<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2025 میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تیزی: پاکستان میں چاندی کی قیمت میں 130 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281216/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2025 میں پاکستان کی قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں چاندی نے سونے کو پیچھے چھوڑ دیا، جہاں قیمتوں میں تیز اضافے کے ساتھ سفید دھات نے سونے کے مقابلے میں تقریباً دگنا منافع دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (اے پی جی جے ایس اے) کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق چاندی نے 2025 کی آخری ٹریڈنگ سیشن میں 7,718 روپے فی تولہ پر اختتام کیا، جو 31 دسمبر 2024 کو 3,350 روپے فی تولہ کے مقابلے میں 130 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سونے نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاروں کو نمایاں منافع دیا اور کیلنڈر سال کے اختتام پر اس کی قیمت 456,962 روپے فی تولہ رہی، جو 2024 کے اختتام پر 272,600 روپے فی تولہ تھی، یوں 2025 میں سونے نے 68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں سوسائٹی ویلفیئر جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ عبدالرزاق چاند نے کہا کہ سال بھر سونے اور چاندی دونوں کی مضبوط طلب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’چاندی میں سالانہ بنیادوں پر غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ عالمی منڈیوں میں سفید دھات کی طلب برقرار رہی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں چاندی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ گرین انرجی، الیکٹرانکس اور دیگر شعبوں میں مضبوط صنعتی طلب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ عبدالرزاق چاند کے مطابق جدید سالڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی، جس میں اینوڈ کے لیے سلور-کاربن (Ag-C) کمپوزٹ پرت شامل کی جاتی ہے، نے بھی چاندی کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاندی کو امریکا کی جانب سے ایک اہم معدنیات قرار دیے جانے، سپلائی میں مسلسل رکاوٹوں اور کم ذخائر سے اضافی سہارا ملا، جبکہ مرکزی بینکوں کی مسلسل خریداری نے سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈیوں میں 2025 کے دوران اجناس کے شعبے میں قیمتی دھاتیں نمایاں کارکردگی دکھانے والی رہیں، جہاں چاندی نے بیشتر بڑے ایکویٹی انڈیکسز اور کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ سونا معاشی اور جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔ 2025 میں چاندی کی قیمت میں 161 فیصد اضافہ ہوا اور یہ پہلی بار 80 ڈالر فی اونس کی حد عبور کر گئی، جبکہ سونے کی قیمت میں 66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے 2025 میں چاندی کو باضابطہ طور پر اپنی اہم معدنیات کی فہرست میں شامل کیا، جس سے پہلے ہی قلت کا شکار اس دھات پر طلب کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔ اس اقدام سے چاندی پر ٹیرف عائد کیے جانے کے امکانات بھی بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کی اہم معدنیات کی فہرست 2017 میں قائم کی گئی تھی، جو وفاقی حکمت عملی، سرمایہ کاری اور کان کنی کے اجازت ناموں سے متعلق فیصلوں کی رہنمائی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے چین نے ان کمپنیوں کے ناموں کا اعلان کیا جنہیں 2026 اور 2027 کے دوران ٹنگسٹن، اینٹی مونی اور چاندی برآمد کرنے کی اجازت ہوگی، جنہیں بیجنگ اپنی صنعتوں کی معاونت کے لیے اہم معدنیات قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی وزارتِ تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر 44 کمپنیوں کو چاندی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ ٹنگسٹن اور اینٹی مونی کے لیے یہ تعداد بالترتیب 15 اور 11 ہوگی۔ یہ 2025 کے مقابلے میں چاندی کے لیے دو کمپنیوں کا اضافہ ہے، جبکہ ٹنگسٹن اور اینٹی مونی کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے حال ہی میں تجزیہ کاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 2026 میں شرحِ سود میں متوقع کمی کے باعث قیمتی دھاتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے، تاہم زرعی اور توانائی مصنوعات کے لیے منظرنامہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی سپلائی اور کمزور طلب کسی نمایاں اضافے کے امکانات کو محدود کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>2025 میں پاکستان کی قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں چاندی نے سونے کو پیچھے چھوڑ دیا، جہاں قیمتوں میں تیز اضافے کے ساتھ سفید دھات نے سونے کے مقابلے میں تقریباً دگنا منافع دیا ہے۔</strong></p>
