<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھنک ٹینک کی حکومت کے معاشی شرحِ نمو کے دعوؤں پر سخت تنقید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281219/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت پاکستان کی جانب سے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے معاشی شرح نمو کے دعوے کو اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ (ای پی بی ڈی) تھنک ٹینک نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ اعداد و شمار حقیقی پیداواری سرگرمی میں اضافے کے بجائے درآمدات پر مبنی اکاؤنٹنگ اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) نے مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے 3.71 فیصد گراس ویلیو ایڈیڈ (جی وی اے) نمو کی منظوری دی، جس میں زراعت کی شرح نمو 2.89 فیصد، صنعت 9.38 فیصد اور سروسز 2.35 فیصد ظاہر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سہ ماہی جی ڈی پی سے متعلق ایک فیکٹ شیٹ میں ای پی بی ڈی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور خبردار کیا کہ حقیقی کاروباری سرگرمی کے بغیر نمو محض کاغذی حد تک محدود رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی کے مطابق سب سے نمایاں تضاد مقامی پیداوار کے تخمینوں اور تجارتی کارکردگی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ زراعت اور غذائی اشیا سے متعلق مینوفیکچرنگ میں مثبت نمو کے دعوؤں کے باوجود، خوراک کے گروپ کی برآمدات میں 25.8 فیصد کی شدید کمی ہوئی، جبکہ اسی دوران خوراک کی درآمدات میں 18.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تھنک ٹینک نے کہا کہ اگر واقعی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہوتا تو برآمدات مضبوط ہوتیں، نہ کہ اس طرح گر جاتیں، اور یہ کہ بڑھتی ہوئی درآمدات کو ماپی گئی نمو کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زراعت میں ظاہر کی گئی 2.89 فیصد نمو پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ای پی بی ڈی نے نشاندہی کی کہ شدید سیلاب کے باعث زرعی شعبے میں جمود یا منفی نمو کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن اس کے برعکس سرکاری اعداد و شمار میں اضافہ دکھایا گیا۔ اس کے باوجود اہم فصلوں کی پیداوار میں مجموعی طور پر 0.75 فیصد کمی ہوئی، جس کی وجہ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی اور پہلی سہ ماہی میں گندم کی فصل کا نہ ہونا تھا۔ تھنک ٹینک کے مطابق یہ فرق بعض ذیلی شعبوں میں زیادہ تخمینے کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے میں 9.38 فیصد نمو بھی تشویش کا باعث بنی۔ ای پی بی ڈی کے مطابق یہ اضافہ بڑی حد تک بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی میں 25 فیصد سے زائد اضافے کی وجہ سے ہوا، جو کہ حقیقی فزیکل پیداوار میں اضافے کے بجائے بھاری سبسڈیز کا نتیجہ تھا۔ یہ سبسڈیز 20 ارب روپے سے بڑھ کر 118 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ ادارے کے مطابق اس طرح کی مالی معاونت اور ڈیفلیٹر ایڈجسٹمنٹس نے حقیقی پیداوار میں بہتری کے بغیر ویلیو ایڈیڈ کو بڑھا کر دکھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تعمیراتی شعبے میں 21 فیصد نمو بھی بنیادی اشاریوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ سیمنٹ کی پیداوار میں 15.32 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹرانسپورٹ آلات کی درآمدات دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیراتی سرگرمی مقامی سپلائی چینز کے بجائے بڑھتی ہوئی درآمدات پر انحصار کر رہی ہے۔ مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار بھی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ای پی بی ڈی نے بتایا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث کاٹن جننگ میں 12 فیصد کمی آئی، جبکہ کپاس کی برآمدات میں تقریباً 10 فیصد کمی ہوئی۔ اس کے برعکس ٹیکسٹائل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ درآمد شدہ کپاس اور مصنوعی فائبرز کے استعمال کی بدولت ہوا، جس سے یہ خدشہ تقویت پاتا ہے کہ نمو محض اسمبلنگ پر مبنی ہے اور اس کے پیچھے مضبوط بیک ورڈ لنکیجز موجود نہیں ہیں۔ تھنک ٹینک نے چینی کے شعبے میں بھی الٹ رجحان کی نشاندہی کی، جہاں پاکستان برآمدات سے دوبارہ درآمدات کی طرف بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروسز سیکٹر کی 2.35 فیصد نمو محدود رہی اور سہ ماہی بنیاد پر اس میں سست روی دیکھی گئی، جو کمزور طلب اور مجموعی معیشت میں محدود رفتار کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار مقامی پیداوار اور تجارتی کارکردگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کر رہے ہیں، جس سے رپورٹ کی گئی بحالی کے معیار اور پائیدار پر سوالات جنم لیتے ہیں۔ ادارے کے مطابق حقیقی کاروباری سرگرمی میں اضافے کے بغیر نمو محض ظاہری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے ای پی بی ڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مارکیٹ پر مبنی پالیسیاں تشکیل دی جائیں، نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی قیادت کرنے دی جائے اور آزاد کاروباری سرگرمی کے لیے ایک مستحکم ماحول فراہم کیا جائے۔ تھنک ٹینک کے مطابق صرف نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری ہی پائیدار اور حقیقی معاشی ترقی فراہم کر سکتی ہے، نہ کہ وہ سرخیاں جو درآمدات، سبسڈیز اور شماریاتی ایڈجسٹمنٹس کے سہارے بنائی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت پاکستان کی جانب سے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے معاشی شرح نمو کے دعوے کو اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ (ای پی بی ڈی) تھنک ٹینک نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ اعداد و شمار حقیقی پیداواری سرگرمی میں اضافے کے بجائے درآمدات پر مبنی اکاؤنٹنگ اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔</strong></p>
