<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی تک ملک چلانے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281220/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر حملے، اس کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور عارضی طور پر ملک چلانے کے اعلان نے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک غیرمعمولی موڑ کو جنم دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ ماضی میں دیگر رہنماؤں پر بیرونی معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت کا الزام لگاتے رہے ہیں اور بیرونی معاملات سے بچنے کے وعدے کرتے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت تک وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا جب تک وہاں ایک محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ اقتدار کی منتقلی ممکن نہیں ہو جاتی۔ ان کے بیان سے یہ عندیہ بھی ملا کہ مستقبل میں مزید فوجی کارروائی، وینزویلا کی سیاست اور تیل کے شعبے میں امریکی شمولیت اور زمینی فوجی تعیناتی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ٹرمپ کے اس بیان سے متصادم نظر آتا ہے جو انہوں نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر دیا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی کامیابی کا پیمانہ نہ صرف جیتی گئی جنگیں ہوں گی بلکہ وہ جنگیں بھی ہوں گی جن سے امریکہ دور رہا۔ تاہم اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ شام، عراق، ایران، یمن، نائجیریا اور صومالیہ میں کارروائیاں کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا پر رات گئے ہونے والا حملہ اب تک کی سب سے جارحانہ فوجی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں دارالحکومت کاراکاس سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات اسمگلنگ کے الزامات پر نیویارک منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت پر امریکہ کے اندر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ اقدام امریکہ فرسٹ پالیسی کے منافی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیت کے رہنما چک شومر نے کہا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کے بغیر فوجی مداخلت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اب وینزویلا میں ایک پیچیدہ عبوری حکومتی عمل میں الجھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف وینزویلا بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر حملے، اس کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور عارضی طور پر ملک چلانے کے اعلان نے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک غیرمعمولی موڑ کو جنم دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ ماضی میں دیگر رہنماؤں پر بیرونی معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت کا الزام لگاتے رہے ہیں اور بیرونی معاملات سے بچنے کے وعدے کرتے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت تک وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا جب تک وہاں ایک محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ اقتدار کی منتقلی ممکن نہیں ہو جاتی۔ ان کے بیان سے یہ عندیہ بھی ملا کہ مستقبل میں مزید فوجی کارروائی، وینزویلا کی سیاست اور تیل کے شعبے میں امریکی شمولیت اور زمینی فوجی تعیناتی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔</p>
<p>یہ اقدام ٹرمپ کے اس بیان سے متصادم نظر آتا ہے جو انہوں نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر دیا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی کامیابی کا پیمانہ نہ صرف جیتی گئی جنگیں ہوں گی بلکہ وہ جنگیں بھی ہوں گی جن سے امریکہ دور رہا۔ تاہم اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ شام، عراق، ایران، یمن، نائجیریا اور صومالیہ میں کارروائیاں کر چکی ہے۔</p>
<p>وینزویلا پر رات گئے ہونے والا حملہ اب تک کی سب سے جارحانہ فوجی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں دارالحکومت کاراکاس سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات اسمگلنگ کے الزامات پر نیویارک منتقل کیا گیا۔</p>
<p>اس پیش رفت پر امریکہ کے اندر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ اقدام امریکہ فرسٹ پالیسی کے منافی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیت کے رہنما چک شومر نے کہا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کے بغیر فوجی مداخلت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اب وینزویلا میں ایک پیچیدہ عبوری حکومتی عمل میں الجھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف وینزویلا بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281220</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 09:04:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/04090159786bd7d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/04090159786bd7d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
