کراسنگ پوائنٹس کی بندش پر تفصیلی بحث کی گئی اور اس اہم معاملے پر متفقہ مؤقف اختیار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے زور دیا کہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ تجارتی برادری کو مزید مالی نقصانات سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو کمیٹی نے واضح کیا کہ کاروباری برادری صورتحال کی سنگینی اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کو پوری طرح سمجھتی ہے اور قومی سلامتی اور امن پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فورم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوطرفہ تجارت کی بحالی اقتصادی استحکام، ترقی، کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی عمل کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سرحد چیمبر جنید الطاف نے اجلاس کو بتایا کہ پاک افغان اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے 12,000 سے زائد کنٹینرز کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث تاجروں کو بھاری ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی بندش کے باعث خراب ہونے والی اشیا کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والی آبادیوں کو شدید سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرنے اور اس مسئلے کو فوری بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید الطاف کے مطابق مختلف اسٹیک ہولڈرز کو روزانہ لاکھوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے، جبکہ بینک گارنٹیز اور کنٹینر سیکیورٹی ڈپازٹس کی مد میں اربوں روپے پھنس چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کلیئرنگ ایجنٹس اور بانڈڈ کیریئرز کی لیکویڈیٹی ختم ہو چکی ہے، جبکہ غیر ملکی شپنگ لائنز کے چارجز مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرحدی تاجروں کے مطابق پاک افغان سرحدی گزرگاہوں کی طویل بندش کے باعث دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بھاری مالی نقصانات اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>تاجروں نے ان خیالات کا اظہار سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا، جس کی صدارت چیمبر کے صدر جنید الطاف نے کی۔ اجلاس میں سینئر عہدیداران، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان، تاجر، صنعتکار، درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان نے شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس میں پاک افغان مشترکہ سرحد اور چار دیگر کراسنگ پوائنٹس کی بندش پر تفصیلی بحث کی گئی اور اس اہم معاملے پر متفقہ مؤقف اختیار کیا گیا۔</p>
<p>فورم نے زور دیا کہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ تجارتی برادری کو مزید مالی نقصانات سے بچایا جا سکے۔</p>
<p>ایگزیکٹو کمیٹی نے واضح کیا کہ کاروباری برادری صورتحال کی سنگینی اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کو پوری طرح سمجھتی ہے اور قومی سلامتی اور امن پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا۔</p>
<p>تاہم فورم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوطرفہ تجارت کی بحالی اقتصادی استحکام، ترقی، کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی عمل کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>صدر سرحد چیمبر جنید الطاف نے اجلاس کو بتایا کہ پاک افغان اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے 12,000 سے زائد کنٹینرز کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث تاجروں کو بھاری ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی بندش کے باعث خراب ہونے والی اشیا کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والی آبادیوں کو شدید سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرنے اور اس مسئلے کو فوری بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>جنید الطاف کے مطابق مختلف اسٹیک ہولڈرز کو روزانہ لاکھوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے، جبکہ بینک گارنٹیز اور کنٹینر سیکیورٹی ڈپازٹس کی مد میں اربوں روپے پھنس چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کلیئرنگ ایجنٹس اور بانڈڈ کیریئرز کی لیکویڈیٹی ختم ہو چکی ہے، جبکہ غیر ملکی شپنگ لائنز کے چارجز مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281252</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 14:42:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/050924122fa6850.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/050924122fa6850.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
