<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:21:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:21:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدات بڑھانے کے لیے لاہور چیمبر کی حکومت کو قابلِ عمل سفارشات کی پیشکش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281240/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور چیمبر آف کامرس (ایل سی سی آئی) نے برآمدات میں اضافے کے لیے وفاقی سیکرٹریز کو  قابلِ عمل  تجاویز پیش کر دیں۔ وفاقی سیکرٹری تجارت جواد پال نے یقین دلایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پالیسی سازی میں برآمد کنندگان کو ترجیح دی جائے گی اور نجی شعبہ ہی معاشی ترقی کی قیادت کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل سی سی آئی کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے معیشت کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو سال کے آخر تک 38 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غذائی برآمدات میں 38 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ چاول، سبزیوں اور تیل دار بیجوں کی برآمدات میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمی کی وجوہات میں زرعی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کا قیام، پانی کا ناقص انتظام اور بلند پیداواری لاگت شامل ہیں۔ انہوں نے واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام، ہائبرڈ بیجوں کے استعمال اور حلال فوڈ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں بلند شرح سود اور مہنگی بجلی کو ”سرمائے کے فرار“ کی بڑی وجہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور چیمبر آف کامرس (ایل سی سی آئی) نے برآمدات میں اضافے کے لیے وفاقی سیکرٹریز کو  قابلِ عمل  تجاویز پیش کر دیں۔ وفاقی سیکرٹری تجارت جواد پال نے یقین دلایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پالیسی سازی میں برآمد کنندگان کو ترجیح دی جائے گی اور نجی شعبہ ہی معاشی ترقی کی قیادت کرے گا۔</strong></p>
<p>ایل سی سی آئی کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے معیشت کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو سال کے آخر تک 38 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غذائی برآمدات میں 38 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ چاول، سبزیوں اور تیل دار بیجوں کی برآمدات میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔</p>
<p>کمی کی وجوہات میں زرعی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کا قیام، پانی کا ناقص انتظام اور بلند پیداواری لاگت شامل ہیں۔ انہوں نے واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام، ہائبرڈ بیجوں کے استعمال اور حلال فوڈ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں بلند شرح سود اور مہنگی بجلی کو ”سرمائے کے فرار“ کی بڑی وجہ قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281240</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 13:42:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/041333154274da3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/041333154274da3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
