<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’برآمدات کی ہنگامی صورتحال‘</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281208/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب کسی ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ کھلے عام زوال کے خطرے سے خبردار کرنے لگے تو پالیسی ساز مزید انکار یا تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کی جانب سے ’’ایکسپورٹ ایمرجنسی‘‘ کا مطالبہ محض لابنگ کا نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت کے لیے ریڈ الرٹ ہے جو پہلے ہی خود کو سنبھالنے کی جدوجہد میں ہے۔ یہ مطالبہ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اس کے اثرات زمینی سطح پر برآمدات میں کمی، مزدوروں کی برطرفیوں اور ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش کی صورت میں نمایاں ہو رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ، جو ملکی برآمدات اور صنعتی روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ پی ٹی سی نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک واضح اور بے لاگ خط میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’ایکسپورٹ ایمرجنسی‘‘ نافذ کرے تاکہ مسابقت میں تیزی سے آنے والی کمی کو روکا جا سکے جو اب برآمدات، روزگار اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتباہ نہ صرف بروقت ہے بلکہ انتہائی تشویشناک بھی۔ نومبر 2025 میں پاکستان کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 14 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جو مسلسل چوتھا مہینہ ہے۔ مالی سال 26 کے ابتدائی پانچ ماہ میں برآمدات 13.7 ارب ڈالر سے کم ہو کر 12.8 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ درآمدات 28 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ اس کے نتیجے میں محض پانچ ماہ میں تقریباً 15.5 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ سامنے آیا، جو ایک خطرناک عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ صرف نومبر میں خسارہ 2.86 ارب ڈالر رہا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار کے پیچھے ایک گہرا ساختی مسئلہ کارفرما ہے۔ پاکستان برآمدی صلاحیت یا طلب کی کمی کی وجہ سے برآمدات نہیں کھو رہا بلکہ اس لیے کہ اس کا لاگت کا ڈھانچہ عالمی سطح پر غیر مسابقتی ہو چکا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں فرق، غیر مستقل ٹیکس نظام، ریفنڈز میں تاخیر اور غیر متوقع پالیسی اشاروں نے منافع کو ناقابلِ برداشت حد تک محدود کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش، ویتنام، بھارت اور حتیٰ کہ سری لنکا جیسے مسابقتی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کم توانائی نرخوں، مستحکم ٹیکس نظام اور ہدفی برآمدی معاونت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کے برآمد کنندگان کو بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں، ویلیو چین میں ٹیکس کے غیر ہم آہنگ اطلاق اور ریفنڈ بیک لاگز میں پھنسے ورکنگ کیپیٹل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ ہے کہ ٹیکسٹائل اب بھی پاکستان کا سب سے طاقتور معاشی ہتھیار ہے۔ یہ شعبہ مجموعی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے اور براہِ راست و بالواسطہ لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ ٹیکسٹائل برآمدات میں ہر ایک فیصد کمی کے کئی گنا اثرات مرتب ہوتے ہیں،زرمبادلہ کی آمدن میں کمی، روپے کی کمزوری، مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ اور مالیاتی دباؤ میں وسعت۔ اس تناظر میں برآمدات میں سست روی محض ایک شعبہ جاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی معاشی خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ’’ایکسپورٹ ایمرجنسی‘‘ کے مطالبے کو مزید کمیٹیوں یا مشاورت کے بجائے مربوط اور مقررہ مدت میں اقدامات کے تقاضے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اول، برآمد کنندگان کے لیے توانائی کی قیمتیں علاقائی سطح پر مسابقتی اور قابلِ پیش گوئی ہونی چاہئیں۔ عارضی سبسڈیز کافی نہیں؛ پاکستان کو ایک شفاف، برآمدات سے منسلک ٹیرف فریم ورک درکار ہے جوقلیل مدتی مالی دباؤ کے زیرِ اثر نہ ہو۔ دوم، ٹیکس میں بگاڑ، خصوصاً ٹیکسٹائل ویلیو چین کے مختلف مراحل پر، ختم کیا جانا چاہیے۔ زیرو ریٹنگ کا عملی مطلب زیرو ریٹنگ ہونا چاہیے، نہ کہ مہینوں تک التوا میں پڑے ریفنڈز۔ سوم، ریفنڈ بیک لاگز کلیئر کر کے اور خودکار، ٹیکنالوجی پر مبنی ادائیگی کے نظام کے ذریعے لیکویڈیٹی بحال کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنا ہی اہم پالیسی ساکھ کا مسئلہ ہے۔ برآمد کنندگان طویل المدتی سرمایہ کاری کرتے ہیں، مشینری، مہارتوں اور منڈیوں تک رسائی میں،اور مستقل ضابطہ جاتی غیر یقینی میں کام نہیں کر سکتے۔ ڈیوٹیز، ٹیرف اور مراعات میں بار بار تبدیلیاں اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور خریداروں کو زیادہ قابلِ اعتماد سپلائرز کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ ایک بار برآمدی منڈیاں ہاتھ سے نکل جائیں تو ان کی واپسی نہایت سست اور مشکل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی حالیہ معاشی استحکام کی کوششیں، جو بڑی حد تک آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تشکیل دی گئی ہیں، طلب میں دباؤ اور مالیاتی سختی ( ٹیکس بڑھانا، اخراجات محدود کرنا، بجٹ کنٹرول ) پر مرکوز رہی ہیں۔ اگرچہ قلیل مدت میں ادائیگیوں کے توازن کے لیے یہ اقدامات ضروری ہو سکتے ہیں، مگر نمو کے بغیر استحکام، خصوصاً برآمدات پر مبنی نمو کے بغیر،ایک بند گلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 کروڑ سے زائد آبادی کی معیشت محض استحکام کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتی۔ برآمدات کوئی عیاشی نہیں بلکہ بار بار آنے والے بحرانوں سے نکلنے کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب کسی ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ کھلے عام زوال کے خطرے سے خبردار کرنے لگے تو پالیسی ساز مزید انکار یا تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کی جانب سے ’’ایکسپورٹ ایمرجنسی‘‘ کا مطالبہ محض لابنگ کا نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت کے لیے ریڈ الرٹ ہے جو پہلے ہی خود کو سنبھالنے کی جدوجہد میں ہے۔ یہ مطالبہ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اس کے اثرات زمینی سطح پر برآمدات میں کمی، مزدوروں کی برطرفیوں اور ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش کی صورت میں نمایاں ہو رہے ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ، جو ملکی برآمدات اور صنعتی روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ پی ٹی سی نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک واضح اور بے لاگ خط میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’ایکسپورٹ ایمرجنسی‘‘ نافذ کرے تاکہ مسابقت میں تیزی سے آنے والی کمی کو روکا جا سکے جو اب برآمدات، روزگار اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔</p>
<p>یہ انتباہ نہ صرف بروقت ہے بلکہ انتہائی تشویشناک بھی۔ نومبر 2025 میں پاکستان کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 14 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جو مسلسل چوتھا مہینہ ہے۔ مالی سال 26 کے ابتدائی پانچ ماہ میں برآمدات 13.7 ارب ڈالر سے کم ہو کر 12.8 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ درآمدات 28 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ اس کے نتیجے میں محض پانچ ماہ میں تقریباً 15.5 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ سامنے آیا، جو ایک خطرناک عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ صرف نومبر میں خسارہ 2.86 ارب ڈالر رہا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ان اعداد و شمار کے پیچھے ایک گہرا ساختی مسئلہ کارفرما ہے۔ پاکستان برآمدی صلاحیت یا طلب کی کمی کی وجہ سے برآمدات نہیں کھو رہا بلکہ اس لیے کہ اس کا لاگت کا ڈھانچہ عالمی سطح پر غیر مسابقتی ہو چکا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں فرق، غیر مستقل ٹیکس نظام، ریفنڈز میں تاخیر اور غیر متوقع پالیسی اشاروں نے منافع کو ناقابلِ برداشت حد تک محدود کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش، ویتنام، بھارت اور حتیٰ کہ سری لنکا جیسے مسابقتی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کم توانائی نرخوں، مستحکم ٹیکس نظام اور ہدفی برآمدی معاونت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کے برآمد کنندگان کو بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں، ویلیو چین میں ٹیکس کے غیر ہم آہنگ اطلاق اور ریفنڈ بیک لاگز میں پھنسے ورکنگ کیپیٹل کا سامنا ہے۔</p>
<p>المیہ یہ ہے کہ ٹیکسٹائل اب بھی پاکستان کا سب سے طاقتور معاشی ہتھیار ہے۔ یہ شعبہ مجموعی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے اور براہِ راست و بالواسطہ لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ ٹیکسٹائل برآمدات میں ہر ایک فیصد کمی کے کئی گنا اثرات مرتب ہوتے ہیں،زرمبادلہ کی آمدن میں کمی، روپے کی کمزوری، مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ اور مالیاتی دباؤ میں وسعت۔ اس تناظر میں برآمدات میں سست روی محض ایک شعبہ جاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی معاشی خطرہ ہے۔</p>
<p>لہٰذا ’’ایکسپورٹ ایمرجنسی‘‘ کے مطالبے کو مزید کمیٹیوں یا مشاورت کے بجائے مربوط اور مقررہ مدت میں اقدامات کے تقاضے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اول، برآمد کنندگان کے لیے توانائی کی قیمتیں علاقائی سطح پر مسابقتی اور قابلِ پیش گوئی ہونی چاہئیں۔ عارضی سبسڈیز کافی نہیں؛ پاکستان کو ایک شفاف، برآمدات سے منسلک ٹیرف فریم ورک درکار ہے جوقلیل مدتی مالی دباؤ کے زیرِ اثر نہ ہو۔ دوم، ٹیکس میں بگاڑ، خصوصاً ٹیکسٹائل ویلیو چین کے مختلف مراحل پر، ختم کیا جانا چاہیے۔ زیرو ریٹنگ کا عملی مطلب زیرو ریٹنگ ہونا چاہیے، نہ کہ مہینوں تک التوا میں پڑے ریفنڈز۔ سوم، ریفنڈ بیک لاگز کلیئر کر کے اور خودکار، ٹیکنالوجی پر مبنی ادائیگی کے نظام کے ذریعے لیکویڈیٹی بحال کی جانی چاہیے۔</p>
<p>اتنا ہی اہم پالیسی ساکھ کا مسئلہ ہے۔ برآمد کنندگان طویل المدتی سرمایہ کاری کرتے ہیں، مشینری، مہارتوں اور منڈیوں تک رسائی میں،اور مستقل ضابطہ جاتی غیر یقینی میں کام نہیں کر سکتے۔ ڈیوٹیز، ٹیرف اور مراعات میں بار بار تبدیلیاں اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور خریداروں کو زیادہ قابلِ اعتماد سپلائرز کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ ایک بار برآمدی منڈیاں ہاتھ سے نکل جائیں تو ان کی واپسی نہایت سست اور مشکل ہوتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی حالیہ معاشی استحکام کی کوششیں، جو بڑی حد تک آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تشکیل دی گئی ہیں، طلب میں دباؤ اور مالیاتی سختی ( ٹیکس بڑھانا، اخراجات محدود کرنا، بجٹ کنٹرول ) پر مرکوز رہی ہیں۔ اگرچہ قلیل مدت میں ادائیگیوں کے توازن کے لیے یہ اقدامات ضروری ہو سکتے ہیں، مگر نمو کے بغیر استحکام، خصوصاً برآمدات پر مبنی نمو کے بغیر،ایک بند گلی ہے۔</p>
<p>24 کروڑ سے زائد آبادی کی معیشت محض استحکام کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتی۔ برآمدات کوئی عیاشی نہیں بلکہ بار بار آنے والے بحرانوں سے نکلنے کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281208</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 16:56:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/031613270f04a76.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/031613270f04a76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
