<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:10:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:10:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی بینک نے سندھ فلڈ ریلیف پراجیکٹ کی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281221/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبیلیٹیشن پراجیکٹ (ایس ایف ای آر پی) کے تحت پراجیکٹ ڈیولپمنٹ آبجیکٹوز (پی ڈی او) کے حصول اور مجموعی نفاذی پیش رفت (آئی پی) دونوں کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد مضبوط رہا اور اس کے فوائد سندھ بھر میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز تک وسیع پیمانے پر پہنچے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی تازہ امپلیمنٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ کے مطابق اس منصوبے سے 7.2 ملین سے زائد افراد مستفید ہوئے، جن میں تقریباً 3.4 ملین خواتین شامل ہیں۔ یہ فوائد 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے اہم انفراسٹرکچر کی بحالی کے نتیجے میں حاصل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ (ایس آئی ڈی) کے تحت نافذ کیے گئے تمام اجزا میں اصل فنانسنگ کے تحت سول ورکس مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان میں سیلاب سے بچاؤ کے انفراسٹرکچر کی بحالی اور فلڈ ڈیٹینشن ڈیمز کی تعمیر شامل ہے، جس سے کمزور علاقوں میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (پی اینڈ ڈی ڈی) نے اپنے جز کے تحت بڑی سرمایہ کاری مکمل کر لی ہے، جس کے نتیجے میں 138 سڑکیں بحال کی گئیں جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 821 کلومیٹر ہے، جبکہ 483 پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی اسکیمیں بھی مکمل کی گئیں۔ اس سے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں رابطہ اور بنیادی سہولیات تک رسائی بہتر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122 کے جز کے تحت 16 سیٹلائٹ ریسکیو اسٹیشنز مکمل ہو کر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ضلع سطح کے اسٹیشنز کی تعمیر بھی آخری مراحل میں ہے۔ اس پیش رفت سے صوبے بھر میں ہنگامی ردعمل کی صلاحیت مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے یہ بھی بتایا کہ اضافی فنانسنگ کے تحت عملدرآمد کی رفتار تسلی بخش ہے، جو منصوبے کے ترقیاتی اثرات کو مزید مستحکم اور وسعت دینے کے لیے اضافی سرمایہ کاری کی معاونت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے ترقیاتی اہداف دوہری نوعیت کے ہیں، جن میں سیلاب سے متاثرہ منتخب علاقوں میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور قلیل مدت روزگار کے مواقع فراہم کرنا، نیز موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے حکومتِ سندھ کی صلاحیت میں اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی اعتبار سے آئی ڈی اے-72500 کے تحت رقوم کے اجرا کی شرح 99.89 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے تحت نظرثانی شدہ 535.42 ملین ڈالر کی رقم میں سے 517.09 ملین ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب آئی ڈی اے-77800 کے تحت 41.08 فیصد رقوم جاری ہوئیں، جن کی مالیت اب تک 60.13 ملین ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم پراجیکٹ ڈیٹا کے مطابق آئی ڈی اے-72500 کی منظوری 19 دسمبر 2022 کو دی گئی، یہ منصوبہ 10 جنوری 2023 کو مؤثر ہوا، جبکہ اس کی تکمیلی تاریخ میں ترمیم کر کے 30 جون 2028 مقرر کی گئی ہے، تاکہ منصوبے کے نتائج کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جا سکے اور سندھ میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے طویل المدتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبیلیٹیشن پراجیکٹ (ایس ایف ای آر پی) کے تحت پراجیکٹ ڈیولپمنٹ آبجیکٹوز (پی ڈی او) کے حصول اور مجموعی نفاذی پیش رفت (آئی پی) دونوں کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد مضبوط رہا اور اس کے فوائد سندھ بھر میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز تک وسیع پیمانے پر پہنچے ہیں۔</strong></p>
<p>عالمی بینک کی تازہ امپلیمنٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ کے مطابق اس منصوبے سے 7.2 ملین سے زائد افراد مستفید ہوئے، جن میں تقریباً 3.4 ملین خواتین شامل ہیں۔ یہ فوائد 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے اہم انفراسٹرکچر کی بحالی کے نتیجے میں حاصل ہوئے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ (ایس آئی ڈی) کے تحت نافذ کیے گئے تمام اجزا میں اصل فنانسنگ کے تحت سول ورکس مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان میں سیلاب سے بچاؤ کے انفراسٹرکچر کی بحالی اور فلڈ ڈیٹینشن ڈیمز کی تعمیر شامل ہے، جس سے کمزور علاقوں میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔</p>
<p>اسی طرح پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (پی اینڈ ڈی ڈی) نے اپنے جز کے تحت بڑی سرمایہ کاری مکمل کر لی ہے، جس کے نتیجے میں 138 سڑکیں بحال کی گئیں جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 821 کلومیٹر ہے، جبکہ 483 پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی اسکیمیں بھی مکمل کی گئیں۔ اس سے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں رابطہ اور بنیادی سہولیات تک رسائی بہتر ہوئی ہے۔</p>
<p>ریسکیو 1122 کے جز کے تحت 16 سیٹلائٹ ریسکیو اسٹیشنز مکمل ہو کر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ضلع سطح کے اسٹیشنز کی تعمیر بھی آخری مراحل میں ہے۔ اس پیش رفت سے صوبے بھر میں ہنگامی ردعمل کی صلاحیت مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے یہ بھی بتایا کہ اضافی فنانسنگ کے تحت عملدرآمد کی رفتار تسلی بخش ہے، جو منصوبے کے ترقیاتی اثرات کو مزید مستحکم اور وسعت دینے کے لیے اضافی سرمایہ کاری کی معاونت کر رہی ہے۔</p>
<p>اس منصوبے کے ترقیاتی اہداف دوہری نوعیت کے ہیں، جن میں سیلاب سے متاثرہ منتخب علاقوں میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور قلیل مدت روزگار کے مواقع فراہم کرنا، نیز موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے حکومتِ سندھ کی صلاحیت میں اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>مالی اعتبار سے آئی ڈی اے-72500 کے تحت رقوم کے اجرا کی شرح 99.89 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے تحت نظرثانی شدہ 535.42 ملین ڈالر کی رقم میں سے 517.09 ملین ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب آئی ڈی اے-77800 کے تحت 41.08 فیصد رقوم جاری ہوئیں، جن کی مالیت اب تک 60.13 ملین ڈالر ہے۔</p>
<p>اہم پراجیکٹ ڈیٹا کے مطابق آئی ڈی اے-72500 کی منظوری 19 دسمبر 2022 کو دی گئی، یہ منصوبہ 10 جنوری 2023 کو مؤثر ہوا، جبکہ اس کی تکمیلی تاریخ میں ترمیم کر کے 30 جون 2028 مقرر کی گئی ہے، تاکہ منصوبے کے نتائج کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جا سکے اور سندھ میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے طویل المدتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281221</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 09:15:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/040913302f24fde.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/040913302f24fde.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
