<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے-الیکٹرک کا صنعتی شعبے کے لیے 140 میگاواٹ بجلی کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281207/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کےالیکٹرک نے سال 2025 کے دوران 339 نئے صنعتی کنکشنز کے ذریعے تقریباً 140 میگاواٹ کا منظور شدہ لوڈ  شامل کیا کیونکہ پاکستان آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے دوران معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےالیکٹرک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان کنکشنز نے مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، ایف ایم سی جی (روزمرہ استعمال کی اشیاء)، بندرگاہوں اور برآمدی صنعتوں سمیت دیگر شعبوں کو فعال بنایا جس سے پاکستان کے معاشی انجن کے طور پر کراچی کے کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں کی مہنگائی اور بجلی کے بھاری ٹیرف نے پاکستان کے معاشی انجنوں کی رفتار کو روک دیا تھا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سال 2025 کے دوران مہنگائی میں کمی اور شرحِ سود میں ٹھہراؤ آنے سے معیشت میں کچھ استحکام واپس آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس’ اپنی بلند ترین سطح  کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جب کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی معیشت نے 3.71 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔ یہ گزشتہ برس اسی مدت میں ریکارڈ کی گئی 1.56 فیصد شرحِ نمو کے مقابلے میں ایک بڑا اضافہ ہے۔ سالانہ بنیاد پر اس سہ ماہی ترقی کی بنیادی وجہ 9 فیصد کا اضافہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کےالیکٹرک نے سال 2025 کے دوران 339 نئے صنعتی کنکشنز کے ذریعے تقریباً 140 میگاواٹ کا منظور شدہ لوڈ  شامل کیا کیونکہ پاکستان آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے دوران معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔</strong></p>
<p>کےالیکٹرک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان کنکشنز نے مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، ایف ایم سی جی (روزمرہ استعمال کی اشیاء)، بندرگاہوں اور برآمدی صنعتوں سمیت دیگر شعبوں کو فعال بنایا جس سے پاکستان کے معاشی انجن کے طور پر کراچی کے کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔</p>
<p>برسوں کی مہنگائی اور بجلی کے بھاری ٹیرف نے پاکستان کے معاشی انجنوں کی رفتار کو روک دیا تھا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سال 2025 کے دوران مہنگائی میں کمی اور شرحِ سود میں ٹھہراؤ آنے سے معیشت میں کچھ استحکام واپس آیا ہے۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس’ اپنی بلند ترین سطح  کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جب کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی معیشت نے 3.71 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔ یہ گزشتہ برس اسی مدت میں ریکارڈ کی گئی 1.56 فیصد شرحِ نمو کے مقابلے میں ایک بڑا اضافہ ہے۔ سالانہ بنیاد پر اس سہ ماہی ترقی کی بنیادی وجہ 9 فیصد کا اضافہ رہا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281207</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 15:28:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/03152536d61746b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/03152536d61746b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
