<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاٹن سیکٹر کی صورتحال بہتر ہونے لگی ، بتدریج بحالی کا آغاز ہوگیا ، پاکستان بزنس فورم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281243/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) کے مطابق سال 2025 کے دوران بہتر پیداوار اور مارکیٹ کی طلب کے باعث کپاس کا شعبہ بتدریج بحالی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق کپاس کی آمد 5.43 ملین گانٹھوں تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایف جنوبی پنجاب کے چیئرمین ملک طلعت سہیل نے بتایا کہ یہ بہتری پنجاب اور سندھ کے اہم علاقوں سے بہتر رسد کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، تاہم پی بی ایف نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ پیداوار قومی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سالانہ 14 سے 15 ملین گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ اس فرق کی وجہ سے درآمدات پر انحصار برقرار ہے، جو زرمبادلہ پر بوجھ ڈالتا ہے۔ فورم نے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، معیاری بیجوں کی فراہمی اور بنولہ و کھل پر 18 فیصد سیلز ٹیکس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے ، تاکہ کاشتکاروں کے اخراجات کم ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم کا ماننا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا اور پالیسی سپورٹ ملی  تو پاکستان 2026 میں درآمدات پر انحصار کم کر کے ٹیکسٹائل کی زنجیر کو مضبوط بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) کے مطابق سال 2025 کے دوران بہتر پیداوار اور مارکیٹ کی طلب کے باعث کپاس کا شعبہ بتدریج بحالی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق کپاس کی آمد 5.43 ملین گانٹھوں تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</strong></p>
<p>پی بی ایف جنوبی پنجاب کے چیئرمین ملک طلعت سہیل نے بتایا کہ یہ بہتری پنجاب اور سندھ کے اہم علاقوں سے بہتر رسد کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، تاہم پی بی ایف نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ پیداوار قومی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سالانہ 14 سے 15 ملین گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ اس فرق کی وجہ سے درآمدات پر انحصار برقرار ہے، جو زرمبادلہ پر بوجھ ڈالتا ہے۔ فورم نے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، معیاری بیجوں کی فراہمی اور بنولہ و کھل پر 18 فیصد سیلز ٹیکس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے ، تاکہ کاشتکاروں کے اخراجات کم ہو سکیں۔</p>
<p>فورم کا ماننا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا اور پالیسی سپورٹ ملی  تو پاکستان 2026 میں درآمدات پر انحصار کم کر کے ٹیکسٹائل کی زنجیر کو مضبوط بنا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281243</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 14:06:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/04135536944fcfb.webp" type="image/webp" medium="image" height="650" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/04135536944fcfb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