<p>آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (اے پی جی جے ایس اے) کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق چاندی نے 2025 کی آخری ٹریڈنگ سیشن میں 7,718 روپے فی تولہ پر اختتام کیا، جو 31 دسمبر 2024 کو 3,350 روپے فی تولہ کے مقابلے میں 130 فیصد اضافہ ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سونے نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاروں کو نمایاں منافع دیا اور کیلنڈر سال کے اختتام پر اس کی قیمت 456,962 روپے فی تولہ رہی، جو 2024 کے اختتام پر 272,600 روپے فی تولہ تھی، یوں 2025 میں سونے نے 68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔</p>
<p>کراچی میں سوسائٹی ویلفیئر جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ عبدالرزاق چاند نے کہا کہ سال بھر سونے اور چاندی دونوں کی مضبوط طلب رہی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’چاندی میں سالانہ بنیادوں پر غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ عالمی منڈیوں میں سفید دھات کی طلب برقرار رہی۔‘‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں چاندی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ گرین انرجی، الیکٹرانکس اور دیگر شعبوں میں مضبوط صنعتی طلب ہے۔</p>
<p>عبداللہ عبدالرزاق چاند کے مطابق جدید سالڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی، جس میں اینوڈ کے لیے سلور-کاربن (Ag-C) کمپوزٹ پرت شامل کی جاتی ہے، نے بھی چاندی کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>چاندی کو امریکا کی جانب سے ایک اہم معدنیات قرار دیے جانے، سپلائی میں مسلسل رکاوٹوں اور کم ذخائر سے اضافی سہارا ملا، جبکہ مرکزی بینکوں کی مسلسل خریداری نے سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا۔</p>
<p>عالمی منڈیوں میں 2025 کے دوران اجناس کے شعبے میں قیمتی دھاتیں نمایاں کارکردگی دکھانے والی رہیں، جہاں چاندی نے بیشتر بڑے ایکویٹی انڈیکسز اور کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ سونا معاشی اور جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔ 2025 میں چاندی کی قیمت میں 161 فیصد اضافہ ہوا اور یہ پہلی بار 80 ڈالر فی اونس کی حد عبور کر گئی، جبکہ سونے کی قیمت میں 66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>امریکا نے 2025 میں چاندی کو باضابطہ طور پر اپنی اہم معدنیات کی فہرست میں شامل کیا، جس سے پہلے ہی قلت کا شکار اس دھات پر طلب کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔ اس اقدام سے چاندی پر ٹیرف عائد کیے جانے کے امکانات بھی بڑھ گئے۔</p>
<p>امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کی اہم معدنیات کی فہرست 2017 میں قائم کی گئی تھی، جو وفاقی حکمت عملی، سرمایہ کاری اور کان کنی کے اجازت ناموں سے متعلق فیصلوں کی رہنمائی کرتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے چین نے ان کمپنیوں کے ناموں کا اعلان کیا جنہیں 2026 اور 2027 کے دوران ٹنگسٹن، اینٹی مونی اور چاندی برآمد کرنے کی اجازت ہوگی، جنہیں بیجنگ اپنی صنعتوں کی معاونت کے لیے اہم معدنیات قرار دیتا ہے۔</p>
<p>چین کی وزارتِ تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر 44 کمپنیوں کو چاندی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ ٹنگسٹن اور اینٹی مونی کے لیے یہ تعداد بالترتیب 15 اور 11 ہوگی۔ یہ 2025 کے مقابلے میں چاندی کے لیے دو کمپنیوں کا اضافہ ہے، جبکہ ٹنگسٹن اور اینٹی مونی کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔</p>
<p>رائٹرز نے حال ہی میں تجزیہ کاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 2026 میں شرحِ سود میں متوقع کمی کے باعث قیمتی دھاتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے، تاہم زرعی اور توانائی مصنوعات کے لیے منظرنامہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی سپلائی اور کمزور طلب کسی نمایاں اضافے کے امکانات کو محدود کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281216</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 21:56:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/032140047c841bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/032140047c841bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