<p>نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) نے مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے 3.71 فیصد گراس ویلیو ایڈیڈ (جی وی اے) نمو کی منظوری دی، جس میں زراعت کی شرح نمو 2.89 فیصد، صنعت 9.38 فیصد اور سروسز 2.35 فیصد ظاہر کی گئی۔</p>
<p>تاہم، سہ ماہی جی ڈی پی سے متعلق ایک فیکٹ شیٹ میں ای پی بی ڈی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور خبردار کیا کہ حقیقی کاروباری سرگرمی کے بغیر نمو محض کاغذی حد تک محدود رہے گی۔</p>
<p>ای پی بی ڈی کے مطابق سب سے نمایاں تضاد مقامی پیداوار کے تخمینوں اور تجارتی کارکردگی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ زراعت اور غذائی اشیا سے متعلق مینوفیکچرنگ میں مثبت نمو کے دعوؤں کے باوجود، خوراک کے گروپ کی برآمدات میں 25.8 فیصد کی شدید کمی ہوئی، جبکہ اسی دوران خوراک کی درآمدات میں 18.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تھنک ٹینک نے کہا کہ اگر واقعی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہوتا تو برآمدات مضبوط ہوتیں، نہ کہ اس طرح گر جاتیں، اور یہ کہ بڑھتی ہوئی درآمدات کو ماپی گئی نمو کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>زراعت میں ظاہر کی گئی 2.89 فیصد نمو پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ای پی بی ڈی نے نشاندہی کی کہ شدید سیلاب کے باعث زرعی شعبے میں جمود یا منفی نمو کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن اس کے برعکس سرکاری اعداد و شمار میں اضافہ دکھایا گیا۔ اس کے باوجود اہم فصلوں کی پیداوار میں مجموعی طور پر 0.75 فیصد کمی ہوئی، جس کی وجہ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی اور پہلی سہ ماہی میں گندم کی فصل کا نہ ہونا تھا۔ تھنک ٹینک کے مطابق یہ فرق بعض ذیلی شعبوں میں زیادہ تخمینے کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے میں 9.38 فیصد نمو بھی تشویش کا باعث بنی۔ ای پی بی ڈی کے مطابق یہ اضافہ بڑی حد تک بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی میں 25 فیصد سے زائد اضافے کی وجہ سے ہوا، جو کہ حقیقی فزیکل پیداوار میں اضافے کے بجائے بھاری سبسڈیز کا نتیجہ تھا۔ یہ سبسڈیز 20 ارب روپے سے بڑھ کر 118 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ ادارے کے مطابق اس طرح کی مالی معاونت اور ڈیفلیٹر ایڈجسٹمنٹس نے حقیقی پیداوار میں بہتری کے بغیر ویلیو ایڈیڈ کو بڑھا کر دکھایا۔</p>
<p>اسی طرح تعمیراتی شعبے میں 21 فیصد نمو بھی بنیادی اشاریوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ سیمنٹ کی پیداوار میں 15.32 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹرانسپورٹ آلات کی درآمدات دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیراتی سرگرمی مقامی سپلائی چینز کے بجائے بڑھتی ہوئی درآمدات پر انحصار کر رہی ہے۔ مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار بھی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ای پی بی ڈی نے بتایا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث کاٹن جننگ میں 12 فیصد کمی آئی، جبکہ کپاس کی برآمدات میں تقریباً 10 فیصد کمی ہوئی۔ اس کے برعکس ٹیکسٹائل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ درآمد شدہ کپاس اور مصنوعی فائبرز کے استعمال کی بدولت ہوا، جس سے یہ خدشہ تقویت پاتا ہے کہ نمو محض اسمبلنگ پر مبنی ہے اور اس کے پیچھے مضبوط بیک ورڈ لنکیجز موجود نہیں ہیں۔ تھنک ٹینک نے چینی کے شعبے میں بھی الٹ رجحان کی نشاندہی کی، جہاں پاکستان برآمدات سے دوبارہ درآمدات کی طرف بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>سروسز سیکٹر کی 2.35 فیصد نمو محدود رہی اور سہ ماہی بنیاد پر اس میں سست روی دیکھی گئی، جو کمزور طلب اور مجموعی معیشت میں محدود رفتار کی عکاس ہے۔</p>
<p>ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار مقامی پیداوار اور تجارتی کارکردگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کر رہے ہیں، جس سے رپورٹ کی گئی بحالی کے معیار اور پائیدار پر سوالات جنم لیتے ہیں۔ ادارے کے مطابق حقیقی کاروباری سرگرمی میں اضافے کے بغیر نمو محض ظاہری رہے گی۔</p>
<p>پالیسی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے ای پی بی ڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مارکیٹ پر مبنی پالیسیاں تشکیل دی جائیں، نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی قیادت کرنے دی جائے اور آزاد کاروباری سرگرمی کے لیے ایک مستحکم ماحول فراہم کیا جائے۔ تھنک ٹینک کے مطابق صرف نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری ہی پائیدار اور حقیقی معاشی ترقی فراہم کر سکتی ہے، نہ کہ وہ سرخیاں جو درآمدات، سبسڈیز اور شماریاتی ایڈجسٹمنٹس کے سہارے بنائی جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281219</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jan 2026 08:53:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/04085106618cd6c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/04085106618cd6c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
